بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ دستاویزی فلم پر اسرائیلی وزیر کی فلم سازوں کو شہریت منسوخی کی دھمکی

تل ابیب:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیل کے وزیر ثقافت میکی زوہر نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’نازا‘ (Naza) کے ہدایت کاروں یووال ابراہام اور ریچل سور کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی قانونی گنجائش کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

میکی زوہر نے پیر، 14 ستمبر کو امیگریشن حکام اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران کو خط لکھ کر فلم میں استعمال کیے گئے مواد کے ذرائع اور اسے حاصل کرنے اور شائع کرنے کے طریقہ کار کی تحقیقات کی درخواست کی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے خط کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران ریاست اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے والا شخص اسرائیلی شہریت برقرار رکھنے کا حقدار نہیں ہونا چاہیے۔

وزیر ثقافت نے حکام سے یہ بھی معلوم کرنے کو کہا کہ دستاویزی فلم میں شامل معلومات کہاں سے حاصل کی گئیں، ان کے پیچھے کون تھا اور آیا مواد حاصل کرنے یا شائع کرنے میں ایسی کوئی کارروائی شامل تھی جو جنگ کے دوران دشمن کی مدد کے زمرے میں آ سکتی ہو۔

زوہر نے خاص طور پر اس امکان کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ آیا فلم میں استعمال ہونے والا مواد اسرائیلی فوج یا انٹیلی جنس اہلکاروں سے حاصل کیا گیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو انہوں نے مواد کی صداقت، منتقلی کے طریقہ کار اور اسے حاصل یا شائع کرنے کے لیے فلم سازوں کی اجازت کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے حکام سے یہ بھی جانچنے کو کہا کہ آیا فلم میں ایسی سکیورٹی، انٹیلی جنس یا فوجی آپریشن سے متعلق معلومات ظاہر کی گئی ہیں جو اسرائیل کے دشمنوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

اگر مواد غلط، مسخ شدہ یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہو تو زوہر نے اس بات کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا کہ اسے اسرائیل کے خلاف الزامات کی بنیاد کے طور پر بین الاقوامی سطح پر کس طرح پیش کیا گیا۔

میکی زوہر کے خط میں اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کی جانب سے فلم کے بعض مرکزی دعووں کو مسترد کیے جانے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے فلم میں شامل گمنام ذرائع کے بیانات پر اعتراض کیا ہے اور بعض فوجی حملوں کی منصوبہ بندی اور منظوری سے متعلق دعووں کو بھی مسترد کیا ہے۔

اسرائیلی شہریت منسوخی کا قانون

زوہر نے اسرائیلی شہریت کے قانون کی دفعہ 11(b)(2) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست سے وفاداری کی خلاف ورزی کی صورت میں شہریت منسوخ کرنے کی قانونی گنجائش موجود ہے۔

اس قانونی شق میں دہشت گردی، دہشت گردی کی کارروائی میں مدد یا اس کی ترغیب دینے اور کسی دہشت گرد تنظیم میں فعال شرکت جیسے اقدامات شامل ہیں۔

وزیر ثقافت نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی جانچ جلد مکمل کی جائے اور اگر کافی حقائق اور قانونی بنیادیں موجود ہوں تو اسے مزید کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کیا جائے۔

اسرائیل میں شہریت منسوخ کرنا قانونی طور پر ممکن ہے، تاہم یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے اور اس کے لیے عدالتی منظوری درکار ہوتی ہے۔

یہ مطالبہ زوہر کی جانب سے ایک روز قبل فلم سازوں پر کی جانے والی تنقید کے بعد سامنے آیا۔ انہوں نے ’نازا‘ کو ’’قابل نفرت‘‘ قرار دیتے ہوئے وینس فلم فیسٹیول میں فلم کی پذیرائی کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیا تھا۔

زوہر نے یووال ابراہام اور ریچل سور پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا اور ان کے اقدامات کو ریاست سے ’’غداری‘‘ قرار دیا۔

’نازا‘ تقریباً 80 منٹ کی دستاویزی فلم ہے جس میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ 24 اہلکاروں کے انٹرویوز شامل ہیں۔ فلم میں ان اہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مبینہ فوجی طریقہ کار کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔

فلم میں اہداف کے انتخاب میں مصنوعی ذہانت (AI) سے معاونت لینے والے نظام سمیت اسرائیلی فوج کی مبینہ کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

فلم کو دی گارڈین (The Guardian) اور JW Films نے پروڈیوس کیا ہے۔ وینس فلم فیسٹیول میں اس کے پریمیئر کے موقع پر اسے تقریباً 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی، جبکہ ہفتہ، 12 ستمبر کو فلم نے اسپیشل جیوری پرائز بھی حاصل کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button