سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

تخم السی کے یومیہ فوائد-ڈاکٹر امۃ البریرہ فہمیدہ سفیان دہلی

دل کی صحت،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کے لیے کیسے مفید ہے؟

تخم السی، جسے انگریزی میں Flaxseed کہا جاتا ہے، ایک چھوٹا مگر غذائیت سے بھرپور بیج ہے جسے متوازن غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ، غذائی فائبر اور lignans سمیت کئی اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ یہی خصوصیات اسے دل کی صحت، کولیسٹرول مینجمنٹ اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق صحت بخش غذا میں شامل کرنے کی وجہ بنتی ہیں۔

تخم السی میں پائے جانے والے اومیگا 3 فیٹی ایسڈ کی ایک قسم Alpha-Linolenic Acid یا ALA ہے۔ یہ پودوں سے حاصل ہونے والا اومیگا 3 فیٹی ایسڈ ہے اور انسانی غذا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کو عمومی طور پر قلبی صحت کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے، تاہم تخم السی کو کسی بیماری کا علاج یا ہارٹ اٹیک اور فالج سے مکمل تحفظ کا ذریعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

تخم السی کی ایک اہم خصوصیت اس میں موجود غذائی فائبر ہے۔ فائبر نظامِ ہاضمہ کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے اور آنتوں کی معمول کی حرکت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ غذا میں مناسب مقدار میں فائبر شامل کرنا قبض سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ صحت مند غذائی معمولات کا حصہ بھی ہے۔ تخم السی کو دلیے، دہی، سلاد یا دیگر غذاؤں میں شامل کرکے روزمرہ خوراک میں فائبر کی مقدار بڑھائی جا سکتی ہے۔

کولیسٹرول کے حوالے سے بھی تخم السی کا استعمال غذائی تحقیق کا موضوع رہا ہے۔ فائبر سے بھرپور غذائیں صحت مند کولیسٹرول لیول برقرار رکھنے والی غذا کا حصہ بن سکتی ہیں۔ تاہم اگر کسی شخص کا کولیسٹرول زیادہ ہو تو صرف تخم السی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ڈاکٹر کی ہدایت، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور ضرورت پڑنے پر تجویز کردہ ادویات کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔

تخم السی میں lignans بھی پائے جاتے ہیں جو پودوں سے حاصل ہونے والے مرکبات ہیں اور ان میں antioxidant خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں oxidative stress سے متعلق عمل کے خلاف دفاعی نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اقسام کے بیج، پھل، سبزیاں اور دیگر پودوں سے حاصل ہونے والی غذائیں صحت مند خوراک میں اہم مقام رکھتی ہیں۔

بلڈ پریشر کے حوالے سے بھی تخم السی کے ممکنہ فوائد پر تحقیق کی گئی ہے۔ تاہم کسی ایک غذائی چیز کو ہائی بلڈ پریشر کا علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے کے لیے مجموعی طرز زندگی، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، مناسب وزن اور نمک کے استعمال پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے۔

تخم السی کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اسے پیس کر دہی، دلیے یا اوٹس میں شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ سلاد اور بعض گھریلو بیکری مصنوعات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے افراد پسے ہوئے بیج کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس شکل میں اسے غذا کے ساتھ استعمال کرنا آسان ہوتا ہے۔

غذا میں فائبر کی مقدار اچانک بڑھانے سے بعض افراد کو گیس، پیٹ پھولنے یا دیگر ہاضمے کی شکایات ہو سکتی ہیں۔ اس لیے تخم السی سمیت فائبر والی غذاؤں کو بتدریج خوراک کا حصہ بنانا اور مناسب مقدار میں پانی پینا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صحت مند دل کے لیے صرف کسی ایک غذا یا بیج پر انحصار کرنے کے بجائے مجموعی غذائی عادات زیادہ اہم ہیں۔ سبزیاں، پھل، مکمل اناج، دالیں، مناسب پروٹین اور صحت مند چکنائیوں پر مشتمل متوازن خوراک کے ساتھ جسمانی سرگرمی اور بلڈ پریشر و کولیسٹرول کی باقاعدہ نگرانی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگر کوئی شخص خون پتلا کرنے والی ادویات، بلڈ پریشر یا ذیابیطس کی دوا استعمال کر رہا ہو یا کسی دائمی بیماری کا علاج کرا رہا ہو تو خوراک میں نمایاں تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا مستند ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔

تخم السی کو اس لیے صحت بخش غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے کہ اس میں اومیگا 3، فائبر اور دیگر غذائی مرکبات موجود ہیں۔ تاہم اسے ہارٹ اٹیک، فالج، ہائی کولیسٹرول یا بلڈ پریشر کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا اور مجموعی طرز زندگی کو ترجیح دینا زیادہ اہم ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button