
افادات زکیہ- علماء کرام کا ادب، مدینہ منورہ کی حرمت اور اہل اللہ کی کرامات کے سبق آموز واقعات
علماء و مشائخ کے ادب، مدینہ منورہ کی حرمت، دوسروں پر فضیلت سے گریز اور اہل اللہ کی روحانی کرامات سے متعلق سبق آموز واقعات
علماء کرام کا ادب کرنا چاہیے
امام اعظم ابوحنیفہؒ کا واقعہ لکھا ہے کہ: انہوں نے نماز میں کوئی کپڑا بچھا لیا تھا۔ ایک شخص نے دیکھ کر کہا کہ اے شیخ ایسا نہ کیجئے، یہ مکروہ ہے۔
امام صاحب نے پوچھا، تمہارا مکان کہاں ہے؟ اس نے کہا، خوارزم۔ امام صاحب نے فرمایا، اللہ اکبر! اب تکبیر کی آواز پیچھے سے آنے لگی، یعنی صف اخیر سے۔ امام صاحب کا مطلب یہ تھا کہ یہ معاملہ برعکس کیسا۔ خوارزم تو علم یہاں سے جاتا ہے، نہ کہ خوارزم سے یہاں علم آوے۔
اس کے بعد اس کو مسئلہ سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمہاری مسجد میں بوریا بچھا ہے؟ اس نے کہا، ہاں۔ فرمایا کہ پھر یہ خوب بات ہے کہ گھاس پھونس پر تو نماز ہو جائے اور کپڑے پر جائز نہ ہو۔ امام صاحب نے اس کو تنبیہ فرمائی کہ علماء کا ادب کرنا چاہئے۔
چنانچہ علماء اور مشائخ کا جو ادب کیا جاتا ہے وہ دین ہی کی وجہ سے کیا جاتا ہے، اس لئے کہ وہ عین دین ہے۔ جتنا کوئی کسی کا ادب کرے گا، اتنا ہی اس کو فائدہ ہوگا اور ادب تابع ہے اعتقاد کے۔ جس قدر کسی کا اعتقاد ہوگا، انسان اتنا ہی اس کا ادب کرے گا۔
دین کی عظمت کی قلت
آج علما اور مشائخ کا ادب جو قلب میں باقی نہیں ہے تو اسی لئے کہ خود دین ہی کی عظمت دل میں نہیں ہے، اس لئے اہل دین کی بھی نہیں ہے۔ اور بزرگوں کا ادب جو نہیں رہا تو اس لئے کہ ان کی معرفت نہیں ہوتی اور لوگ جس کو کچھ سمجھ لیتے ہیں، اس سے بہت ڈرتے ہیں۔
ایک دفعہ وطن میں لوگوں نے آخر مجھ سے ایک شخص کی شکایت کی۔ یہ نوجوان نیک لوگوں کی ہجو بہت کیا کرتا ہے۔ یہ لوگ میرے پاس آمد ورفت رکھتے تھے۔ میں نے ان شکایت کرنے والوں سے تو کہا کہ صبر کرو۔ بہت دنوں تک صبر ہی کی تلقین کرتا رہا۔ بالآخر میں نے اس کے پاس کہلا بھیجا کہ مجھے تمہاری یہ بات پہنچ گئی ہے، اچھی بات ہے، ہمارا تمہارا یہاں سے لے کر آخرت تک کا مقابلہ ہے۔
لوگوں نے جا کر اس سے کہہ دیا اور مجھے بتایا کہ سر سے پاؤں تک ہل گیا، ڈر گیا اور ایک شخص کے پاس گیا جو میرے آدمی تھے اور کہا کہ لوگوں نے میری شکایت کردی ہے اور انہوں نے ایسا ایسا کہلایا ہے، لہٰذا چلو میری معافی کرا دو اور نااتفاقی کو دور کرلیا جائے۔
پھر یہ کہا کہ معافی کیلئے پیدل جانا چاہئے۔ چنانچہ آیا، مجھے معلوم ہوا تو میں نے کچھ کہا نہیں۔ لوگوں سے کہتا تھا کہ دو دن، چار دن، دس دن، بیس دن، جب تک معاف نہ کریں گے جاؤں گا نہیں۔
اس سے میں نے سمجھا کہ خلوص سے آیا ہے۔ اور پھر میرے پاس اوپر ملنے آیا اور کہا کہ میں ہی تنہا نہیں ہوں، بہت سے لوگ ہجو کرتے ہیں۔ میں نے نرمی سے کہا کہ ٹھیک کہتے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے لوگ اس زمانہ میں بہت ہیں۔
دنیا کے نقصان سے گھبراتے ہیں
یہ میں آپ کو ابنائے زمانہ کے حالات اور اصلاح کا طریقہ بتلا رہا ہوں اور یہ سمجھا رہا ہوں کہ اس زمانہ میں لوگوں کی اصلاح کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر اس کا ارادہ کرو گے اور اس میں قدم رکھو گے تو مشکل میں پڑ جاؤ گے۔ بڑی بڑی مخالفتیں آئی گئیں، چنانچہ وہ لڑکا شرمندہ ہوا اور نیک بن گیا۔
اس کے والد کو معلوم ہوا تو ان کو بھی خوشی ہوئی اور جب یاد آتا تو اپنے لڑکے سے کہتے کہ اتنے دن ہو گئے مولانا صاحب کے یہاں نہیں گئے۔ اور پھر اس کے بعد اس کے والد صاحب میرے پاس آئے اور مصافحہ کیا تو دیر تک ہاتھ پکڑے رہے۔ میں نے سمجھ لیا کہ یہ مصافحہ مودعت کا نہیں بلکہ مصافحہ محبت اور ندامت کا ہے۔
یعنی اب انہیں پچھلی باتوں کا احساس ہوا۔ پھر تو اس کے بعد اپنے لڑکے کے ایسے معتقد ہوئے کہ جب کارخانہ وغیرہ کا افتتاح کرنا ہوتا تو کہتے کہ ہم کسی دوسرے کو کیوں بلائیں، خود ہمارا لڑکا ہی ولی ہے، اسی سے کیوں نہ کرائیں۔
یہ واقعہ میں نے اس پر سنایا کہ دین سے لوگوں کو نفرت نہیں ہے۔ دین بھلا کیا نقصان پہنچاتا ہے؟ اس سے تو فائدہ ہی پہنچتا ہے۔ ہم دنیا ہی نہیں چھوڑنا چاہتے۔
اپنے کو دوسروں پر فضیلت نہ دو
فرمایا کہ: لاَ تُفَضِّلُوْنِیْ عَلٰی یُوْنُسَ اِبْنِ مُتٰی اَوْ کَمَا قَالَ: یعنی مجھ کو یونس ابن متیؑ پر فضیلت مت دو۔
اس حدیث میں جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی تفضیل کو نبی پر منع فرمایا، پس حضور ﷺ نے جس معنی کر بھی یہ ممانعت فرمائی۔ امتی کو تو چاہے وہ خاصی ہو یا عامی، اپنی تفضیل دوسروں پر بدرجۂ اولیٰ منع ہوگی، کیونکہ آپ کی فضیلت تو نص قطعی سے ثابت ہے۔ اس کے باوجود جب آپ نے صحابہ کرامؓ کو منع فرمایا تو مشائخ اور اولیائے کرام تو حضور ﷺ کے تابع اور پسرو ہیں اور ولایت نبوت کی فرع ہے۔ لہٰذا ان کو چاہئے کہ اپنی تفضیل دوسروں پر ہرگز نہ کریں کہ یہی اتباع سنت ہے اور کسی کو کیا معلوم کہ کس شخص کا اللہ کے یہاں کیا مرتبہ ہے؟
فرمایا کہ دو آدمی تھے۔ ان میں ایک صاحب قادریہ سلسلہ کے تھے۔ وہ سلسلۂ قادریہ کو ترجیح دیتے تھے۔ بالآخر حضرت حاجی صاحب کے یہاں گئے اور ان سے ان کی رائے دریافت فرمائی اور خود اپنی تائید میں حضرت پیران پیرؒ کا ارشاد: قَدَمِیْ ہٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃٍ کُلِّ وَلِیٍّ (یعنی میرا قدم سب اولیاءؒ کی گردن پر ہے) پیش کیا۔
تو حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ اس سے تو ان کی افضلیت نہیں ثابت ہوتی، کیونکہ صوفیاء کا متفقہ کلیہ ہے کہ نزول عروج سے افضل ہے۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ حضرت غوث اعظمؒ اس وقت عروج میں رہے ہوں اور دوسرے حضرات نزول میں۔
اہل اللہ کی دولتِ باطنی کے اثرات
حکیم اجمیری صاحب نے قبل مجلس عرض کیا کہ حضرت کی خدمت میں حاضری کا سب سے بڑا نفع جو مجھے ہوتا ہے وہ یہ کہ جب تک یہاں رہتا ہوں اپنے قلب میں الحمد للہ ایک سکون اور اطمینان پاتا ہوں اور اگر دوسری ذمہ داریاں اپنے سر نہ ہوتیں تو بس دل تو یہی چاہتا ہے کہ یہیں پڑا رہوں۔ اور ہمارے بھائی محمد احمد صاحب کی تو پیشین گوئی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تو الہٰ آباد مستقل جا پڑے گا۔
حیات طیبہ دولت باطنی ہی کا نام ہے
فرمایا: میں کہتا ہوں کہ حیاتِ طیبہ وہی باطنی دولت ہے جو ظاہری سلطنت سے بھی بڑھ کر ہے، جس کے متعلق آپ نے سنا کہ اگر سلاطین کو خبر ہوجائے تو اس کے حاملین پر فوج کشی کریں۔
بزرگوں کے بے شمار واقعات اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کی برکت سے اس دنیا میں بھی ان کو بڑے بڑے کمالات سے نوازا ہے۔
نیک عورتوں کی کرامتیں
ایک عورت سے کہا گیا کہ تیرا لڑکا تالاب میں ڈوب گیا ہے۔ یہ سن کر وہ تالاب کے کنارے گئی اور لڑکے کا نام لے کر اس کو پکارا کہ فلانے۔ لڑکے نے اندر سے جواب دیا، جی اماں۔ کہا، آ جاؤ۔ بس فوراً وہ باہر نکل آیا۔
اس کا نام خرق عادت ہے۔ اولیاء اللہ کو یہ چیز بھی حاصل ہوتی ہے۔ لوگوں نے اس عورت سے پوچھا کہ تجھے کیسے معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جو بات ہونے والی ہوتی ہے تو پہلے سے مجھے اس کی اطلاع فرمادیتے ہیں، مگر اس کی مجھے کوئی اطلاع نہیں فرمائی گئی تو اس سے میں نے سمجھا کہ میرا لڑکا زندہ ہے، کیونکہ وہ اپنے معاملہ کے خلاف نہیں کیا کرتے، ہم سے کچھ خلاف واقع ہوجائے تو ہوجائے۔
اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی اسی ایک کرامت کو ظاہر کرنے کے لئے ایسی صورت پیدا فرمادی تاکہ لوگ اس سے سوال کریں اور اس کی یہ کرامت ظاہر ہو۔ دیکھا آپ نے، کبھی ایسی ایسی باکرامت مسلمان عورتیں ہوا کرتی تھیں۔
مدینہ منورہ کا ادب
ایک بزرگ مدینہ شریف جارہے تھے۔ راستے میں کسی بدو کے لڑکے کو ایک طمانچہ مار دیا۔ اس کے بعد سے انہیں رسول اللہ ﷺ کی جو روزانہ زیارت ہوا کرتی تھی، وہ بند ہوگئی۔ ایسے لوگ اصحابِ حضور کہلاتے ہیں۔ ایک مقام حاصل تھا، سلب ہوگیا۔
ظاہر ہے کہ مدینہ شریف کا سفر کررہے تھے۔ دیارِ حبیب میں رہنے بسنے والوں کا بھی ادب ہوتا ہے۔ بالفرض اگر اس لڑکے سے کچھ قصور ہی ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے صبر کرلیتے، لیکن انہوں نے اس کو مار دیا۔ یہ حرکت ناپسند ہوئی، دولت سلب ہوگئی۔ پھر ہر چند اس لڑکے سے معافی مانگی، اسے روپئے پیسے دیے، اس کے والدین کو خوش کیا، مگر زیارت نہ کھلی۔
مدینہ شریف کے علماء اور مشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے مدد اور سفارش چاہی، مگر سب نے یہی جواب دیا کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ اور کہا کہ وہ عورت جو بیٹھی دکھائی دے رہی ہے، وہ اس کام کو کرسکتی ہے۔
اس کے پاس گئے اور صورتِ حال بیان کی۔ اس نے روضۂ اقدس کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’شُفْ‘‘ یعنی دیکھو۔ دیکھا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں۔ ’’سبحان اللہ‘‘ بیداری میں زیارت ہوگئی، یا تو خواب میں ہوا کرتی تھی یا اس عورت کی کرامت سے ان ظاہری آنکھوں سے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا۔
لوگ آپ لوگوں کو عملی باتیں نہیں بتاتے، ورنہ آپ کے سامنے اگر عمل پر ابھارنے والے واقعات اور مضامین بیان کریں تو آپ کی قوتِ عملیہ کو بھی حرکت ہو اور بزرگوں کے حالات پر بھی عبور ہو۔ مگر بیان کرنے کے لئے پہلے خود عامل ہونا پڑے گا اور عامل ہونے سے پہلے علم حاصل ہونا ضروری ہے اور یہ مشکل مسئلہ ہے۔
یہ واقعہ بھی ایک عورت ہی کا ہے۔ یہ اس پر سنا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے صالحین بندوں کو اس دنیا میں بھی نوازتے ہیں اور اس میں مرد کی بھی تخصیص نہیں ہے۔ جس طرح سے مردوں نے مراتب پائے، عورتوں نے بھی پائے ہیں۔
شیر پر سواری
میں گورکھپور میں تھا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ یہاں جنگل میں ایک شیر رہتا تھا۔ ایک بزرگ یہاں تھے۔ جب ان کو کہیں جانا ہوتا تو اس کے پاس آتے، اس کے کان پکڑتے، وہ کھڑا ہوجاتا۔ پس اس پر سوار ہوکر جہاں جانا ہوتا جاتے۔ پھر واپس ہو کر اسی جگہ اسے چھوڑ دیتے۔ وہ وہیں رہتا تھا، نہ کسی کو ایذا پہنچاتا تھا، نہ کہیں جاتا تھا۔
سبحان اللہ، کیسا عجیب واقعہ ہے۔
بغیر آگ کے کھانا پکتا
شاہی خاندان کے ایک صاحب کو وظیفہ ملتا تھا۔ مہینہ پر جاکر لے آتے۔ ایک طرف تو ان کا یہ معاملہ تھا، مگر گھر پر یہ کرتے کہ ایک ہانڈی میں دال، چاول اور پانی ڈال کر چولھے پر چڑھا دیتے۔ آگ واگ کچھ نہ ہوتی، بس ہانڈی کے منہ کے پاس بیٹھ کر کہتے: ’’پک پک‘‘۔ دو تین بار اسی طرح کہتے اور کھانا پک کر تیار ہوجاتا۔
ایک بزرگ شیر پر سوار ہوکر ایک صاحب کے پاس آئے۔ وہ کسی دیوار پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے اس کو حکم دیا کہ تو بھی چل۔ دیوار چلنے لگی۔ تب ان آنے والے بزرگ نے سمجھا کہ یہ تو مرتبہ میں مجھ سے بھی بڑے ہیں۔
شیر کو ڈانٹا
ایک صاحب کسی بزرگ کے یہاں گئے۔ ندی کے کنارے استنجاء کیلئے گئے، وہاں ایک شیر رہتا تھا، اس نے دوڑایا۔ ان بزرگ کو جب یہ معلوم ہوا تو خود وہاں پہنچ گئے اور شیر کو ڈانٹ کر کہا کہ میں نے تجھے نہیں منع کیا ہے کہ میرے مہمانوں سے تعرض مت کیا کر۔ شیر دم ہلانے لگا۔
پھر ان صاحب کی جانب مخاطب ہوکر فرمایا کہ بھائی، ہم نے دل کو صاف کیا ہے تو شیر ہم سے ڈرتا ہے اور آپ نے صرف زبان صاف کی ہے، اس لئے آپ شیر سے ڈرتے ہیں۔
اللہ والوں کے پاس اپنے دل کی حفاظت کرو تاکہ کسی بدگمانی کی وجہ سے شرمندگی نہ ہو۔‘‘ فرمایا: ’’وَیَوْمٌ عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ‘‘۔ ’’یعنی ایک دن تمہارے رب کے نزدیک ہزار سال کے برابر ہوگا ان دنوں میں سے جس کو تم شمار کرتے ہو‘‘۔
تم نے کبھی اس آیت میں غور تو نہیں کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں کیا تھا۔ فرمایا تم کو اس واقعہ کے ذریعہ اس کا جواب دیاگیا۔ میں کہتا ہوں کہ ان سب باتوں کو بھی ماننا ہوگا۔ ایمان وتصدیق ہی سے کام چلے گا۔ جو لوگ دنیا میں عقلاء کہلاتے ہیں ان کی عقل رکھی رہ جائے گی اور ایمان والا جنت میں چلا جائے گا۔ کس کام کی ہے یہ عقل جو انسان کو دوزخ سے بھی نہ بچا سکے۔ بڑے بڑے مدعیان عقل کو وہاں دوزخ میں دیکھئے گا۔
جہنم میں چلے جاؤ
ایک انگریز اپنے ایک خانساماں پر بہت خفا ہوا اور اس کو بہت ڈانٹا اور کہا کہ چلا جا یہاں سے۔ اس نے کہا حضور، کہا جاؤں گا؟ انگریز نے غصہ سے کہا جہنم میں جاؤ۔ چنانچہ وہ خانساماں چلا گیا۔
تھوڑی دیر ادھر ادھر گھومتا رہا، اس کے بعد آیا۔ انگریز کی نظر جونہی اس پر پڑی، اس نے پھر بڑی زور سے ڈانٹا اور کہا کہ تو گیا نہیں۔ خانساماں نے کہا کہ حضور، گیا تھا۔ آپ نے جہنم میں جانے کو کہا تھا، مگر وہاں جگہ نہیں تھی۔ سب صاحب لوگ بھرے تھے، اس لئے واپس چلا آیا۔
اس پر انگریز کو ہنسی آگئی اور اس کا قصور معاف کردیا اور اس سے خوش ہوگیا۔
ایثار کا عجیب وغریب واقعہ
کچھ لوگوں نے بادشاہ کے سامنے ایک جماعت کی شکایت کی۔ بادشاہ نے قتل کا حکم دے کر انہیں جلاد کے پاس بھجوادیا۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک نے پیش قدمی کی کہ جلاد پہلے اسے قتل کرے۔
جلاد کو ان کے اس فعل پر تعجب ہوا۔ اس نے پوچھا کہ عام دستور تو یہ ہے کہ لوگ جان بچاتے ہیں۔ آپ لوگوں نے جو پیش قدمی کی، اس کی کیا وجہ ہے؟
انہوں نے جواب دیا کہ ہم صوفی لوگ ہیں۔ ہمارا مذہب ایثار ہے، یعنی خیر میں اور نیک کام میں ہم اپنے بھائی کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔ اس لئے ہم نے یہ چاہا کہ ہمارا بھائی ہم سے زیادہ دیر جی لے۔
جلاد کو ان کا یہ جواب سن کر بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے ان سب کو قاضی کے پاس یہ کہہ کر واپس کردیا کہ یہ لوگ نیک معلوم ہوتے ہیں، ان کے فیصلہ پر نظر ثانی کرلی جائے۔
قاضی نے ان سے گفتگو کی تو ان لوگوں نے اس کے سامنے بھی ایسی تقریر کی کہ قاضی رونے لگا اور بادشاہ کے پاس کہلایا کہ یہ لوگ نہایت ہی پاک باطن ہیں، کسی نے آپ سے ان کی شکایت کر دی ہے؟ اگر یہی لوگ مسلمان نہیں ہیں تو پھر اس وقت روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں۔
اور یہ بھی کہا کہ وہ تو خیریت ہوگئی، ورنہ آج کیسے کیسے لوگ قتل ہوجاتے۔



