
یوکرین پر روسی میزائل حملے میں تلنگانہ کا 42 سالہ مزدور ہلاک
حملے کے دوران ساتھی مزدور محفوظ رہا، سدھرشن چار ماہ قبل تعمیراتی کام کے لیے یوکرین گیا تھا
جگتیال، 2 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) یوکرین پر روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں تلنگانہ کے جگتیال ضلع سے تعلق رکھنے والا 42 سالہ مزدور ہلاک ہوگیا۔ جاں بحق ہونے والے کی شناخت ویویلا سدھرشن گوڑ کے طور پر ہوئی ہے، جو حسن آباد گاؤں کا رہائشی تھا۔
مقامی رپورٹس کے مطابق سدھرشن گوڑ تقریباً چار ماہ قبل روزگار کی تلاش میں یوکرین گیا تھا۔ وہاں وہ ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اسی ضلع کے تاتی پلی گاؤں کا ایک اور مزدور بھی اس کے ساتھ یوکرین گیا تھا، جو حملے میں محفوظ رہا۔
بتایا گیا ہے کہ فضائی حملے کے سائرن بجنے کے بعد دونوں افراد جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں دوڑ پڑے۔ اسی دوران ایک میزائل مبینہ طور پر اس سمت میں گرا جہاں سدھرشن گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
سدھرشن اس سے قبل دبئی میں بھی کام کرچکا تھا۔ بعد میں وہ کمپنی کے ویزے پر یوکرین گیا تھا۔ اس کی موت کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں، جبکہ لاش کو وطن واپس لانے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
جگتیال کے رکن اسمبلی ایم سنجے کمار نے سدھرشن کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔
سدھرشن کی ہلاکت ایسے وقت میں ہوئی جب روس نے یوکرین کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق روسی حملوں میں جیٹ سے چلنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جن سے رہائشی عمارتوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
کیف میں ایک ریلوے ڈپو کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ دارالحکومت اور اس کے گرد و نواح میں تقریباً 350 امدادی کارکنوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
بورسپل میں حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔ ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت کو بھی نقصان پہنچا، جس کے بعد تقریباً 50 افراد کو وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
اودیسا میں بھی گائیڈڈ بموں اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بجلی سے محروم ہوگئے۔ زیلنسکی کے مطابق رومانیہ سے متصل ایک سرحدی چوکی اور برآمدی بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق یوکرین کے خرسون، دونیتسک، زاپوریژیا، خارکیف، چرنیہیو، ژیٹومیر، سومی اور دنیپروپیٹروفسک علاقوں کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سدھرشن کی ہلاکت روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں متاثر ہونے والے بھارتی شہریوں اور کارکنوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
مرکز نے مئی میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ 49 بھارتی شہری روسی مسلح افواج میں بھرتی ہونے کے بعد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حکومت کے مطابق اس وقت 139 بھارتی شہریوں کو روسی فوج سے رہا کرایا جاچکا تھا، جبکہ چھ افراد لاپتہ قرار دیے گئے تھے۔
یہ اعداد و شمار ان بھارتی شہریوں اور مزدوروں کو شامل نہیں کرتے جو روسی یا یوکرینی حملوں میں عام شہریوں کی حیثیت سے ہلاک ہوئے ہیں۔
جولائی میں چار بھارتی ملاح بھی ہلاک ہوگئے تھے جب یوکرین کی بندرگاہ اودیسا سے روانہ ہونے والے ایک مال بردار جہاز کو روسی میزائل نے نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے ایک سینئر روسی سفارت کار کو طلب کرکے ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔
تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بھارتی شہری کی روسی فوج سے متعلق ہلاکت کا معاملہ بھی پہلے سامنے آچکا ہے۔ مارچ 2024 میں بھارتی سفارتخانے نے حیدرآباد کے رہائشی محمد اصفان کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ وہ روزگار کے وعدے پر روس گیا تھا لیکن بعد میں اسے جنگی علاقے میں بھیج دیا گیا تھا۔
روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے باوجود روزگار کے لیے اس خطے کا رخ کرنے والے بھارتی کارکنوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ روس میں افرادی قوت کی کمی کے باعث بھارتی شہریوں کی بھرتی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق روس نے 2025 میں بھارتی شہریوں کو تقریباً 72 ہزار ورک پرمٹ جاری کیے، جبکہ 2021 میں یہ تعداد تقریباً 5 ہزار تھی۔
سدھرشن گوڑ کی موت ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ روس یوکرین جنگ کا اثر صرف فوجیوں تک محدود نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں روزگار کے لیے موجود عام شہری اور غیر ملکی کارکن بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی اور جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔



