تلنگانہ کی خبریں

تھیٹر میں فلم سے پہلے 22 منٹ اشتہارات،ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن نے 75 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا

حیدرآباد، 28 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) فلم شروع ہونے سے پہلے طویل اشتہارات دکھانا حیدرآباد کے ایک تھیٹر کو مہنگا پڑ گیا۔ ایک فلم بین کی شکایت پر ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن نے تھیٹر کمپنی کو مجموعی طور پر 75 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے 25 ہزار روپے شکایت کنندہ کو معاوضے کے طور پر دینے جبکہ باقی 50 ہزار روپے ڈسٹرکٹ کنزیومر ویلفیئر فنڈ میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ معاملہ جون 2025 کا ہے، جب ایک 33 سالہ شخص نے اپنے دوست کے ساتھ فلم ’کبیرا‘ (Kubera) دیکھنے کے لیے دو ٹکٹ بک کیے تھے۔ فلم رات 10 بج کر 35 منٹ پر شروع ہونے والی تھی۔ شکایت کنندہ کے مطابق وہ اور اس کا دوست تقریباً 10 بج کر 30 منٹ پر تھیٹر میں اپنی نشستوں پر پہنچ گئے تھے۔

شکایت کے مطابق مقررہ وقت کے قریب فلم شروع ہونے کے بجائے تھیٹر میں پہلے تجارتی اشتہارات اور فلم کے ٹریلرز دکھائے جانے لگے۔ اس صورتحال سے ناظرین کو یہ توقع رہی کہ چند منٹ میں فلم شروع ہوجائے گی، تاہم اشتہارات اور ٹریلرز کا سلسلہ جاری رہا۔

فلم بین کے مطابق یہ سلسلہ رات 10 بج کر 52 منٹ تک جاری رہا، یعنی مقررہ وقت کے مقابلے میں فلم کی اسکریننگ تقریباً 22 منٹ تاخیر سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد تھیٹر میں وزارت اطلاعات و نشریات کی ہدایات کے تحت دکھائے جانے والے عوامی بیداری سے متعلق پیغامات بھی نشر کیے گئے اور اس کے بعد فلم شروع ہوئی۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ تاخیر کے باعث اسے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ تقریباً رات 3 بجے گھر پہنچا، جس سے اس کے ذاتی معمولات اور دیگر مصروفیات متاثر ہوئیں۔ اس نے اس معاملے میں صارف کمیشن سے مالی معاوضے کی درخواست کی۔

ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن نے 11 ستمبر کے اپنے حکم میں تھیٹر کمپنی کو شکایت کنندہ کو 25 ہزار روپے ادا کرنے کی ہدایت کی۔ اس رقم میں تکلیف اور پریشانی کے ازالے کے ساتھ قانونی اخراجات بھی شامل کیے گئے۔ کمیشن نے مزید 50 ہزار روپے ڈسٹرکٹ کنزیومر ویلفیئر فنڈ میں جمع کرانے کا حکم دیا تاکہ اس طرح کے عمل کی روک تھام کی جاسکے۔

کمیشن کے صدر وکانتی نرسمہا راؤ اور رکن سوما والا نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عوامی بیداری سے متعلق فلموں اور پیغامات کی اسکریننگ کے لیے مقررہ مدت کا بھی حوالہ دیا۔ حکم کے مطابق منظور شدہ فلموں یا پبلک سروس اویئرنیس (PSA) فلموں کی اسکریننگ کی مدت زیادہ سے زیادہ دو منٹ تک محدود کی گئی ہے۔

کمیشن نے اپنے حکم میں کہا کہ تھیٹر انتظامیہ نے تجارتی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے مقررہ ضوابط کے برخلاف طویل مدت تک تجارتی اشتہارات نشر کیے، جس سے فلم دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدنے والے صارف کو اضافی انتظار کرنا پڑا۔

دوسری جانب تھیٹر کمپنی نے اپنے دفاع میں کہا کہ اشتہارات، پبلک سروس اعلانات، تجارتی مواد اور فلم ٹریلرز دکھانا کاروبار کرنے کے اس کے آئینی حق کا حصہ ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ عوامی بیداری کے پیغامات تعلیم، خواندگی، زراعت، دیہی ترقی، خواتین اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود اور سوچھ بھارت جیسے موضوعات سے متعلق تھے اور انہیں ناظرین کی موجودگی میں فلم سے قبل دکھایا جاتا تھا۔

تاہم صارف کمیشن نے اشتہارات اور ٹریلرز کی اسکریننگ سے متعلق ضوابط کا جائزہ لینے کے بعد تھیٹر کمپنی کو تاخیر کے لیے ذمہ دار قرار دیا۔ کمیشن کے حکم کے مطابق شکایت کنندہ کو معاوضہ اور قانونی اخراجات کی رقم ادا کرنے کے علاوہ 50 ہزار روپے صارفین کے بہبود فنڈ میں جمع کرانا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button