
سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر کیس: 22 ملزمان کی بریت کو سپریم کورٹ میں چیلنج
210 گواہوں میں سے 92 اپنے بیانات سے منحرف
ممبئی، 24 اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثر بی اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی کی مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے معاملے میں 22 ملزمان کی بریت کے خلاف اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔ سہراب الدین شیخ کے چھوٹے بھائی نایاب الدین شیخ نے بامبے ہائی کورٹ کے 7 مئی 2026 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
نایاب الدین شیخ کی جانب سے دائر درخواست میں بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں عدالت نے دسمبر 2018 کے ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے تمام 22 ملزمان کی بریت کے خلاف اپیلیں مسترد کردی تھیں۔ سپریم کورٹ میں یہ درخواست 13 اگست 2026 کو دائر کی گئی اور اس کا ڈائری نمبر 49466/2026 بتایا گیا ہے۔
اس معاملے میں بری کیے گئے 22 ملزمان میں 21 پولیس اہلکار شامل ہیں، جن کا تعلق گجرات، راجستھان اور آندھرا پردیش سے بتایا گیا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندرشیکھر اور جسٹس گوتم اے انکھڈ کی دو رکنی بنچ نے 7 مئی 2026 کو سہراب الدین کے بھائیوں روباب الدین اور نایاب الدین کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کردی تھیں۔
استغاثہ کے مطابق 2005 میں سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثر بی اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی کو حیدرآباد سے مہاراشٹر جانے والی ایک بس سے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔
سہراب الدین کو بعد میں احمد آباد کے قریب ایک مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا، جبکہ کوثر بی کی تین دن بعد موت ہوگئی۔ تلسی رام پرجاپتی کو 2006 میں گجرات-راجستھان سرحد کے قریب ایک اور مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا۔ بعد میں دونوں معاملات کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے مشترکہ طور پر چلایا گیا۔
گجرات پولیس کی سی آئی ڈی کی تحقیقات پر اعتراض کے بعد سہراب الدین کے بھائی روباب الدین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے جنوری 2010 میں مزید تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں سہراب الدین اور تلسی رام پرجاپتی سے متعلق مقدمے کی سماعت بھی گجرات سے ممبئی منتقل کردی گئی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مجموعی طور پر 210 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرائے، جن میں سے 92 گواہ اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے۔ دسمبر 2018 میں ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے تمام 22 ملزمان کو بری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ استغاثہ قتل کی سازش اور دیگر الزامات کو قابلِ اعتماد شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
7 مئی 2026 کو بامبے ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے بریت برقرار رکھی۔ عدالت کے مطابق استغاثہ کا مقدمہ بنیادی طور پر حالاتی شواہد پر مبنی تھا، لیکن واقعات کے سلسلے میں کئی اہم کڑیاں موجود نہیں تھیں۔
عدالت نے کہا کہ استغاثہ یہ ثابت نہیں کرسکا کہ سہراب الدین اور کوثر بی کو پولیس نے اغوا کیا تھا یا مبینہ فرضی انکاؤنٹر کے پیچھے کوئی مقصد موجود تھا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ بڑی تعداد میں گواہوں کے منحرف ہونے سے محض یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ٹرائل منصفانہ انداز میں نہیں ہوا۔
ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ مبینہ انکاؤنٹر کے پیچھے کسی سیاسی اور پولیس گٹھ جوڑ کو ثابت کرنے کے لیے بھی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔



