بین الاقوامی خبریںسرورق

’السلام علیکم‘ اور ’ان شاء اللہ‘ والی ویڈیو کے بعد آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا تبادلہ

بشریٰ بانو نے سول سروسز تک اپنے سفر کی ویڈیو میں ’السلام علیکم‘، ’ان شاء اللہ‘ اور ’جزاک اللہ‘ کہا تھا۔

کولکاتا، 15 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) مغربی بنگال کیڈر کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا ریاستی حکومت نے تبادلہ کردیا ہے۔ کھڑگ پور میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر ذمہ داریاں انجام دینے والی بشریٰ بانو کو اب اسٹیٹ آرمڈ پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ان کی ایک ویڈیو پر ایک دائیں بازو کی تنظیم کی جانب سے حکومت سے شکایت کی گئی تھی۔

ریاستی حکومت کی جانب سے بشریٰ بانو کے تبادلے کا حکم 14 ستمبر کو جاری کیا گیا۔ ان کی جگہ پارتھ گھوش کو کھڑگ پور کا ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مقرر کیا گیا ہے۔ پارتھ گھوش اس سے قبل چندن نگر پولیس کمشنریٹ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

بشریٰ بانو کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں انہوں نے سول سروسز میں شامل ہونے تک اپنے سفر کے بارے میں تفصیل سے بات کی تھی۔ ویڈیو کے آغاز میں انہوں نے ’السلام علیکم‘ کہا، جبکہ گفتگو کے دوران ’ان شاء اللہ‘ کا استعمال کیا اور اختتام پر ’جزاک اللہ‘ کہا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد ہندو لیگل فنڈ نامی تنظیم نے مغربی بنگال کے ہوم سیکریٹری سے شکایت کی۔ تنظیم نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری عہدے پر موجود افسر کو عوامی رابطے کے دوران غیر جانب داری برقرار رکھتے ہوئے قومی نوعیت کے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ بشریٰ بانو نے ویڈیو میں ’وندے ماترم‘ یا ’جے ہند‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔

ہندو لیگل فنڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے بشریٰ بانو کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔ تاہم، ریاستی حکومت کی جانب سے جاری تبادلے کے حکم میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بشریٰ بانو کی نئی تعیناتی مذکورہ شکایت کی وجہ سے کی گئی ہے۔

بشریٰ بانو کی ویڈیو میں ان کے سول سروسز تک پہنچنے کے سفر پر خاص توجہ دی گئی تھی۔ وہ سول سروسز میں آنے سے قبل سعودی عرب میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کرچکی ہیں۔ انہوں نے اپنی تیاری کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی (RCA) سے ملنے والی سہولیات کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ سول سروسز کی تیاری میں انہیں مطالعاتی مواد، ٹیسٹ سیریز اور لائبریری تک رسائی سمیت مختلف سہولیات سے فائدہ ہوا۔ ان کی ویڈیو کا بنیادی موضوع ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی سے سول سروسز تک پہنچنے کا سفر تھا۔

2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا تعلق مغربی بنگال کیڈر سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعیناتی ہوگلی رورل میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر ہوئی تھی۔ رواں سال جون میں انہیں ترقی دے کر ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بنایا گیا تھا اور اس کے بعد انہیں کھڑگ پور میں تعینات کیا گیا۔

تازہ حکم کے بعد اب بشریٰ بانو اسٹیٹ آرمڈ پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ کے عہدے پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ ان کے تبادلے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ویڈیو میں استعمال کیے گئے الفاظ اور ایک سرکاری افسر کی عوامی گفتگو سے متعلق مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button