بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

امراوتی: سرکاری اسپتال کے NICU میں آگ، وینٹی لیٹر دھماکے سے 3 نومولود جاں بحق

تین نومولود جاں بحق، چھ اسپتال منتقل،وزیراعلیٰ نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا

امراوتی،24 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیز)مہاراشٹر کے امراوتی ضلع خواتین اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (NICU/SNCU) میں پیر کی علی الصبح خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں تین نومولود بچوں کی موت ہوگئی۔ آگ تقریباً 3:30 بجے اسپتال کی تیسری منزل پر واقع NICU میں لگی۔ رپورٹس کے مطابق آگ ایک وینٹی لیٹر میں دھماکے کے بعد بھڑکی، تاہم دھماکے اور آگ لگنے کی حتمی وجہ ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔

حادثے کے وقت اسپیشل نیوبورن کیئر یونٹ میں مجموعی طور پر 39 نومولود بچے زیر علاج تھے۔ امراوتی کے پولیس کمشنر راکیش اولا کے مطابق آگ NICU کے آؤٹ بورن بچوں والے حصے میں لگی، جہاں اس وقت 9 بچے موجود تھے۔ ان میں سے تین بچوں کی جان نہیں بچائی جاسکی، جبکہ باقی چھ بچوں کو فوری طور پر نکال کر سپر اسپیشلٹی اسپتال منتقل کیا گیا۔

آگ بھڑکتے ہی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر اسپتال ملازمین نے فوری کارروائی شروع کردی۔ عملے نے طبی آلات کو منقطع کیا اور بچوں کو متاثرہ حصے سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

حکام کے مطابق NICU کے تین حصے تھے۔ ایک حصے میں اسپتال میں پیدا ہونے والے بچے، دوسرے میں دوسرے اسپتالوں سے لائے گئے نومولود اور تیسرے حصے میں ایسے بچوں کو رکھا جاتا تھا جنہیں جلد ڈسچارج کیا جانا تھا۔ آگ دوسرے حصے میں لگی، جہاں نومولود بچے زیرِ علاج تھے۔

متاثرہ حصے میں موجود نو بچوں میں سے تین کی موت ہوگئی، جبکہ چھ کو مزید علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔ دیگر بچوں کو بھی عملے نے بحفاظت نکال لیا، جس کے باعث مجموعی طور پر 36 نومولود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

آگ اور دھوئیں کے باعث تین نومولود شدید متاثر ہوئے اور ان کی موت ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچوں کو جھلسنے کے ساتھ دھواں سانس میں جانے سے بھی نقصان پہنچا۔

متاثرہ چھ بچوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی سپر اسپیشلٹی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کی حالت اور علاج سے متعلق مزید تفصیلات حکام کی جانب سے فراہم کی جارہی ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکام آگ لگنے کی اصل وجہ، وینٹی لیٹر میں پیش آنے والی خرابی اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واقعے کے بعد اسپتال میں فائر سیفٹی اور برقی نظام کی جانچ پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وینٹی لیٹر میں خرابی کس وجہ سے پیدا ہوئی، آگ کس طرح پھیلی اور ہنگامی حفاظتی نظام نے کس حد تک کام کیا۔

اس مرحلے پر وینٹی لیٹر دھماکے کو آگ لگنے کی حتمی وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ حکام نے مکمل تکنیکی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

واقعے کے بعد اپوزیشن نے ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، برقی نظام اور طبی آلات کے جامع آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ این سی پی (ایس پی) کے رہنما انیل دیشمکھ نے اسپتالوں کے فائر اور الیکٹریکل سیفٹی آڈٹ پر زور دیا۔

کانگریس لیڈر یشومتی ٹھاکر نے بھی امراوتی حادثے پر حکومت اور اسپتال انتظامیہ سے جواب طلب کرتے ہوئے حفاظتی انتظامات کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتہائی حساس شعبوں، خصوصاً NICU اور ICU میں حفاظتی نظام میں کسی بھی قسم کی خامی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

امراوتی حادثے سے صرف دو روز قبل مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع اسپتال کے NICU میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ 22 اگست کو پیش آنے والے اس حادثے میں ایک وارمر مشین میں آگ لگنے سے تین نومولود متاثر ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق وارمر کے ہیٹنگ یونٹ کے فلامنٹ میں چنگاری کے بعد آگ لگی۔ اس وقت NICU میں مجموعی طور پر 33 بچے موجود تھے، جن میں سے 30 بچوں کو اسپتال کے عملے اور سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔ تین متاثرہ بچوں کو علاج کے لیے جبل پور منتقل کیا گیا، جہاں ایک نومولود کی موت ہوگئی جبکہ دو دیگر کا علاج جاری رہا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button