سرورققومی خبریں

چھ سال تہاڑ جیل میں؛ عمر خالد نے سنائی قید کی ایک دن کی درد بھری داستان

چھ سالہ قید میں وقت، تنہائی اور امید کی کہانی

نئی دہلی، 14 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی کی تہاڑ جیل میں گزشتہ چھ برس سے قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے سابق طالب علم رہنما عمر خالد نے اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے نام ایک خط میں جیل میں گزرنے والے ایک عام دن کی تفصیل بیان کی ہے۔

عمر خالد نے اپنی تحریر میں صبح 6 بجے قیدیوں کی گنتی سے شروع ہونے والے دن سے لے کر رات کو نیند آنے تک کے معمولات کا ذکر کیا۔ انہوں نے جیل میں مشقت کرنے والے قیدیوں، محدود فون کالز، اخبارات میں نوجوانوں کے احتجاج کی خبروں، دو بلیوں سے اپنی قربت، موسموں کی تبدیلی، تنہائی اور رات کے وقت سانس لینے میں پیش آنے والی دشواریوں کا بھی تذکرہ کیا۔ان کے خط کا ایک اقتباس دی کوئنٹ میں شائع ہوا۔

صبح 6 بجے گنتی سے دن کا آغاز

عمر خالد کے مطابق تہاڑ جیل میں ان کا دن صبح 6 بجے قیدیوں کی گنتی سے شروع ہوتا ہے۔ وارڈن قیدیوں کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے نام اور تعداد چیک کرتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ وہ نیند میں ہی ہاتھ ہلا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ زندہ اور موجود ہیں، تاکہ دوبارہ سو سکیں۔ کچھ دیر بعد وہ خواب اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔

اسی دوران جیل کے آس پاس سے صبح کی دعاؤں اور بھجن کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ان میں ایک دعا کے الفاظ بھی شامل ہوتے ہیں: ’’اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نہ‘‘۔عمر خالد کے مطابق اس کے ساتھ ہی جیل میں ایک اور دن کی سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں۔

عمر خالد نے جیل کی زندگی کے ایک غیر معمولی پہلو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتاری سے قبل وہ چھپکلیوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنا بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

تاہم جیل میں طویل عرصہ گزارنے کے دوران انہیں اپنی کوٹھری میں موجود چھپکلیوں اور دیگر رینگنے والے جانداروں کے ساتھ رہنے کی عادت ہوگئی۔

ان کے مطابق وقت کے ساتھ انسان ایسے ماحول میں بھی جینے کے طریقے سیکھ لیتا ہے اور یہی جاندار تنہائی کے دوران کسی حد تک اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

جیل کی زندگی میں عمر خالد کے لیے دو بلیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریر میں شیام لال اور شلپا نامی دو بلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں گزشتہ چھ برس کے دوران اپنا ’’دو بہترین دوست‘‘ قرار دیا۔

صبح تقریباً 8 بجے جیل میں مشقت کرنے والے قیدی اپنی ذمہ داریوں کے لیے جیل فیکٹری کا رخ کرتے ہیں۔

عمر خالد نے لکھا کہ تہاڑ جیل کے اندر زیادہ تر کام قیدی ہی کرتے ہیں اور یہی لوگ بنیادی طور پر جیل کے روزمرہ نظام کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے جیل کو ’’شہر کے اندر ایک شہر‘‘ قرار دیا، جہاں اپنی سرگرمیاں اور معمولات ہیں، لیکن قیدی اپنی مرضی سے اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے۔

جیل میں اخبارات ملنے کے بعد عمر خالد ملک میں ہونے والے واقعات سے باخبر رہتے ہیں۔انہوں نے خاص طور پر NEET امتحان کے پرچے کے مبینہ لیک کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی خبروں کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایسی خبریں انہیں مایوسی سے باہر نکالتی ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ان خبروں کو پڑھتے ہوئے ان کے اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ کاش کسی طرح ملک کے نوجوانوں کے درمیان موجود احتجاج اور اختلافِ رائے کی توانائی کو قریب سے محسوس کرسکتے۔

عمر خالد نے ملک کی ایک پوری نسل کے مستقبل کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی، تاہم کہا کہ نوجوانوں کی سرگرمیوں نے یہ امید پیدا کی ہے کہ معاشرے میں اب بھی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی حکومت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے بارے میں اپنے سیاسی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 12 برس نے نوجوانوں کو یہ دکھایا ہے کہ ان کے خیال میں یہ قوتیں قوم کی تعمیر کے بجائے اسے نقصان پہنچا رہی ہیں۔

ہفتے میں صرف تین پانچ منٹ کی فون کالز

دوپہر 12 بجے قیدیوں کو دوبارہ اپنی کوٹھریوں میں بند کردیا جاتا ہے اور ایک مرتبہ پھر گنتی ہوتی ہے۔

عمر خالد کے مطابق دوپہر کے کھانے کے بعد وہ اپنی اگلی فون کال کی تیاری کرتے ہیں۔ انہیں ہفتے میں صرف تین پانچ منٹ کی فون کالز کی اجازت ہے۔

انہوں نے لکھا کہ جیل سے باہر رہتے ہوئے انہوں نے کبھی وقت کی قدر اس انداز میں نہیں کی تھی، بالخصوص اپنے عزیزوں سے بات کرنے کے لیے دستیاب چند منٹوں کی۔

ان کے مطابق فون کال سے پہلے وہ اپنے خیالات اور جذبات کو الفاظ میں ڈھالنے کے لیے نوٹس تیار کرتے ہیں تاکہ محدود وقت میں اپنے دوستوں یا اہل خانہ سے زیادہ سے زیادہ بات کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ بات کرنے کے لیے دستیاب وقت کی یہ کمی انسان کو تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔تقریباً 3 بجے قیدیوں کو چائے کے لیے اپنی کوٹھریوں سے باہر آنے کا موقع ملتا ہے۔

عمر خالد کے مطابق اس دوران وہ دوسرے قیدیوں کی زندگی کی کہانیاں سنتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ مختلف حالات انہیں جیل تک کیسے لے کر آئے۔

شام تقریباً 4 بجے چہل قدمی کے دوران وہ جیل کے مختلف حصوں میں موجود قیدیوں کو دیکھتے ہیں۔

کچھ قیدی ورزش کے لیے ریت سے بھری ہوئی Bisleri کی بوتلیں استعمال کرتے ہیں، کچھ مذہبی عقیدے اور دعا کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ بعض قیدی روزانہ عمر قید کی سزا اور اپنی زندگی کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔

کچھ قیدی درختوں سے آم توڑتے ہیں اور بعض زمین پر گرے ہوئے جامن جمع کرتے ہیں۔

شام تقریباً 5 بجے وارڈن دوبارہ قیدیوں کے نام پکارتا ہے اور گنتی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔

عمر خالد کے مطابق اس کے بعد ایک اور دن ختم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ جیل کی یکسانیت میں انسان آہستہ آہستہ وقت کا احساس کھونے لگتا ہے اور دن ایک دوسرے میں مدغم ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ وہ قید میں چھ برس مکمل کرچکے ہیں۔

عمر خالد کے مطابق قید کے ابتدائی دنوں میں وہ وقت کا حساب اپنی پڑھی جانے والی کتابوں اور عدالت میں ہونے والی سماعتوں کے ذریعے رکھتے تھے۔

لیکن کئی برس گزرنے کے بعد اب موسموں کی تبدیلی ان کے لیے وقت گزرنے کی علامت بن گئی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ گرمی کے موسم میں جیل کی کوٹھری جسم اور ذہن دونوں کو انتہائی حد تک آزماتی ہے۔ ایسے حالات میں انسان حالات سے نمٹنے اور زندہ رہنے کے لیے مختلف طریقے تلاش کرتا ہے۔

رات کے وقت عمر خالد کتاب پڑھتے ہیں جبکہ پس منظر میں ریڈیو چلتا رہتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اس دوران ماضی کی یادیں ذہن میں گردش کرتی رہتی ہیں اور بعض اوقات انہیں اداس کردیتی ہیں۔ اس کے باوجود دن کے آخری گھنٹوں میں انہیں ایک عجیب طرح کا سکون محسوس ہوتا ہے۔

وہ اس وقت تک پڑھتے رہتے ہیں جب تک نیند غالب نہ آجائے۔

تاہم بعض راتوں میں شدید گرمی کے باعث وہ نیند سے جاگ جاتے ہیں اور انہیں سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔

’سانس لینے میں دشواری جسمانی تکلیف کو نمایاں کردیتی ہے‘

عمر خالد نے سانس لینے میں دشواری کے تجربے کو تفصیل سے بیان کیا۔

ان کے مطابق عام حالات میں سانس لینا ایک غیر محسوس اور خودکار عمل ہے، لیکن جب سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے تو انسان اپنے جسم کے اس عمل کو شدت سے محسوس کرنے لگتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ سانس کی یہ شدید تکلیف دوسروں کو نظر نہیں آتی، لیکن متاثرہ شخص کے لیے یہ ایک انتہائی تکلیف دہ تجربہ ہوتی ہے۔

عمر خالد کے مطابق جیل میں انسان کو وقت کے ساتھ اپنے جسم اور طبی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سانس کو معمول پر لانے کے لیے انہیں جسمانی تکنیکوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ سانس لینے میں ناکامی کا احساس بیک وقت گھبراہٹ بھی پیدا کرتا ہے اور انہیں ایک مشکل ذہنی کیفیت کی طرف لے جاتا ہے۔

’میں نے اپنی تیس کی دہائی کا زیادہ تر حصہ قید میں گزار دیا‘

سانس لینے میں دشواری اور گھبراہٹ کی کیفیت کے دوران عمر خالد نے اپنی طویل قید پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا:

’’آخر ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ میں نے اپنی تیس کی دہائی کا زیادہ تر حصہ قید میں گزار دیا؟‘‘

انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا جاری ناانصافی کسی کے لیے کوئی معنی رکھتی ہے اور کیا یہ ملک کے ’’مقدس ایوانوں‘‘ میں انصاف کے ذمہ دار افراد کو ذرا بھی متاثر کرتی ہے۔

بے چینی کی دوا تلاش کرتے رہے، پھر وارڈن نے جگا دیا

عمر خالد نے بتایا کہ ایک رات انہیں اپنی بے چینی کی دوا نہیں مل رہی تھی۔ انہوں نے اس کے باوجود دوبارہ سونے کی کوشش کی۔

جب وہ بالآخر نیند کی طرف جانے لگے تو وارڈن کی آواز نے انہیں جگا دیا:

’’خالد، اٹھو… ہاتھ ہلاؤ۔‘‘

یوں تہاڑ جیل میں ان کی ایک اور رات ختم ہوئی اور ایک نئے دن کی گنتی شروع ہوگئی۔

عمر خالد کو 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، UAPA کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

وہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران ایک نمایاں طالب علم کارکن تھے۔

دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں عمر خالد اور کارکن شرجیل امام سمیت متعدد افراد پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ استغاثہ نے ان پر فسادات کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ ملزمان ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔

عمر خالد کی ضمانت کی درخواستیں متعدد مرتبہ مسترد ہوچکی ہیں۔ 5 جنوری 2026 کو سپریم کورٹ نے کہا کہ UAPA کے تحت پہلی نظر میں مقدمہ موجود ہے اور اس مرحلے پر انہیں ضمانت پر رہا کرنے کی بنیاد نہیں بنتی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button