بین الاقوامی خبریںسرورق

ایلون مسک کا امریکہ کے ہر بچے کو SpaceX کا ایک شیئر دینے کا اعلان

7.3 کروڑ بچوں کو مل سکتا ہے فائدہ

واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا کے امیر ترین کاروباری شخصیات میں شامل ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2027 میں امریکہ کے ہر بچے کو اپنی خلائی کمپنی SpaceX کا ایک شیئر دیں گے۔ مسک نے پیر 19 اکتوبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگلے سال وہ امریکہ کے ہر بچے کو اپنا ایک SpaceX شیئر دیں گے اور یہ اس نوعیت کے کئی اقدامات میں پہلا ہوگا۔ ان کے اس اعلان نے بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی ہے، تاہم شیئر تقسیم کرنے کے منصوبے کی عملی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

امریکی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد تقریباً 7.3 کروڑ ہے۔ اگر ان تمام بچوں کو ایک ایک شیئر دیا جاتا ہے تو کروڑوں شیئر تقسیم کرنا ہوں گے۔ دستیاب قیمت کے تخمینے کے مطابق، SpaceX کے ایک شیئر کی قیمت تقریباً 146 ڈالر کے آس پاس ہے۔ اس حساب سے مجوزہ تقسیم کی مجموعی مالیت تقریباً 10.5 سے 10.8 ارب ڈالر بن سکتی ہے۔ ہندوستانی کرنسی میں یہ رقم ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ تاہم، یہ تخمینہ شیئر کی موجودہ قیمت اور بچوں کی تعداد کی بنیاد پر ہے؛ اصل مالیت تقسیم کے وقت قیمت میں تبدیلی کے باعث مختلف ہوسکتی ہے۔

ایلون مسک کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی کمپنی Anthropic کی جانب سے اپنے حصص کا پانچ فیصد عوامی فائدے کے لیے قائم کیے جانے والے فنڈ کو دینے کے منصوبے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ مسک نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے حصص براہ راست عوام میں تقسیم کرنے کا خیال پیش کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے امریکہ کے ہر بچے کو SpaceX کا ایک شیئر دینے کا اعلان کیا۔

SpaceX خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے کی ایک اہم کمپنی ہے، جو راکٹ تیار کرنے، تجارتی خلائی پروازیں انجام دینے، سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس Starlink چلانے اور انسانی خلائی مشنوں پر کام کرنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ کمپنی کے کاروبار میں خلائی لانچ خدمات کے ساتھ سیٹلائٹ مواصلات اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ کمپنی کے شیئر کی قیمت میں تبدیلی کے ساتھ اس تحفے کی مجموعی مالیت بھی بدل سکتی ہے۔

مسک کی جانب سے جاری اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شیئر حاصل کرنے کے لیے بچوں کی اہلیت کس بنیاد پر طے ہوگی، آیا صرف امریکی شہری بچے اس میں شامل ہوں گے یا امریکہ میں رہنے والے تمام بچے، اور تقسیم کا عمل کس تاریخ سے شروع ہوگا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ نابالغ بچوں کے حصص ان کے نام براہ راست منتقل کیے جائیں گے یا کسی ٹرسٹ یا دوسرے قانونی انتظام کے تحت رکھے جائیں گے۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر حصص کی منتقلی کے لیے متعلقہ قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضے بھی اہم ہوں گے۔

ایلون مسک نے اپنے پیغام میں اس اقدام کو کئی ممکنہ اقدامات میں پہلا قرار دیا ہے، لیکن انہوں نے مستقبل کے دیگر منصوبوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ فی الحال یہ اعلان ایک مجوزہ منصوبے کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے نفاذ، اہل بچوں کی شناخت اور شیئرز کی منتقلی کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button