سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

قاتل بھی مسلمان سازشی بھی مسلمان، کیا کرے گا پولیس کا جوان-ڈاکٹر محمد مصطفیٰ علی سروری

مہتمم نکلا قاتلوں کا سرغنہ، طالب علم بنے قاتل؛ تربیت کہاں گئی؟

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کا تھانہ گنج پولیس اسٹیشن ایک مصروف ترین پولیس اسٹیشن مانا جاتا ہے۔ اس پولیس اسٹیشن کے عملے نے 18 ؍ اگست 2026 کو دو نوجوانوں کو مشتبہ حالت میں گھومتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ ان کے قبضے سے ایک ریوالور، اور 5 عدد کارتوس کے علاوہ ایک چوری شدہ موٹر سائیکل بھی برآمد کرلی۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ شروع ہوتی ہے۔ تفتیش کے دوران پولیس نے ان دونوں ملزمان کی شناخت محمد شاہد اور محمد عمر کی حیثیت سے کی۔ ان لوگوں نے پولیس کے روبرو اعتراف کیا کہ انہیں امان قریشی نام کے ایک فرد نے قتل کے لیے سپاری دی ہے اور یہ ہتھیار بھی اسی نے فراہم کیا ہے۔ قتل کے لیے 2 لاکھ روپے کی سپاری کس نے دی ہے اور کس کو مارنے کے لئے دی ہے، یہ ساری تفصیلات پولیس نے 21 اگست کو ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے بتائی ۔

مدرسے کے مہتمم پر جائیداد کے لیے قتل کی سازش کا الزام

پولیس کے مطابق لکھنؤ کے سنبھل نگر فرید پور علاقے میں مدرسہ جامعۃ النور الاسلامیہ کے نام سے ایک قدیم مدرسہ قائم ہے۔ اس مدرسے میں مہتمم کے طور پر قاری ہلال ہاشمی نامی ایک شخص کام کرتا ہے۔ قاری ہلال مدرسے کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ کا بھی کاروبار کرتا ہے۔ قاری ہلال جس مدرسے کے مہتمم تھے اسی مدرسے کے سرپرست سید عرفان احمد رضوی صاحب ہیں۔

قاری ہلال کو اس بات کا اچھی طرح سے علم تھا کہ سید عرفان احمد رضوی صاحب کی کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے۔ ان کی تمام بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور ان کے پاس کروڑوں کی جائیداد ہے۔ اس پس منظر میں قاری ہلال نے سونچا کہ جناب عرفان احمد رضوی کے مرنے کے بعد ان کی جائیداد کا وہ آسانی سے مالک بن سکتا ہے۔

اپنے اس شیطانی منصوبہ کا دینی مدرسے کے مہتمم نے دو شناسا وکیلوں سے ذکر کیا۔ جن کے نام محمد سہیل احمد صدیقی اور مزمل صدیقی شامل ہیں۔

ان دونوں وکلاء نے عرفان احمد رضوی کے قتل کے لیے کرایہ کے قاتلوں کو حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اور دو سپاری قاتلوں کی خدمات حاصل کیں۔ یہ دو قاتل شارپ شوٹر محمد شاہد اور محمد ضمیر تھے جن کو عرفان احمد رضوی کی تصویر دی گئی اور ان کے قتل کے لیے ریوالور فراہم کیا گیا اور ساتھ میں ایک چوری کردہ موٹر سائیکل اور محفوظ رابطہ کے لیے ایک فون بھی دیا گیا۔

پولیس نے قتل کی سازش ناکام بنا دی

مدرسہ جامعۃ النور الاسلامیہ کے سرپرست اعلیٰ جناب عرفان احمد رضوی کے قتل کے لیے بساط پوری بچھائی جا چکی تھی۔ 18؍اگست 2026 کو دونوں سپاری کے قاتل محمد شاہد اور محمد ضمیر نے قتل کی ریہرسل شروع کی۔ بس اسی دوران اترپردیش کی پولیس نے امین پورہ انہیں پکڑ لیا اور یکے بعد دیگرے اس سازش کے سبھی کرداروں کو گرفتار کرلیا۔

مندرجہ بالا خبر کو ہندی کے اخبارات دینک جاگرن، امر اجالا کے علاوہ ٹائمز آف انڈیا، ہندستان ٹائمز، لکھنؤ اور اخبار دی انڈین ایکسپریس نے تفصیل سے شائع کیا۔ جبکہ خبر رساں ادارے یو این آئی نے اس خبر کو جاری کرتے ہوئے Police Foil Murder attempt on Madrasa Trustee over Property Dispute; 6 in-custodyکی سرخی لگائی۔

اللہ تعالیٰ نے سازش ناکام بنائی

قارئین کرام کہتے ہیں کہ مارنے والے سے بڑی بچانے والے کی ذات ہوتی ہے۔ اس واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات منظور نہیں تھی کہ عرفان احمد رضوی کے رضوی کے خلاف انہیں کے مدرسے کے مہتمم قاری ہلال احمد ہاشمی کی سازش کامیاب ہو۔ پس اللہ رب العزت نے سارے سازشیوں کے چہروں سے نقاب اتار دیا۔

قارئینِ کرام! ایک لمحے کے لیے غور کریں اگر لکھنؤ کے دینی مدارس کے سرپرستِ اعلیٰ کا دن دھاڑے گولی مار کر قتل ہو جاتا، جیسا کہ مدرسے کے مہتمم قاری ہلال ہاشمی نے منصوبہ بنایا تھا تو اخبارات میں شائع ہونے والی سرخیوں کا صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ اور مسلمانوں میں کس طرح خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوجاتا۔ ’’یوگی کے راج میں دینی مدرسے کے سرپرست کا قتل‘‘، ’’بی جے پی حکومت میں اب دینی مدارس کے سرپرست بھی محفوظ نہیں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

مدرسے کے مہتمم کی مذموم سازش کا جب پردہ فاش ہوا تو اخبار The Indian Express نے: 6 Arrested for Plotting Murder of Cleric attached to Nadwa Institution.اخبار ہندوستان ٹائمز نے: Contract Killing Plot to grab Madarsa Property Busted in Lucknow.ٹائمز آف انڈیا نےLucknow police foil Murder Plot of Madarsa trustee, 6 arrested.کی سرخی کے تحت خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا۔

کیا اُمّتِ مسلمہ اپنا احتساب کرے گی؟

اخبارات نے تو خبر شائع کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائی اب سوال یہ ہے کہ کیا اُمّتِ مسلمہ بھی اپنا احتساب کرے گی یا پھر اس خبر کو بھی مسلمانوں کے مدارس کو بدنام کرنے کی سازش سمجھ کر نظر انداز کر دے گی۔

قارئینِ کرام! یہ کوئی اکلوتی ایسی خبر نہیں جس نے اُمّتِ مسلمہ کو بحیثیت مجموعی جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے، بلکہ گزشتہ برس 11 ؍ اکتوبر 2025 کو اترپردیش کے باغپت ضلع میں پولیس نے ایک دینی مدرسے کے دو نابالغ 14 اور 15 سال کے طلباء کو گرفتار کرتے ہوئے باغپت کے گناولی گاؤں میں ایک مدرسہ کے مولوی و مسجد کے امام مولانا ابراہیم کی 30 سالہ اہلیہ اور ان کی 2 معصوم بیٹیوں 5 سالہ صوفیہ اور 2 سالہ سمیہ کے قتل کے معمے کو حل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

12 ؍ اکتوبر 2025 کو اخبار ہندوستان ٹائمز نے”Two Teen Madrasa students held for Triple Murder in Baghpat Mosque: UP police”کی سرخی کے تحت قتل کی تفصیلی خبر شائع کی ۔

باغپت میں مدرسہ طلباء پر تین افراد کے قتل کا الزام

تفصیلات کے مطابق مولانا ابراہیم گناولی گاؤں کے ایک مدرسہ اور مسجد کے ذمہ دار ہیں۔ ایک دن پڑھائی کے دوران انہوں نے مدرسہ کے دو طلباء کو غلطی کرنے پر ڈانٹ ڈپٹ اور پٹائی کی۔ سب کے سامنے ہونے والی اس تذلیل اور مارپیٹ کا بدلہ لینے کے لیے مدرسہ کے دونوں طلباء نے منصوبہ بندی کی کہ وہ مولوی صاحب کے گھر والوں کو مار کر ہی چین سے بیٹھیں گے۔

پھر ایک دن جب مولانا ابراہیم ایک دینی پروگرام میں شرکت کے لیے دیوبند گئے تب ان کے گھر پر ان کی بیوی اور دو بچیاں اکیلی تھیں۔ چونکہ ان کا گھر بھی مسجد کے احاطہ میں ہی تھا ۔ تو مدرسہ کے دونوں طلباء ہتھوڑے اور تیز دھاری چھری کے ساتھ مولانا کے گھر میں داخل ہوئے اور گھر پر موجود مولانا کی اہلیہ اور دونوں معصوم بچیوں کا قتل کر ڈالا۔

ابتداء میں ہی اس جرم کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے یوپی پولیس نے فوراً تحقیقات کا آغاز کیا۔ فارنسک معائنوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اندرون 6 گھنٹے مولانا کے اہل خانہ کے قتل کے ملزمان مدرسہ کے دونوں نابالغ بچوں کو گرفتار کرلیا ۔

دونوں واقعات سے کیا سبق ملتا ہے؟

ان دونوں مندرجہ بالا حوادث سے ہم مسلمانوں کو سماجی، اخلاقی اور تربیتی زندگی کے لیے بڑے اہم سبق ملتے ہیں۔ کہ اگر تربیت نہ ہو تو قاتل مدرسے کا مہتمم بھی ہوسکتا ہے اور ایک طالب علم بھی۔

لکھنؤ کے واقعہ سے یہ ثابت ہوا کہ مال و دولت کی ہوس اور اخلاق کا زوال انسان کو تمام اخلاق اور مذہبی حدود سے گرا دیتا ہے۔ اور مدرسے کا مہتمم بھی جب لالچ میں آ جاتا ہے تو اپنوں اور معزز شخصیات کے خلاف بھی گھنائونی سازش رچنے سے باز نہیں آتا۔ باغپت کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ وقتی غصہ اور انتقام کی آگ انسان سے کس قدر ہولناک قدم اٹھانے لگاتی ہے۔

ایسے میں تربیت نہ صرف مدرسے کے طلباء کی ضرورت ہے۔ بلکہ مدارس اور کالجز کے ذمہ داروں کو بھی اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنے گھر اور خاندان کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت

آئیے کسی کو خراب اور برا بولنے سے پہلے ہم اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے خاندان کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کیا ہم اپنی ذات سے اپنے گھر میں یا اپنے خاندان میں کہیں خود ایسا کردار تو نہیں ہیں یا ایسے کسی کردار کو جانتے ہوئے نظر انداز تو نہیں کر رہے ہیں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سبھوں کو اپنی اولاد کی تربیت کرنے اور ایک صالح معاشرہ کی تشکیل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

ڈاکٹر محمد مصطفیٰ علی سروری
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر برسر خدمت ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button