
صرف خواتین نہیں، مرد بھی چھاتی کے کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او
چھاتی کا کینسر صرف خواتین تک محدود نہیں، مردوں میں بھی اس کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
جنیوا، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): چھاتی کے کینسر کو عموماً خواتین سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ یہ بیماری مردوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ مردوں میں اس کے کیسز انتہائی کم ہیں، لیکن علامات کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں چھاتی کے کینسر کے تقریباً 99 فیصد کیسز خواتین میں سامنے آتے ہیں، جبکہ مردوں میں اس بیماری کی شرح تقریباً 0.5 سے 1 فیصد ہے۔ کم تعداد کے باوجود مردوں میں چھاتی کے کینسر کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
اکتوبر کو ہر سال چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس مہم کا مقصد لوگوں کو بیماری کی علامات، جلد تشخیص اور بروقت علاج کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ کینسر کی شناخت ابتدائی مرحلے میں ممکن ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق مردوں میں چھاتی کے کینسر کی عام علامات میں چھاتی کے حصے میں گانٹھ یا سختی محسوس ہونا، نپل یا اس کے گرد غیر معمولی تبدیلی، نپل سے رطوبت کا اخراج اور جلد کی ساخت یا شکل میں تبدیلی شامل ہو سکتی ہے۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرانا چاہیے۔
مردوں میں چھاتی کے کینسر کے کیسز کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس بیماری کے بارے میں عمومی آگاہی زیادہ تر خواتین تک محدود رہتی ہے۔ نتیجتاً بعض مرد چھاتی کے حصے میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور طبی معائنہ کرانے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق مردوں میں چھاتی کے کینسر کا علاج بیماری کی قسم اور اس کے مرحلے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے اور بنیادی طور پر وہی علاج کے اصول اختیار کیے جاتے ہیں جو خواتین میں استعمال ہوتے ہیں۔ بیماری کی جلد شناخت ہونے کی صورت میں علاج بروقت شروع کیا جا سکتا ہے، جس سے نتائج بہتر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً 23 لاکھ خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی، جبکہ تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار خواتین اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئیں۔ تاہم مختلف ممالک میں تشخیص، علاج اور بقا کی شرح میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فرق کی اہم وجوہات میں بیماری کی بروقت تشخیص، صحت کی سہولیات تک رسائی اور مؤثر علاج کی دستیابی شامل ہیں۔ ایسے میں چھاتی کے کینسر کے بارے میں درست معلومات عام کرنا اور خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی ممکنہ علامات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔



