قومی خبریں

انکت شرما قتل کیس: طاہر حسین کی عمر قید کے خلاف اپیل، دہلی ہائی کورٹ کا پولیس کو نوٹس

نئی دہلی، 2 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں سابق عام آدمی پارٹی کونسلر طاہر حسین کی عمر قید کی سزا کے خلاف دائر اپیل پر دہلی پولیس سے جواب طلب کرلیا ہے۔

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل بنچ نے بدھ کو طاہر حسین کی اپیل کی سماعت کی اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے یہ بھی طے کیا کہ طاہر حسین کی اپیل پر اسی معاملے میں سزا پانے والے دیگر دو افراد کی اپیلوں کے ساتھ سماعت کی جائے گی۔

سماعت کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر رجت نائر عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ طاہر حسین کی اپیل کی سماعت دیگر متعلقہ اپیلوں کے ساتھ کی جائے تاکہ تمام معاملات کو ایک ساتھ دیکھا جاسکے۔

عدالت نے کہا کہ متعلقہ مقدمات 2 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں اور ملزمان کے کردار کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔ بنچ کے مطابق اپیلوں کی مشترکہ سماعت سے عدالتی وقت بھی بچایا جاسکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے طاہر حسین کا نومینل رول طلب کرتے ہوئے معاملے کو متعلقہ اپیلوں کے ساتھ 2 دسمبر کو فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔

طاہر حسین نے کڑکڑڈوما عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کو چیلنج کیا ہے۔ ان کے علاوہ ناظم اور قاسم بھی انکت شرما قتل کیس میں اپنی سزاؤں کے خلاف دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں۔

کڑکڑڈوما عدالت نے انکت شرما کے قتل کے مقدمے میں طاہر حسین، جاوید، انس، ناظم اور قاسم کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم عدالت نے پانچوں کو مجرمانہ سازش کے الزام سے بری کردیا تھا۔ مقدمے میں نامزد مزید چھ افراد کو بھی بری کیا گیا تھا، کیونکہ عدالت کے مطابق استغاثہ ان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد پیش نہیں کر سکا۔

دہلی پولیس نے اس سے قبل ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ ان چھ افراد کی بریت کے فیصلے کو بھی چیلنج کرنے کے لیے قانونی کارروائی کر رہی ہے۔

ٹرائل کورٹ نے سزا سناتے ہوئے انکت شرما کے قتل کو انتہائی سنگین نوعیت کا جرم قرار دیا تھا۔ عدالت کے مطابق انکت شرما کو بے رحمی سے قتل کیا گیا اور ان کی لاش کو انتہائی بے حسی کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔ استغاثہ نے مقدمے کے دوران ان کے جسم پر پائے گئے 51 زخموں کا بھی حوالہ دیا تھا۔

دہلی پولیس نے طاہر حسین سمیت دیگر مجرم قرار دیے گئے افراد کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا اور قتل کو انتہائی بربریت پر مبنی قرار دیا تھا۔ تاہم دفاعی وکلا نے سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں دلیل دی تھی کہ یہ معاملہ ’نایاب ترین‘ یعنی Rarest of Rare کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button