قومی خبریں

عتیق احمد کے بیٹے محمد عمر کی ضمانت کی عرضی خارج، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

محمد مسلم کی شکایت پر درج ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی مبینہ رنگداری مقدمے میں عدالت کا فیصلہ

پریاگ راج:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے بیٹے محمد عمر کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ محمد عمر کے خلاف یہ مقدمہ عتیق احمد کے مبینہ فنانسر اور بلڈر محمد مسلم کی شکایت پر درج کیا گیا تھا، جس میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی مبینہ رنگداری، مارپیٹ اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

جسٹس اونیش سکسینہ کی سنگل بنچ نے پیر کو معاملے کی سماعت کے بعد محمد عمر کی ضمانت عرضی خارج کر دی۔ اس کیس میں 26 اپریل 2023 کو خلدآباد تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ مقدمے میں علی احمد، محمد عمر، اسد کالیا، احتشام کریم، اجے اور محمد نصرت کو نامزد کیا گیا تھا۔

محمد عمر اس وقت لکھنؤ جیل میں قید ہے۔ اس کے خلاف پہلے سے بھی متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں 2018 کا دیوریا جیل کیس بھی شامل ہے۔ اس معاملے میں ایک کاروباری شخص کے مبینہ اغوا، مارپیٹ اور جبراً وصولی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ضمانت مسترد ہونے سے چند ہفتے قبل 7 اگست کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے محمد عمر اور اس کے بھائی علی احمد کو مختصر مدت کے لیے پیرول دی تھی۔ دونوں کو اپنے چھوٹے بھائی ابان کے جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔

عدالت نے پیرول کے دوران دونوں کو سخت ہدایات پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا، جن میں میڈیا سے دور رہنا بھی شامل تھا۔ ابان کی موت سڑک حادثے میں ہوئی تھی۔ عدالت کی اجازت کے بعد محمد عمر اور علی احمد جنازے میں شریک ہوئے، جہاں دونوں بھائی ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے ہوئے بھی دکھائی دیے تھے۔

 اس سے قبل محمد عمر اور علی احمد نے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ ان کے مقدمے کی ٹرائل کارروائی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کرائی جائے۔ دونوں نے جیل میں اپنی سکیورٹی کو لاحق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے یہ درخواست کی تھی۔

محمد عمر کا نام 2023 کے امیش پال قتل کیس میں بھی سامنے آیا تھا۔ پولیس کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں اسے امیش پال کے دن دہاڑے قتل کی مبینہ سازش میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں شامل کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button