قومی خبریں

مدھیہ پردیش: بچوں کا جان جوکھم میں ڈال کر ڈیم عبور کر کے اسکول جانا، ہائی کورٹ کا سخت نوٹس

ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی، کلکٹر نے معائنہ کیا

ودیشا، 6 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشا میں بچوں کے روزانہ جان خطرے میں ڈال کر ڈیم عبور کرتے ہوئے اسکول جانے کے معاملے نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، جس کے بعد انتظامیہ فوری طور پر متحرک ہو گئی۔

ہائی کورٹ کی ہدایت پر ضلع کلکٹر پالوہ گاؤں پہنچے اور موقع کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ان طلبہ سے ملاقات کی جو روزانہ دریائے بیتوا پر قائم اسٹاپ ڈیم کے ٹوٹے ہوئے حصے سے گزر کر اسکول پہنچتے ہیں۔ کلکٹر نے گاؤں کے مکینوں سے بھی گفتگو کی اور صورتحال کی مکمل معلومات حاصل کیں۔ انتظامیہ اب اپنی رپورٹ تیار کر رہی ہے، جسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق کاکروا گاؤں میں صرف آٹھویں جماعت تک تعلیم کی سہولت موجود ہے، جبکہ اس کے بعد طلبہ کو مزید تعلیم کے لیے پالوہ ہائی اسکول جانا پڑتا ہے۔ اگر وہ مرکزی سڑک استعمال کریں تو تقریباً پانچ کلومیٹر اضافی سفر کرنا پڑتا ہے، اسی لیے کئی بچے وقت اور فاصلے کی بچت کے لیے اسٹاپ ڈیم کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

اس ڈیم کا ایک حصہ ٹوٹا ہوا ہے، جہاں تقریباً چار فٹ چوڑا خلا موجود ہے۔ طلبہ اسی خطرناک مقام سے گزر کر دوسری جانب پہنچتے ہیں۔ برسات کے موسم میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے سے یہ راستہ مزید جان لیوا بن جاتا ہے، تاہم اس کے باوجود بعض بچے روزانہ اسی راستے سے اسکول جانے پر مجبور ہیں۔

ہائی کورٹ کے نوٹس کے بعد اس معاملے پر ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی شروع کر دی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بچوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے جلد کوئی مستقل انتظام کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button