
ممبئی: کوپر اسپتال میں برقع پوش خواتین کو داخلے سے روکا گیا، برقع اتارنے پر اصرار
ممبئی، 2 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): ممبئی کے کوپر اسپتال میں دو مسلم خواتین کو مبینہ طور پر برقع پہننے کی وجہ سے داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ خواتین کا الزام ہے کہ زچگی وارڈ کے قریب موجود خاتون سکیورٹی اہلکار نے انہیں اسپتال میں داخل ہونے کے لیے برقع اتارنے کو کہا۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملے پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اعتراضات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں خواتین اپنے ایک رشتہ دار سے ملاقات کے لیے اسپتال پہنچی تھیں۔ ان میں سے ایک خاتون کی گود میں بچہ بھی تھا۔ خواتین نے مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکار سے اسپتال کے اندر جانے کی اجازت طلب کی، تاہم سکیورٹی اہلکار نے مبینہ طور پر کہا کہ برقع اتارنے کے بعد ہی انہیں زچگی وارڈ میں داخل ہونے دیا جائے گا۔
واقعے کی ویڈیو خواتین کے ایک مرد رشتہ دار نے ریکارڈ کی۔ ویڈیو میں زہرا شیخ نامی خاتون نے واقعے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسپتال کے دروازے پر خاتون اہلکار نے روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سکیورٹی کے حوالے سے کوئی مسئلہ تھا تو خاتون اہلکار ان کی جانچ کر سکتی تھی، لیکن برقع اتارنے کے لیے کہنا مناسب نہیں ہے۔
زہرا شیخ نے کہا کہ کسی کے مذہبی لباس کو بنیاد بنا کر اس کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کیا جانا چاہیے جس سے اسے خود کو مجرم یا چور محسوس ہو۔ انہوں نے اس معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ برقع پہننے والی خواتین کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرنا قابل قبول نہیں۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے معاملے کو تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈپٹی میونسپل کمشنر برائے صحت سے بات کی ہے اور واقعے کی فوری جانچ کے ساتھ مناسب کارروائی کی درخواست کی ہے۔ رئیس شیخ نے کہا کہ کسی بھی خاتون کو اس کے لباس یا مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے بھی واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ زہرا شیخ کی موجودگی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین برقع اور حجاب پہنتی ہیں اور وہ آئندہ بھی اپنے مذہبی لباس کا استعمال جاری رکھیں گی۔ انہوں نے مبینہ طور پر خواتین کو داخلے سے روکنے والی سکیورٹی اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب ممبئی کی میئر ریتو تاؤڑے نے بھی معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں مذہبی امتیاز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوپر اسپتال میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام ہے اور اس طرح کا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ریتو تاؤڑے کے مطابق اسپتال کسی بھی شخص کے مذہب کی بنیاد پر اس کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان، ہندو یا کسی بھی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
کوپر اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔



