قومی خبریں

بھارت کو ہندو راشٹر قرار دینے کا مطالبہ، سادھوی رتھمبھرا نے کہا ’’یہ پہلے ہی ہندو راشٹر ہے‘‘

پوری، 2 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) پدم بھوشن سے سرفراز سادھوی رتھمبھرا نے بھارت کو سیاسی طور پر ہندو راشٹر قرار دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اپنی تہذیب، روایات اور طرز زندگی کے اعتبار سے پہلے ہی ہندو راشٹر کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اس تصور کو سیاسی سطح پر بھی باضابطہ حیثیت دی جانی چاہیے۔

سادھوی رتھمبھرا بدھ کو پوری پہنچیں، جہاں انہوں نے شری جگن ناتھ مندر میں درشن کیا۔ وہ بالی اپانڈا کے سیون ہلز میں سات روزہ بھاگوت کتھا میں شرکت اور خطاب کے لیے پوری آئی ہیں۔

ہندو راشٹر کے مطالبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سادھوی رتھمبھرا نے کہا کہ ملک کی اکثریتی برادری کے تہذیبی تصور میں ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنے کا نظریہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی روایات اور ثقافتی ورثے میں بھی اسی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سناتن دھرم کے فلسفے اور ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ کے تصور کو عالمی سطح پر پیش کریں۔ سادھوی رتھمبھرا کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک ہندو شناخت اور ہندوستان کی تہذیبی شناخت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اور امن و فلاح کا تصور اس کا اہم حصہ ہے۔

ہندو راشٹر کے مطالبے کو مذہبی اور ثقافتی تناظر میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی روایات، اجتماعی شعور اور طرز زندگی میں ہندو تہذیبی اثرات نمایاں ہیں۔ انہوں نے ملک کے آئین میں شری رام چندر کے حوالے اور ’’ستیہ میو جیتے‘‘ کے ذکر کو بھی اپنی دلیل کا حصہ بنایا اور کہا کہ ثقافتی سطح پر ملک پہلے ہی ہندو راشٹر ہے، تاہم سیاسی سطح پر بھی اسے اسی حیثیت سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔

گائے کے تحفظ کے معاملے پر سادھوی رتھمبھرا نے گؤ کشی کی مخالفت کرتے ہوئے حکومتوں سے گایوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ گائے کے گوشت کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وہ مذہبی طور پر غلط سمجھتی ہیں اور حکومتوں کو آمدنی کے دیگر ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔

خواتین اور بچیوں سے متعلق گفتگو میں بھی سادھوی رتھمبھرا نے تشدد اور رحم مادر میں بچیوں کے قتل کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گایوں کے خلاف تشدد، خواتین کے آنسو اور بچیوں کو رحم مادر میں قتل کیے جانے والے معاشرے میں حقیقی امن اور خوشحالی کا تصور پورا نہیں ہوسکتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button