
گریٹر نوئیڈا سے دہلی جانے والی بس میں نابالغ سے اجتماعی عصمت دری، ڈرائیور اور کنڈکٹر پر فردِ جرم عائد
نئی دہلی، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز):گریٹر نوئیڈا سے دہلی آنے والی ایک سلیپر بس میں نابالغ طالبہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں تیس ہزاری عدالت نے بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر کے خلاف الزامات طے کر دیے ہیں۔ فاسٹ ٹریک عدالت میں دونوں ملزمان کے خلاف اغوا، غیر قانونی طور پر روکنے، اجتماعی عصمت دری اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (POCSO) ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ کیس کی باقاعدہ سماعت 24 اکتوبر سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 4 اگست 2026 کو پیش آیا، جب مین پوری، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی نابالغ طالبہ نوئیڈا کے سیکٹر 63 میں اپنے ایک رشتہ دار سے ملاقات کے لیے جا رہی تھی۔ راستے میں پاری چوک کے قریب اترنے کے بعد اس نے ایک سلیپر بس کو روک کر ڈرائیور اور کنڈکٹر سے سیکٹر 63 جانے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ الزام ہے کہ دونوں نے اسے بتایا کہ بس اسی سمت جا رہی ہے، جس پر وہ بس میں سوار ہوگئی۔
تفتیش کے دوران پولیس نے بتایا کہ اس وقت بس میں نابالغ کے علاوہ کوئی دوسرا مسافر موجود نہیں تھا۔ الزام ہے کہ بس کے چلنے کے بعد کنڈکٹر نے طالبہ کے ساتھ بدسلوکی کی اور مزاحمت کرنے پر اسے دھمکایا۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد تقریباً 47 کلومیٹر کے سفر کے دوران ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مبینہ طور پر نابالغ کے ساتھ عصمت دری کی اور اسے واقعے کے بارے میں کسی کو بتانے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
پولیس کے مطابق نابالغ کو بعد میں کشمیری گیٹ کے قریب بس سے اتار دیا گیا۔ وہاں سے وہ آٹو رکشہ کے ذریعے پولیس اسٹیشن پہنچی اور واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور بس کی تلاش کی۔
دہلی پولیس نے ستمبر میں تیس ہزاری عدالت میں 398 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں استغاثہ کے تقریباً 50 گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔ پولیس نے ڈرائیور کلدیپ اور کنڈکٹر سندیپ کو مقدمے میں ملزم نامزد کیا ہے۔ عدالت نے 24 ستمبر کو چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا، جبکہ ملزمان کے خلاف متعلقہ تعزیری دفعات اور POCSO ایکٹ کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔
تفتیش میں بس کے حفاظتی انتظامات سے متعلق بھی کئی خامیوں کا انکشاف ہوا۔ پولیس کے مطابق بس میں نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کام نہیں کر رہا تھا، جبکہ کھڑکیوں پر بھاری پردے لگے ہوئے تھے۔ تحقیقات کے دوران بس کے خلاف 11 زیر التوا ٹریفک چالان بھی سامنے آئے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ڈرائیور اور کنڈکٹر کی تقرری سے قبل مطلوبہ پولیس تصدیق نہیں کرائی گئی تھی۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد دہلی پولیس نے دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بس کی شناخت کی اور چند گھنٹوں کے اندر اسے تیمارپور علاقے سے برآمد کر لیا۔ پولیس نے دونوں ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔
اب عدالت کی جانب سے الزامات طے کیے جانے کے بعد مقدمہ باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ 24 اکتوبر سے شروع ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ اپنے گواہوں اور دیگر شواہد عدالت کے سامنے پیش کرے گا، جبکہ ملزمان کو اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔



