سرورققومی خبریں

دہلی کی عدالت کا یوٹیوبر دھروو راٹھی کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم

31 اکتوبر کو اگلی سماعت

نئی دہلی، 17 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)دہلی کی ساکیت عدالت نے یوٹیوبر دھروو راٹھی کے خلاف 2018 میں دائر ہتک عزت کے فوجداری مقدمے میں قابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ شکایت کنندہ وکاس پانڈے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ راٹھی کو بھیجا گیا تازہ سمن ان کی رہائش گاہ بند ہونے کے باعث تعمیل نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 31 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ دھروو راٹھی کی رہائش گاہ بند ہونے کے باعث انہیں تازہ سمن نہیں پہنچایا جا سکا۔ اس سے قبل عدالت نے شکایت کنندہ وکاس پانڈے کو اجازت دی تھی کہ وہ سمن پہنچانے والے اہلکار کے ساتھ جا کر نوٹس کی تعمیل میں مدد کریں۔ تاہم، اس کوشش کے باوجود سمن کی تعمیل نہیں ہو سکی، جس پر عدالت نے دھروو راٹھی کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔

یہ مقدمہ دھروو راٹھی کی ایک ویڈیو سے متعلق ہے، جس کا عنوان ’بی جے پی آئی ٹی سیل پارٹ 2‘ تھا۔ شکایت کنندہ وکاس پانڈے نے الزام لگایا تھا کہ ویڈیو میں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا مواد موجود تھا۔ پانڈے سوشل میڈیا پیج ’آئی سپورٹ نریندر مودی‘ کے بانی ہیں۔

اس ویڈیو کو 2018 میں عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے بھی ری ٹویٹ کیا تھا۔فروری 2024 میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کیجریوال نے اعتراف کیا تھا کہ ویڈیو کو ری ٹویٹ کرنا ان کی غلطی تھی۔ یہ معاملہ کیجریوال کی جانب سے اپنے خلاف ہتک عزت کی کارروائی ختم کرانے کے لیے دائر درخواست سے بھی متعلق رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس سنجیو کھنہ، جو بعد میں چیف جسٹس آف انڈیا بنے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں، اور جسٹس دیپانکر دتا پر مشتمل بنچ نے کیجریوال کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کے خلاف ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر روک لگا دی تھی۔ کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں ان کے خلاف جاری سمن کو منسوخ کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے پہلے اپنے حکم میں کہا تھا کہ مبینہ طور پر ہتک آمیز مواد کو ری ٹویٹ کرنے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 499 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، دھروو راٹھی کے خلاف مقدمے میں 2019 سے سمن کی تعمیل میں بار بار دشواریوں کا سامنا رہا ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ راٹھی کے بھارت سے باہر رہنے کی وجہ سے عدالتی کارروائی متاثر ہوئی۔واضح رہے کہ دھروو راٹھی آسٹریا میں رہائش پذیر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button