
کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی دوسرے شخص کو جمائی لیتے دیکھا اور چند لمحوں بعد آپ کو بھی جمائی آنے لگی؟ حتیٰ کہ بعض اوقات صرف جمائی کے بارے میں پڑھنے، اس کا ذکر سننے یا کسی کو جمائی لیتے ہوئے دیکھنے سے بھی انسان کے اندر جمائی لینے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ عام انسانی تجربہ ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود دماغی عمل طویل عرصے سے سائنس دانوں کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے اور دماغ کا کون سا حصہ اس ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ اشارہ ملا ہے کہ متعدی جمائی کا تعلق دماغ کے اس حصے کی اعصابی تحریک پذیری سے ہوسکتا ہے جو انسانی حرکات اور رویوں کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
متعدی جمائی کیا ہے؟
جب ایک شخص دوسرے فرد کو جمائی لیتے ہوئے دیکھتا ہے اور اس کے بعد خود بھی جمائی لینے لگتا ہے تو اسے عام طور پر Contagious Yawning یعنی متعدی جمائی کہا جاتا ہے۔
یہ کسی وائرس یا بیماری کی طرح متعدی نہیں ہوتی۔ یہاں ’’متعدی‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص کا عمل دوسرے شخص میں اسی طرح کا خودکار ردعمل پیدا کرسکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ عمل Echo-phenomena (ایکوفینومینا) سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں انسان غیر ارادی طور پر دوسرے فرد کے کسی عمل، حرکت یا آواز کی نقل کرنے لگتا ہے۔
دماغ کا کون سا حصہ جمائی کے عمل سے جڑا ہے؟
برطانیہ کی University of Nottingham سے وابستہ محققین نے متعدی جمائی کے دوران دماغی سرگرمی اور اعصابی تحریک پذیری کا جائزہ لیا۔
تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا تھا کہ کسی دوسرے شخص کو جمائی لیتے ہوئے دیکھنے کے بعد ہمارے اندر جمائی لینے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے اور اسے روکنے کی صلاحیت میں افراد کے درمیان فرق کیوں ہوتا ہے۔
محققین نے خاص طور پر دماغ کے اس حصے کی فعالیت پر توجہ دی جو انسانی حرکات کو کنٹرول کرنے اور موٹر رویوں سے متعلق ہے۔
نتائج سے یہ اشارہ ملا کہ کسی شخص میں متعدی جمائی لینے کی خواہش اس کے دماغ کی متعلقہ حصے کی cortical excitability یعنی اعصابی تحریک پذیری سے وابستہ ہوسکتی ہے۔
36 رضاکاروں پر تحقیق کیسے کی گئی؟
تحقیق میں 36 رضاکاروں کو شامل کیا گیا۔ انہیں ایسے حالات میں دیکھا گیا جب وہ دوسرے افراد کو جمائی لیتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
شرکا کو مختلف ہدایات دی گئیں۔ کچھ افراد کو کہا گیا کہ اگر انہیں جمائی آئے تو وہ اسے آنے دیں، جبکہ دوسرے افراد سے کہا گیا کہ وہ جمائی کو روکنے کی کوشش کریں۔
اس طریقے سے سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ کسی شخص میں جمائی لینے کی خواہش اور اسے روکنے کی صلاحیت کے درمیان دماغی سرگرمی کا کیا تعلق ہے۔
تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ افراد میں متعدی جمائی کی شدت یکساں نہیں تھی۔ بعض لوگوں میں دوسرے شخص کو دیکھ کر جمائی لینے کا رجحان زیادہ تھا، جبکہ کچھ افراد اسے نسبتاً آسانی سے روک سکتے تھے۔
دماغ کی تحریک پذیری کا کیا تعلق ہے؟
محققین کے مطابق دماغ کے مخصوص حصے میں cortical excitability اس بات پر اثر انداز ہوسکتی ہے کہ انسان کسی دوسرے شخص کے عمل کا خودکار طور پر کتنا ردعمل دیتا ہے۔
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو دماغ کے بعض حصے انسانی حرکات اور ردعمل کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان حصوں کی تحریک پذیری مختلف ہو تو کسی شخص کے اندر دوسروں کی حرکات کی نقل کرنے یا اس سے متاثر ہونے کا رجحان بھی مختلف ہوسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ہی ماحول میں موجود دو افراد میں سے ایک شخص کو بار بار جمائی آسکتی ہے جبکہ دوسرا شخص اس سے تقریباً متاثر نہیں ہوتا۔
کیا دماغی تحریک میں تبدیلی سے جمائی روکی جاسکتی ہے؟
تحقیق میں Transcranial Magnetic Stimulation (TMS) جیسی تکنیک کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے ذریعے دماغ کے مخصوص حصے کی سرگرمی یا تحریک پذیری میں تبدیلی کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
محققین نے اس پہلو کو یہ سمجھنے کے لیے استعمال کیا کہ دماغ کی تحریک پذیری میں تبدیلی سے متعدی جمائی کے فطری رجحان پر کیا اثر پڑتا ہے۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ اس تحقیق کا مقصد عام لوگوں کے لیے جمائی روکنے کا کوئی علاج تجویز کرنا نہیں تھا۔ بلکہ سائنس دان اس عمل کے ذریعے دماغ کے بنیادی اعصابی نظام کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مرگی اور آٹزم سے اس تحقیق کا کیا تعلق ہے؟
محققین کا کہنا تھا کہ متعدی جمائی کا تعلق ایسے خودکار رویوں سے ہوسکتا ہے جو Echo-phenomena کے وسیع تر تصور سے مشابہ ہیں۔
ایکو فینومینا میں بعض افراد غیر ارادی طور پر دوسرے شخص کے الفاظ، آوازوں یا حرکات کی نقل کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے مظاہر مختلف اعصابی اور نفسیاتی حالات کے تناظر میں بھی زیرِ مطالعہ رہے ہیں۔
اسی لیے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ متعدی جمائی جیسے نسبتاً عام اور آسانی سے مشاہدہ کیے جانے والے عمل کا مطالعہ دماغ کے زیادہ پیچیدہ خودکار رویوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
تاہم صرف جمائی آنا کسی شخص میں آٹزم، مرگی یا کسی دوسری بیماری کی علامت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ہم آخر جمائی کیوں لیتے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید تحقیق کے باوجود سائنس دان ابھی تک جمائی کے بنیادی مقصد کے بارے میں مکمل طور پر متفق نہیں ہیں۔
جمائی کے بارے میں کئی سائنسی نظریات موجود ہیں۔ ماضی میں اسے تھکن، نیند یا جسم میں آکسیجن کی کمی سے جوڑا جاتا رہا، لیکن جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
جمائی انسانوں کے ساتھ ساتھ کئی جانوروں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ اس لیے ماہرین اسے صرف نیند یا تھکن سے وابستہ ایک سادہ ردعمل نہیں سمجھتے۔
دوسروں کو دیکھ کر جمائی کیوں آتی ہے؟
متعدی جمائی کے بارے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کسی دوسرے شخص کی جمائی دیکھنے سے ہمارے دماغ میں بھی ایسا ہی ردعمل کیوں پیدا ہوتا ہے۔
ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ انسانی دماغ دوسرے افراد کے رویوں اور حرکات کو مسلسل observe کرتا ہے۔ بعض حالات میں دوسرے شخص کی حرکت ہمارے دماغ میں اسی طرح کے موٹر ردعمل سے متعلق سرگرمی پیدا کرسکتی ہے۔
اسی وجہ سے کسی کو جمائی لیتے ہوئے دیکھنا، اس کے بارے میں سوچنا یا بعض اوقات صرف اس کا ذکر سننا بھی کچھ افراد میں جمائی کی خواہش پیدا کرسکتا ہے۔
کیا ہر شخص کو متعدی جمائی آتی ہے؟نہیں۔ متعدی جمائی کا رجحان ہر شخص میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔
کسی شخص کو دوسرے فرد کی جمائی دیکھنے کے فوراً بعد جمائی آسکتی ہے، جبکہ دوسرا شخص بالکل متاثر نہیں ہوتا۔ اس فرق کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے دماغی سرگرمی، اعصابی تحریک پذیری اور انسانی رویوں کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔یہی انفرادی فرق اس تحقیق کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔
تحقیق سے مستقبل میں کیا مدد مل سکتی ہے؟
تحقیق سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر سائنس دان یہ بہتر طور پر سمجھنے میں کامیاب ہوجائیں کہ دماغ کے مخصوص حصوں کی تحریک پذیری انسانی خودکار رویوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے تو مستقبل میں دیگر اعصابی یا رویوں سے متعلق مسائل کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف ناٹنگھم سے وابستہ نیورولوجی کے ماہرین نے اس امکان پر توجہ دلائی کہ دماغی تحریک پذیری کو سمجھنا ایسے بعض رویوں کی تحقیق کے لیے مفید ہوسکتا ہے جن پر انسان کا شعوری کنٹرول محدود ہوتا ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ متعدی جمائی خود کوئی بیماری ہے یا اس تحقیق سے فی الحال کسی مخصوص بیماری کا علاج ثابت ہوگیا ہے۔
اس تحقیق سے وابستہ نیورولوجی کے ماہر پروفیسر اسٹیفن جیکسن کے مطابق دماغ کے ان حصوں کی تحریک پذیری کو سمجھنا اہم ہوسکتا ہے جو قدرتی طور پر پیدا ہونے والے بعض رویوں میں کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ نفسیات کے ماہر ڈاکٹر اینڈریو گیلپ نے بھی جمائی اور انسانی سماجی رویوں کے درمیان تعلق پر تحقیق کی ہے۔
ان کے مطابق جمائی کی بنیادی وجہ اب بھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے، تاہم متعدد مطالعات میں انسانی رویوں اور متعدی جمائی کے درمیان تعلق کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
کیا جمائی صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟
عام طور پر جمائی آنا ایک قدرتی انسانی عمل ہے اور صرف جمائی آنے کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
نیند پوری نہ ہونا، تھکن، بوریت یا آرام کی ضرورت جیسے کئی عام عوامل کے دوران جمائی زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے شخص کو جمائی لیتے دیکھ کر جمائی آنا بھی عام انسانی ردعمل ہوسکتا ہے۔
البتہ اگر کسی شخص کو غیر معمولی طور پر بہت زیادہ جمائیاں آ رہی ہوں اور اس کے ساتھ شدید غنودگی، سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی، سینے میں درد یا دیگر غیر معمولی علامات موجود ہوں تو طبی ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
جمائی ایک بظاہر معمولی انسانی عمل ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود دماغی نظام خاصا پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ دوسروں کو دیکھ کر جمائی لینا، جسے متعدی جمائی کہا جاتا ہے، دماغ کی اعصابی تحریک پذیری اور انسانی حرکات کے کنٹرول سے تعلق رکھ سکتا ہے۔
36 رضاکاروں پر کیے گئے تجربے نے محققین کو اس بات کے مزید شواہد فراہم کیے کہ دماغ کے مخصوص حصوں کی فعالیت اس بات پر اثرانداز ہوسکتی ہے کہ کوئی شخص دوسرے فرد کی جمائی سے کس حد تک متاثر ہوتا ہے۔
تحقیق کے نتائج Current Biology نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئے تھے۔ سائنس دانوں کے لیے اب بھی یہ سوال اہم ہے کہ انسان آخر بنیادی طور پر جمائی کیوں لیتا ہے اور دوسروں کی جمائی ہمارے دماغ میں اتنا فوری ردعمل کیوں پیدا کرتی ہے۔



