تلنگانہ کی خبریں

آئین اور مساوی حقوق پر یقین رکھنے والے ایک پلیٹ فارم پر آئیں:مولانا سجاد نعمانی

نیرل (ای میل): نعمانی کی سرپرستی میں دو روزہ تربیتی کیمپ منعقد کیا گیا، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے آنے والے سینکڑوں افراد، سماجی کارکنوں، دانشوروں اور نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں آئینی حقوق، سماجی برابری، باہمی بھائی چارے، جمہوری اقدار اور معاشرے میں صحت مند طرز زندگی سے متعلق مختلف موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ معاشرے میں بڑی تبدیلی محض خواہش سے نہیں آتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد، حکمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مذہب یا ذات کے خلاف لڑائی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور مظلوم افراد کے ساتھ کھڑا ہونا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

ملک کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سجاد نعمانی نے نوجوان نسل کے کردار پر بات کی۔ ان کے مطابق نوجوانوں، خصوصاً Gen-Z، نے عوامی بحث کو ہندو مسلم تنازعات سے آگے لے جاتے ہوئے تعلیم، روزگار، بدعنوانی، خواتین کے تحفظ، طلباء اور کسانوں جیسے مسائل کی طرف متوجہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے ملک کے لیے ایک اہم تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔

مولانا سجاد نعمانی نے آئین کو ملک کے تمام طبقات کے حقوق کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری اور طبقے کو اپنی شناخت برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام اور نوجوانوں نے آئین کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی ہے اور آئینی اقدار کو مضبوط رکھنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے انتخابی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف مذہبی یا فرقہ وارانہ تنازعات کو بنیاد بنا کر عوامی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ملک کے سامنے ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور نوجوان نسل مستقبل کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مولانا نعمانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے اور ملک کی بہتری کے لیے برابری اور آئین پر یقین رکھنے والے تمام افراد کو ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے۔

پروگرام میں دلت برادری اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات، دونوں طبقات کی شکایات اور مستقبل کی توقعات پر بھی گفتگو ہوئی۔ سماجی کارکن اور بھیم آرمی کے چیف ٹرینر بی ایم کامبلے نے کہا کہ دلت شناخت اور اس سے وابستہ سماجی مسائل کو موجودہ حالات کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تاریخی طور پر ذات پات کی تقسیم اور سماجی محرومی کے موضوعات پر بھی گفتگو کی۔

بی ایم کامبلے نے اپنے خطاب میں اسلام کی ہندوستان میں آمد اور پھیلاؤ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ نظریات میں طاقت ہوتی ہے۔ انہوں نے آئین میں تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق کی ضمانت کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ پالیسی معاملات، بشمول یکساں سول کوڈ (UCC)، پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے تنظیمی سطح پر نوجوانوں کو زیادہ مواقع دینے اور کارکنوں کو بااختیار بنانے پر زور دیا۔

شیوراجیہ منچ کولہاپور سے وابستہ ایڈووکیٹ سوریاجی پوٹلے نے کہا کہ آئین برابری کا اصول پیش کرتا ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے جمہوری نظام میں انتخابات اور ووٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سماجی مسائل پر مسلم معاشرے سمیت تمام طبقات کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا چاہیے۔

دو روزہ تربیتی کیمپ میں مختلف ریاستوں سے آنے والے شرکا نے معاشرتی امن، باہمی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ مقررین نے خاص طور پر نوجوانوں کی تربیت، سماجی شعور میں اضافے اور آئینی حقوق سے متعلق عوامی آگاہی کو اہم قرار دیا۔ پروگرام کے اختتام پر انتظامی کمیٹی کی جانب سے نور الامین نے تمام مقررین، مہمانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button