
NLSIU میں عمر خالد پر ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ، ABVP کا مرکزی حکومت سے اجازت منسوخ کرنے کا مطالبہ
عمر خالد قوم پرست ہیں، ABVP کو ان پر بولنے کا کوئی حق نہیں: ہری پرساد
بنگلورو، 15 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): بنگلورو میں نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (NLSIU) میں عمر خالد سے متعلق ایک ڈاکیومنٹری کی مجوزہ اسکریننگ نے سیاسی اور طلبہ حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) نے مرکزی حکومت سے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ، فلم بندی اور کیمپس میں تشہیر کی اجازت مستقل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ABVP بنگلورو کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ تنظیم نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی اور وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال کو نمائندگی بھیجی ہے۔ تنظیم نے ان سے نیشنل لا اسکول میں مجوزہ پروگرام کے معاملے کا جائزہ لینے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے۔
یہ معاملہ “Prisoner No. 626710 is Present” نامی ڈاکیومنٹری کی مجوزہ اسکریننگ سے متعلق ہے، جس کی ہدایت کاری للت واچانی نے کی ہے۔ پروگرام کے منتظمین نے اسکریننگ کو سکیورٹی اور انتظامی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ملتوی کردیا تھا۔ تاہم ABVP نے اس فیصلے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پروگرام کو مؤخر کرنا عوامی مخالفت کے کم ہونے تک انتظار کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔
طلبہ تنظیم نے اپنے بیان میں عمر خالد سے وابستہ مختلف سیاسی اور احتجاجی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراض کیا کہ قومی اہمیت کے حامل تعلیمی اداروں کو کسی ایک متنازع سیاسی شخصیت سے متعلق سیاسی مہم یا بیانیے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ABVP نے 2016 کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازع، افضل گرو سے متعلق پروگراموں، شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج اور 2020 کے دہلی فسادات کے حوالے بھی دیے۔
ABVP نے نیشنل لا اسکول انتظامیہ اور ڈاکیومنٹری کے منتظمین کے خلاف جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض طلبہ تنظیموں کی جانب سے پروگرام کے بارے میں شکایات کیے جانے کے باوجود انہیں مبینہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔ تنظیم نے مرکزی اور قومی اہمیت رکھنے والی یونیورسٹیوں میں ایسے پروگراموں کے لیے واضح رہنما اصول بنانے کی بھی اپیل کی ہے جن کا تعلق حساس سیاسی معاملات یا قومی سلامتی سے ہو۔
ABVP کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بحث، مکالمہ اور علمی آزادی اہم آئینی اصول ہیں، تاہم آزادی اظہار کے ساتھ قومی سلامتی، خودمختاری اور اداروں کی سالمیت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ تنظیم نے سرکاری وسائل سے چلنے والے تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کو ایسے بیانیوں کے لیے استعمال کیے جانے کی مخالفت کی جنہیں وہ قومی مفادات کے منافی سمجھتی ہے۔
دوسری جانب کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے ABVP کے اعتراض پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ منگل کو ودھان سودھا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس رہنما نے عمر خالد کا دفاع کیا اور کہا کہ ABVP کو ان کے بارے میں فیصلہ سنانے کا اخلاقی اختیار نہیں ہے۔
ہری پرساد نے عمر خالد کو ’’قوم پرست‘‘ قرار دیتے ہوئے ABVP پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے تنظیم کی جانب سے قوم پرستی کے سوال پر بات کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے ناتھورام گوڈسے کا حوالہ دیا اور کہا کہ مہاتما گاندھی کے قتل میں ملوث شخص کی حمایت کرنے والے افراد کو عمر خالد کے بارے میں قوم پرستی پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔
کانگریس رہنما کے بیان کے بعد معاملہ مزید سیاسی رنگ اختیار کرگیا ہے۔ ایک طرف ABVP کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی کیمپس کو حساس سیاسی بیانیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مختلف خیالات اور سیاسی موضوعات پر بحث کو صرف اختلاف رائے کی بنیاد پر روکا نہیں جانا چاہیے۔
عمر خالد سے متعلق ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ کا معاملہ اب یونیورسٹی پروگرام سے آگے بڑھ کر آزادی اظہار، تعلیمی آزادی، قومی سلامتی اور کیمپس میں سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک وسیع بحث میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اسکریننگ پہلے ہی ملتوی کی جاچکی ہے، جبکہ ABVP کی جانب سے مرکزی حکومت سے مستقل پابندی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔



