
لڑکے کی خواہش میں باپ نے اپنا پیٹ چیر ڈالا! ایک سو روپے کے نوٹ سے شروع ہونے والی کہانی نے معاشرے کی خطرناک سوچ بے نقاب کر دی
✍️ڈاکٹر محمد مصطفیٰ علی سروری
لڑکے کی چاہت، تعلیمی پسماندگی اور بدلتا ہوا معاشرتی توازن
29 اگست 2026 کو تقریباً رات کے بارہ بجنے والے تھے۔ گاندھی نگر، گجرات کے ایک سرکاری دواخانے کے ایمرجنسی وارڈ میں اچانک ہلچل مچ گئی۔ ایک نوجوان کو شدید زخمی حالت میں اسٹریچر پر اسپتال لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے ابتدائی معائنے کے بعد دیکھا کہ نوجوان کے پیٹ پر کسی تیز دھار چیز سے گہرا زخم کیا گیا تھا اور خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ نوجوان کسی دوسرے شخص کے حملے کا شکار نہیں ہوا تھا، بلکہ اس نے خود ہی اپنا پیٹ کاٹ لیا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ خودکشی کی کوشش بھی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی سوچ کا نتیجہ تھی جو ہمارے معاشرے میں آج بھی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
خواتین و حضرات! گاندھی نگر، گجرات کا یہ 36 سالہ نوجوان تین لڑکیوں کا باپ تھا اور اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اگلی مرتبہ اس کی بیوی کے ہاں بیٹا پیدا ہو۔
اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ ایک بابا کے پاس گیا۔ بابا نے اسے بیٹا پیدا ہونے کی امید میں ایک خاص پرساد دیا اور دعویٰ کیا کہ اسے کھانے سے اگلی مرتبہ اس کی بیوی کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ بابا نے یہ پرساد ایک سو روپے کے نوٹ پر رکھ کر دیا تھا۔
نوجوان پرساد لے کر گھر پہنچا اور غلط فہمی میں پرساد کے ساتھ وہ ایک سو روپے کا نوٹ بھی نگل گیا۔ کچھ دیر بعد اسے معلوم ہوا کہ اسے صرف پرساد کھانا تھا، نوٹ نہیں نگلنا تھا۔
یہ سنتے ہی نوجوان گھبرا گیا۔ اسے لگا کہ اگر ایک سو روپے کا نوٹ اس کے پیٹ میں رہ گیا تو شاید بیٹا پیدا ہونے کی اس کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ اسی سوچ کے تحت اس نے گھر میں موجود ایک تیز دھار چیز سے اپنے پیٹ کو اس مقام پر کاٹنے کی کوشش کی جہاں اسے گمان تھا کہ ایک سو روپے کا نوٹ موجود ہوگا۔
نتیجہ انتہائی خطرناک نکلا۔ پیٹ تو کٹ گیا، لیکن ایک سو روپے کا نوٹ باہر نہیں نکلا۔ اس کے بجائے اس کی آنتیں باہر نکل آئیں اور شدید خون بہنے لگا۔
گھر والوں نے جب یہ سنگین صورتِ حال دیکھی تو وہ گھبرا گئے اور نوجوان کو فوری طور پر گاندھی نگر کے سرکاری اسپتال پہنچایا۔ ڈاکٹروں نے رات ہی میں آپریشن شروع کیا۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران ڈاکٹروں نے نوجوان کے پیٹ اور آنتوں کی مرمت کی اور ضروری ٹانکے لگائے۔
نوجوان کو تقریباً آٹھ دن تک اسپتال میں زیرِ علاج رکھا گیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق، 3 ستمبر 2026 کو صحت بہتر ہونے کے بعد اسے اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔
اس واقعے کو گجرات سماچار، سندیش، زی نیوز گجراتی اور دیلی جاگرن سمیت مختلف اخبارات اور نیوز پورٹلز نے رپورٹ کیا۔ خبر کے ساتھ ان ذرائع نے اس واقعے کو توہم پرستی اور معاشرے میں موجود اس منفی سوچ سے جوڑا جس میں بعض والدین آج بھی بیٹے کی پیدائش کو ترجیح دیتے ہیں اور بیٹی کی پیدائش کو کمتر سمجھتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا لڑکے کی خواہش کسی ایک علاقے، معاشرے یا مذہب تک محدود ہے؟ یقیناً نہیں۔
لڑکے کی خواہش کو صرف کسی ایک مذہب، فرقے یا مخصوص نظریے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ اس کی بنیادی وجوہات ایک ایسے سماجی نظام میں تلاش کی جانی چاہئیں جہاں صدیوں سے مرد کو عورت پر فوقیت حاصل رہی ہے اور جہاں کئی معاشروں میں بیٹے کو خاندان کا وارث، معاشی سہارا اور سماجی طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
ماہرینِ سماجیات کے مطابق جہاں خواتین کو معاشی خودمختاری، مساوی حقوق اور مؤثر قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، وہاں صنفی امتیاز اور بیٹے کو ترجیح دینے جیسی سوچ زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
اس مسئلے کا ایک اہم حل تعلیم کا فروغ، خواتین کی معاشی خودمختاری، انہیں مساوی مواقع کی فراہمی اور ان کے قانونی حقوق کا تحفظ ہے۔ جیسے جیسے یہ عوامل مضبوط ہوں گے، ویسے ویسے معاشرے میں موجود صنفی امتیاز اور منفی سوچ پر قابو پانے کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
آج ہم 2026 میں ایسے بہت سے حکومتی پروگراموں اور اسکیموں کو دیکھتے ہیں جن کا مقصد خواتین کو تعلیم سے آراستہ کرنا، انہیں ہنر مند بنانا اور معاشی طور پر خودمختار بنانا ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کی ان کوششوں کے باوجود عملی صورتِ حال یہ ہے کہ آج بھی بہت سے مقامات پر لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور لڑکیوں کو مختلف نوعیت کے امتیازات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آئیے اب ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ کرتے ہیں جو اس حقیقت کی ایک اور تصویر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔
یہ مسئلہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لیے مناسب رشتوں کی تلاش کا ہے۔
مختلف اخبارات، سوشل میڈیا گروپس اور رشتہ طے کروانے والے پلیٹ فارمز پر ہمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے رشتوں کے متعدد اشتہارات نظر آتے ہیں۔
مثلاً ایک لڑکی کی عمر 26 برس ہے، اس نے بی فارمیسی کی تعلیم حاصل کی ہے اور ایک اسپتال میں ملازمت بھی کرتی ہے۔ اس کے لیے مناسب تعلیم یافتہ اور پروفیشنل لڑکے کا رشتہ مطلوب ہے۔
ایک دوسری لڑکی کی عمر 22 برس ہے۔ اس نے ایم بی بی ایس مکمل کیا ہے اور اس کے لیے ڈاکٹر لڑکے کا رشتہ مطلوب ہے۔
ایک اور لڑکی کی عمر 22 برس ہے اور اس نے ایل ایل بی کیا ہوا ہے۔ اس کے سرپرست کسی ڈاکٹر یا اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والے لڑکے کا رشتہ چاہتے ہیں۔
ایک لڑکی نے ایم ایس سی میتھس کیا ہے، اس کی عمر 30 برس ہے اور اس کے لیے کسی تعلیم یافتہ لیکچرر لڑکے کا رشتہ مطلوب ہے۔
ایک 25 سالہ لڑکی نے بی ٹیک کمپیوٹر سائنس کیا ہے اور آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس کے لیے بھی مناسب آئی ٹی پروفیشنل لڑکے کی تلاش ہے۔
اسی طرح ایک 26 سالہ لڑکی، جس نے فارم ڈی کی تعلیم حاصل کی ہے، اس کے لیے فارم ڈی یا ایم بی بی ایس لڑکے کا رشتہ مطلوب ہے۔
خواتین و حضرات! اس طرح کے سینکڑوں اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے رشتے ہمیں اخبارات اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ان اشتہارات کی جانب توجہ دلانے والے افراد کی خواہش یہ ہے کہ معاشرے کے درد مند اور فکر مند افراد اس اہم مسئلے پر غور کریں کہ مسلم سماج سمیت کئی معاشروں میں لڑکیوں کی شادی ایک پیچیدہ سماجی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
لڑکیاں ایک سے ایک اعلیٰ ترین پروفیشنل ڈگریاں حاصل کر رہی ہیں، ملازمتیں کر رہی ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت کے مطابق مناسب رشتوں کی تلاش بعض خاندانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ بعض خاندانوں میں لڑکیوں کو ان کی پیدائش کے وقت سے ہی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دوسری جانب اخبارات کے اشتہارات، رشتہ طے کروانے والے افراد، ادارے اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز بھی ایک بڑی صنعت کی شکل اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس شعبے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو خدمتِ خلق کے بجائے مالی منفعت کو ترجیح دیتے ہیں۔
لیکن اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ رشتے طے کروانے کا کام ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کو ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ معیار کے مطابق مناسب رشتے کیوں نہیں مل رہے؟
اب ذرا سوشل میڈیا، اخباری گروپس اور رشتہ طے کروانے والے پلیٹ فارمز پر موجود لڑکوں کے رشتوں کی صورتِ حال بھی دیکھیے۔
اکثر ایسے رشتے نظر آتے ہیں جہاں لڑکے نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے لیکن وہ بے روزگار ہے یا اپنی تعلیم سے مختلف شعبے میں کاروبار کر رہا ہے۔
ایک لڑکے کی تفصیلات میں درج تھا کہ اس کی عمر 28 برس ہے۔ اس نے امریکہ جا کر ایم ایس کیا ہے، لیکن اب واپس ہندوستان آ کر ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ اس کے لیے مطلوبہ لڑکی کی تفصیلات میں خاص طور پر امریکی شہری لڑکی کا رشتہ مطلوب بتایا گیا تھا۔
ایک اور لڑکے کی تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ درج تھی اور وہ ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتا تھا۔ اس کے لیے ایک تعلیم یافتہ اور خوبصورت لڑکی کا رشتہ مطلوب تھا۔
اسی طرح ایک اور لڑکے نے بی ای سول انجینئرنگ کیا ہوا تھا اور ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ تھا۔
یہاں ایک دلچسپ اور غور طلب تضاد سامنے آتا ہے۔
ایک طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے رشتوں کے اشتہارات بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، جبکہ اسی تناسب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکوں کے رشتے بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ تقریباً ہر گروپ، ہر ادارے اور ہر ایسے پلیٹ فارم پر جہاں رشتے طے کیے جاتے ہیں، لڑکیوں کے رشتوں کی بھرمار ہے، جبکہ لڑکوں کے رشتے نسبتاً کم دکھائی دیتے ہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے: آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ کیا صرف لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا دینا کافی ہے؟
کیا صرف سرکاری اسکیمیں اور خواتین کی معاشی خودمختاری اس مسئلے کو حل کر سکتی ہیں؟
یا پھر ہمیں اپنی سماجی سوچ، شادی کے معیار، لڑکے اور لڑکی کے درمیان قائم غیر مساوی توقعات اور صنفی ترجیحات پر بھی ازسرِنو غور کرنا ہوگا؟
شاید اس مسئلے کا حقیقی حل صرف رشتے تلاش کرنے میں نہیں، بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں ہے جہاں بیٹی کو بوجھ اور بیٹے کو سہارا سمجھنے کی سوچ ختم ہو، جہاں لڑکی کی تعلیم کو صرف شادی کے لیے نہیں بلکہ اس کی شخصیت اور خودمختاری کے لیے اہم سمجھا جائے، اور جہاں رشتے دولت، ظاہری معیار یا صنفی برتری کے بجائے کردار، تعلیم، باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر طے ہوں۔
گاندھی نگر کا یہ واقعہ محض ایک شخص کی حیرت انگیز حرکت کی کہانی نہیں۔ یہ ہمارے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھتا ہے جس میں توہم پرستی، بیٹے کی خواہش، صنفی امتیاز اور بدلتے ہوئے سماجی حالات—سب ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ بیٹا کیوں چاہیے؛ اصل سوال یہ ہے کہ بیٹی کو کم کیوں سمجھا جاتا ہے؟
اور جب تک اس سوال کا جواب ہمارے معاشرے کی اجتماعی سوچ میں نہیں ملتا، تب تک صرف قوانین، اسکیمیں اور نعروں سے یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔
قارئین بحیثیت مسلمان اگر مسلمان لڑکیوں کی شادیوں میں بھی ہم مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو یہ وقت ہمیں اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سبھوں کے لیے آسانیاں پیدا فر مائے اور ہمیں قرآن و حدیث کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
ڈاکٹر محمد مصطفیٰ علی سروری
(کالم نگار، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر برسرِ خدمت ہیں)



