
اڈانی پاور کے منافع میں 141 فیصد کا اضافہ، دوسری سہ ماہی میں 7,019 کروڑ روپے کا منافع
آمدنی 19,950 کروڑ روپے تک پہنچ گئی
نئی دہلی، 23 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے درمیان اڈانی پاور لمیٹڈ نے مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں شاندار مالی نتائج پیش کیے ہیں۔ کمپنی کا مجموعی خالص منافع گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 141.5 فیصد بڑھ کر 7,019.32 کروڑ روپے ہوگیا۔ مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی میں کمپنی نے 2,906.46 کروڑ روپے کا منافع درج کیا تھا۔ اس دوران کمپنی کی آمدنی اور آپریٹنگ منافع میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
اڈانی پاور کے مالی نتائج کے مطابق، جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں کمپنی کی مجموعی رپورٹ شدہ آمدنی 39.4 فیصد اضافے کے ساتھ 19,950.60 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 14,307.79 کروڑ روپے تھی۔ کمپنی کا رپورٹ شدہ ای بی آئی ٹی ڈی اے (EBITDA) بھی 45.7 فیصد بڑھ کر 8,743.22 کروڑ روپے ہوگیا۔ یہ اعداد و شمار کمپنی کی آمدنی اور کاروباری کارکردگی میں بہتری کو ظاہر کرتے ہیں۔
مسلسل جاری کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس زمرے میں آمدنی 29.8 فیصد بڑھ کر 17,014.06 کروڑ روپے رہی، جبکہ ای بی آئی ٹی ڈی اے 18.5 فیصد اضافے کے ساتھ 6,320.97 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ پہلی ششماہی، یعنی اپریل سے ستمبر 2026 کے دوران کمپنی کا خالص منافع تقریباً دوگنا ہوکر 11,885.92 کروڑ روپے ہوگیا۔ اس مدت میں رپورٹ شدہ آمدنی 36 فیصد اضافے کے ساتھ 39,272.90 کروڑ روپے درج کی گئی۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایس بی خیالیہ نے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اڈانی پاور منافع میں اضافے اور منصوبوں کی تکمیل کے معاملے میں نئے سنگ میل حاصل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان کی طویل مدتی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں ملک میں پیدا ہونے والی کوئلے پر مبنی بجلی کا کردار مسلسل زیادہ واضح ہو رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق، مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں ملک میں بجلی کی طلب 11.5 فیصد بڑھ کر 502 ارب یونٹس تک پہنچ گئی۔ اس مدت میں کوئلے اور لگنائٹ سے پیدا ہونے والی بجلی نے مجموعی سپلائی میں 66 فیصد حصہ ادا کیا۔ بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد بڑھ کر 270 گیگاواٹ ہوگئی۔ بجلی کی کھپت میں اضافے نے پاور جنریشن کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع کو تقویت دی۔
اڈانی پاور نے دوسری سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 26.4 ارب یونٹس بجلی فروخت کی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں فروخت 23.7 ارب یونٹس رہی تھی۔ کمپنی کے پلانٹ لوڈ فیکٹر (PLF) میں بھی بہتری آئی، جو 62.8 فیصد سے بڑھ کر 70.1 فیصد ہوگیا۔ پلانٹ لوڈ فیکٹر سے اندازہ ہوتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی دستیاب صلاحیت کا کتنا استعمال کیا گیا۔ کمپنی کی آپریٹنگ صلاحیت 18,150 میگاواٹ رہی۔
بجلی خریداری کے معاہدوں (PPAs) کے تحت فروخت میں بھی اضافہ درج کیا گیا۔ اس زمرے میں بجلی کی فروخت 29.7 فیصد بڑھ کر 23.4 ارب یونٹس ہوگئی، جبکہ فی یونٹ بجلی کی وصولی 12.7 فیصد اضافے کے ساتھ 6.4 روپے رہی۔ طویل مدتی معاہدوں کے تحت فروخت میں اضافہ کمپنی کے لیے آمدنی کے استحکام کے لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب، مرچنٹ اور قلیل مدتی معاہدوں کے تحت فروخت ہونے والی بجلی کی فی یونٹ وصولی 33.1 فیصد بڑھ کر 7.2 روپے ہوگئی، تاہم اس زمرے میں فروخت کا حجم 43 فیصد کم رہا۔ کمپنی نے بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ دستیاب اضافی بجلی کی صلاحیت کو درمیانی مدت کے معاہدوں کے تحت مختص کرنا تھا۔ مجموعی طور پر سہ ماہی کے نتائج میں منافع، آمدنی اور بجلی کی فروخت میں اضافہ سامنے آیا، جبکہ کمپنی کی کارکردگی کو ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب سے بھی تقویت ملی۔



