بین ریاستی خبریں

کرناٹک اسمبلی میں وندے ماترم دو بند کے بعد روک دیا گیا، بی جے پی ارکان نے مکمل گیت پڑھا

”سرکاری طور پر دو بند چلائے گئے، بی جے پی ارکان نے باقی بند خود پڑھ دیے۔“

بنگلورو، 21 ستمبر: (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کرناٹک اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں پیر کو وندے ماترم مکمل نہ چلائے جانے پر بی جے پی اور حکومت کے درمیان اختلاف سامنے آیا۔ ایوان میں وندے ماترم کی سرکاری ریکارڈنگ پہلے دو بند کے بعد روک دی گئی، جس کے بعد بی جے پی ارکان نے گیت کے باقی بند خود پڑھنا شروع کر دیے۔

کرناٹک قانون ساز اسمبلی کا تین روزہ خصوصی اجلاس پیر سے شروع ہوا ہے۔ اجلاس میں ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کے علاوہ مغربی گھاٹ سے متعلق کستوریرنگن رپورٹ کی سفارشات اور ان کے ممکنہ اثرات پر بحث کی جانی ہے۔

اجلاس کے آغاز پر تمام ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور وندے ماترم کی ریکارڈنگ چلائی گئی۔ تاہم پہلے دو بند کے بعد گیت روک دیا گیا۔ اس کے بعد اسپیکر جی ایس پاٹل نے حال ہی میں انتقال کرنے والی اہم شخصیات کے لیے تعزیتی کارروائی شروع کی۔ وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی سابق رکن اسمبلی آر بی شریانی ناور کو خراج عقیدت پیش کیا، جن کا 27 اگست کو انتقال ہوا تھا۔

اس دوران بی جے پی ارکان نے وندے ماترم کی مکمل ادائیگی نہ ہونے پر اعتراض کیا اور گیت کے باقی بند خود پڑھنا شروع کر دیے۔ بعض ارکان نے گیت زبانی یادداشت سے پڑھا جبکہ دیگر نے تحریری نسخوں کی مدد لی۔ گیت مکمل کرنے کے بعد اپوزیشن ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

قانون ساز کونسل میں بھی اسی معاملے پر صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ بی جے پی ارکان نے وندے ماترم کے باقی بند پڑھنا جاری رکھے، جبکہ کونسل کے چیئرمین سلیم احمد نے معمول کے مطابق آئین کا دیباچہ پڑھنا شروع کیا۔ بعد ازاں بی جے پی ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مکمل وندے ماترم نہ چلانے پر اعتراض کیا۔

کونسل میں اس معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرم بحث بھی ہوئی۔ بی جے پی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ وندے ماترم کو محدود کرنا ایوان کی توہین کے مترادف ہے، جبکہ حکمراں جماعت کے ارکان نے کہا کہ حکومت نے سرکاری پروگراموں کے لیے طے شدہ ہدایات کے مطابق ہی گیت کی ادائیگی کرائی ہے۔

کرناٹک حکومت نے 8 ستمبر کو جاری حکم کے تحت ریاستی حکومت کے پروگراموں اور سرکاری تقریبات میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گانے یا چلانے کی ہدایت دی ہے۔ صدر، نائب صدر، وزیراعظم یا گورنر کی شرکت والے پروگراموں کو اس حکم سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

وندے ماترم کی مکمل ادائیگی کو محدود کرنے کا حکومتی فیصلہ کرناٹک ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا جا چکا ہے۔ ایک عرضی میں ریاستی حکومت کے اس حکم کے قانونی اختیار پر سوال اٹھایا گیا ہے اور مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

خصوصی اجلاس کے دوران اپوزیشن نے وندے ماترم کے معاملے پر احتجاج کیا، جبکہ حکومت نے ایوان میں خشک سالی اور مغربی گھاٹ سے متعلق کستوریرنگن رپورٹ جیسے اہم معاملات پر بحث جاری رکھنے پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button