قومی خبریں

گوالیار عدالت میں وردی پہن کر پہنچنے والے ایس ایچ او کی سرزنش، جج نے شام تک کٹہرے میں کھڑا رکھا

ضبط شدہ دیسی پستول کے گمشدہ ہونے کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالتی حکم نظر انداز کرنے پر عدالت نے سخت برہمی

گوالیار، 6 اگست (اردو دنیا نیوز)مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں ایک غیر معمولی عدالتی کارروائی اس وقت سامنے آئی جب ایک اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) عدالتی ہدایات کے برعکس پولیس کی وردی پہن کر عدالت پہنچ گیا۔ عدالت نے اس عمل کو حکم عدولی قرار دیتے ہوئے پہلے افسر کو شہری لباس پہن کر دوبارہ حاضر ہونے کی ہدایت دی اور بعد ازاں شام تک اسے کٹہرے میں کھڑا رہنے کا حکم دیا۔

خصوصی جج سنیل ڈنڈوٹیا کی عدالت نے یونیورسٹی پولیس اسٹیشن کے انچارج رویندر کمار کو ایک مقدمے میں ذاتی طور پر طلب کیا تھا۔ عدالتی حکم میں واضح طور پر درج تھا کہ وہ بغیر پولیس وردی کے عدالت میں حاضر ہوں، تاہم وہ مقررہ وقت پر وردی میں ہی عدالت پہنچ گئے، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

جج نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب عدالتی حکم واضح تھا تو اس پر من و عن عمل ہونا چاہیے تھا۔ عدالت نے افسر کو فوری طور پر واپس جا کر سویلین لباس پہننے اور دوبارہ حاضر ہونے کی ہدایت دی۔

بعد ازاں رویندر کمار عام لباس میں عدالت واپس آئے، جہاں انہیں شام تک کٹہرے میں کھڑا رہنے کا حکم دیا گیا۔ دورانِ سماعت وہ مسلسل عدالت میں موجود رہے اور اپنی وضاحت پیش کرتے رہے۔

یہ معاملہ ایک ضبط شدہ دیسی ساختہ پستول کے غائب ہونے سے متعلق ہے، جسے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جانا تھا۔ پولیس مطلوبہ اسلحہ عدالت کے سامنے پیش نہ کر سکی، جس کے بعد عدالت نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔

ایس ایچ او نے عدالت کے روبرو معذرت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ضبط شدہ اسلحہ کی گمشدگی ایک ایسے پولیس اہلکار کے دور میں ہوئی جو اب ریٹائر ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ریکارڈ میں اسلحہ درج ہونے کے باوجود وہ پولیس اسٹور میں موجود نہیں تھا۔

عدالت نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ پورے معاملے کی 15 دن کے اندر مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی اہلکار کی غفلت یا ذمہ داری ثابت ہو تو اس کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کی جائے۔

عدالت نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ضبط شدہ ثبوت کے غائب ہونے جیسے سنگین معاملے میں نہ تو بروقت تحقیقات کی گئیں اور نہ ہی ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات اور سرکاری ریکارڈ سے متعلق کسی بھی قسم کی غفلت ناقابل قبول ہے اور ایسے معاملات میں سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button