
17 سال کا رشتہ ختم:فیس بک عاشق کی محبت میں مبتلا بیوی، شوہر نے خود کرائی شادی
دو بچوں کی ماں کو فیس بک پر ہوا پیار،شوہر نے خود عاشق کے حوالے کردیا
سیتاپور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے ضلع سیتاپور میں ایک غیر معمولی معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں تقریباً 17 سال تک ازدواجی زندگی گزارنے والی خاتون نے فیس بک کے ذریعے رابطے میں آنے والے نوجوان کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خاتون کے شوہر نے اس فیصلے کی مخالفت کرنے کے بجائے اپنی بیوی کو اس کے پسندیدہ شخص کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت دے دی۔ اطلاعات کے مطابق، شوہر خود خاتون کو تحصیل کے دفتر لے کر پہنچا، جہاں ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی گئی۔ بعد ازاں ایک ہنومان مندر میں خاتون اور اس کے فیس بک دوست کی شادی کی رسومات ادا کی گئیں۔ اس واقعے کی خبر علاقے میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، سیتاپور ضلع کی مصریخ تحصیل کے رہائشی وپن بھارگو کی شادی ریکھا نامی خاتون سے 12 مارچ 2009 کو ہوئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں نے کئی سال ایک ساتھ گزارے اور ان کے دو بچے بھی ہوئے۔ اس طرح دونوں کا خاندان قائم ہوا اور زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ان کے ازدواجی رشتے میں تبدیلی آنے لگی۔
بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ریکھا کی فیس بک کے ذریعے امبیڈکر نگر کے رہنے والے راہل نامی نوجوان سے جان پہچان ہوئی۔ ابتدا میں دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر عام گفتگو ہوتی تھی۔ فیس بک پر پیغامات، تبصروں اور لائکس کے ذریعے رابطہ بڑھتا گیا اور آہستہ آہستہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ دوستی بعد میں محبت میں بدل گئی۔
رپورٹس کے مطابق، راہل سے قربت بڑھنے کے بعد ریکھا نے اپنے شوہر وپن اور بچوں کو چھوڑ کر گھر سے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک دن وہ اچانک گھر سے غائب ہوگئی، جس کے بعد وپن نے اسے تلاش کرنا شروع کیا۔ اس نے مختلف مقامات پر اس کی تلاش کی اور رشتہ داروں سے بھی رابطہ کیا، لیکن جب اس کا کوئی سراغ نہیں ملا تو اس نے پولیس سے رجوع کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ وپن نے تھانے میں اپنی بیوی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے بھی خاتون کی تلاش شروع کردی۔ اس دوران خاندان کو اس کی واپسی کا انتظار رہا۔
اطلاعات کے مطابق، تقریباً 22 دن بعد ریکھا واپس آگئی۔ تاہم، اس کی واپسی کے بعد معاملہ معمول پر آنے کے بجائے ایک نیا رخ اختیار کرگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریکھا نے اپنے شوہر کو واضح طور پر بتایا کہ وہ اب اس کے ساتھ ازدواجی زندگی نہیں گزارنا چاہتی اور راہل کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں میاں بیوی کے درمیان اختلافات یا تنازع پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے، لیکن اس معاملے میں وپن نے مبینہ طور پر لڑائی جھگڑے اور دباؤ کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس نے اپنی بیوی کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اسے راہل کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت دے دی۔
رپورٹس کے مطابق، وپن اپنی بیوی ریکھا کو لے کر مصریخ تحصیل کے دفتر پہنچا۔ وہاں دونوں فریقوں کی موجودگی میں ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی گئی، تاکہ علیحدگی اور شادی سے متعلق معاملات کو دستاویزی شکل دی جاسکے۔ اس کے بعد دونوں کو شادی کے لیے ہنومان مندر لے جایا گیا۔
مندر میں راہل اور ریکھا کی شادی کی رسومات ادا کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر وپن بھی موجود تھا اور وہ اپنی بیوی کی شادی کا گواہ بنا۔ اس طرح تقریباً 17 سال تک قائم رہنے والے ازدواجی رشتے کے بعد ریکھا نے راہل کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
وپن سے منسوب بیان کے مطابق، اس نے اپنی بیوی کی خوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے جانے دیا اور اب وہ اس کے ساتھ کوئی ازدواجی تعلق برقرار نہیں رکھنا چاہتا۔ اس نے کہا کہ اب اس کی زندگی کا مرکز اس کے دونوں بچے ہوں گے اور وہ انہی کی خاطر اپنی زندگی آگے بڑھائے گا۔
وپن کے اس فیصلے کو لے کر علاقے میں مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں۔ ایک طرف یہ معاملہ طویل ازدواجی زندگی کے خاتمے کی وجہ سے توجہ حاصل کررہا ہے، تو دوسری طرف فیس بک کے ذریعے قائم ہونے والے تعلق اور شوہر کے ردعمل پر بھی گفتگو ہورہی ہے۔



