بین ریاستی خبریں

کمبھ کے فنڈز کا صرف 0.1 فیصد بھی 125 مراٹھی اسکولوں کو بند ہونے سے بچا سکتا تھا: سپریم کورٹ جسٹس

صرف 32 کروڑ روپے سے بچ سکتے تھے 100 سے 125 اسکول

مہاراشٹر/دھولے: (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ کے جسٹس پرسنّا بی ورالے نے مہاراشٹر میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں کمی اور سرکاری مراٹھی میڈیم اسکولوں کے بند ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمبھ میلے کے لیے مختص رقم کا صرف 0.1 فیصد بھی تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو ریاست کے 100 سے 125 مراٹھی میڈیم اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

جسٹس پرسنّا بی ورالے نے یہ بات مہاراشٹر کے دھولے ضلع میں ایک ہائی اسکول میں اسمارٹ کلاسز کے افتتاح کے موقع پر کہی۔ یہ اسکول ان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی کے ابتدائی برسوں میں یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔

جسٹس ورالے نے ریاست میں مختلف بڑے ترقیاتی منصوبوں اور تعلیم کے لیے دستیاب بجٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے نویسک کمبھ میلے کے لیے 32 ہزار کروڑ سے 34 ہزار کروڑ روپے تک کے بجٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک کوریڈور منصوبے کے لیے تقریباً 11 ہزار کروڑ روپے مختص کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہیں حکومت کی جانب سے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ان بڑی رقموں کا ایک معمولی حصہ بھی بنیادی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے تو ریاست کے سرکاری اسکولوں کی صورت حال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

جسٹس ورالے نے کہا کہ اگر ان ہزاروں کروڑ روپے میں سے صرف 0.1 فیصد، یعنی تقریباً 32 کروڑ روپے تعلیم کے لیے خرچ کیے جاتے تو ریاست بھر میں بند ہوچکے 100 سے 125 مراٹھی میڈیم اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

انہوں نے اس معاملے کو صرف اسکولوں کے بند ہونے تک محدود نہیں رکھا بلکہ تعلیم کے لیے مجموعی سرکاری اخراجات میں کمی پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا بلکہ اس کا حصہ کئی برسوں سے 13 فیصد تک بھی نہیں پہنچ سکا۔

جسٹس پرسنّا بی ورالے نے اپنی تعلیمی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دسویں جماعت تک میونسپل اور ضلع پریشد کے مراٹھی میڈیم اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ مراٹھی زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے ان کے کیریئر میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں آئی بلکہ علاقائی زبان میں تعلیم نے ان کے نقطۂ نظر کو مزید وسیع کیا۔

جسٹس ورالے نے کہا کہ مراٹھی زبان نے انہیں دوسروں کے تئیں وسیع النظر سوچ اور بھائی چارے کی قدر و قیمت سمجھنے میں مدد دی۔ ان کے مطابق زبان محض تعلیم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ طلبہ کی فکری اور سماجی تربیت کا بھی اہم حصہ ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس نے دیہی اور رہائشی اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ایک حالیہ آشرم اسکول کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مناسب سہولتیں نہ ہونے کے باعث تین طالبات کو فرش پر سونا پڑا اور بعد میں سانپ کے کاٹنے سے ان کی موت ہوگئی، جبکہ ایک دوسری طالبہ زیر علاج رہی۔

جسٹس ورالے نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسکولوں میں صرف عمارت یا کلاس روم ہی کافی نہیں بلکہ بچوں کے لیے محفوظ رہائش، بنیادی سہولتیں اور مناسب انفراسٹرکچر بھی ضروری ہے۔

جسٹس ورالے نے کہا کہ بچے ملک کا مستقبل ہیں اور اسکولوں میں بچوں کو ضروری سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بنیادی تعلیم اور صحت کو شہریوں کے بنیادی حقوق سے جوڑتے ہوئے تعلیمی انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے طلبہ کو صرف نصابی کتابوں تک محدود نہ رہنے اور باقاعدگی سے کتابیں پڑھنے کی عادت اپنانے کی بھی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو تاریخ، معاشرے اور ان شخصیات کے بارے میں بھی پڑھنا چاہیے جنہوں نے دنیا میں اہم تبدیلیاں پیدا کیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button