
کینسر کی ادویات 20 سے 70 فیصد تک سستی ہونے کا امکان، مرکز کی سپریم کورٹ میں جانکاری
کینسر کی دواؤں کی قیمتوں میں کمی کے لیے مرکزی حکومت کی مجوزہ پالیسی
نئی دہلی، 23 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کے اخراجات کم کرنے کی سمت میں مرکزی حکومت نے ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اینٹی کینسر ادویات پر تجارتی منافع کی حد 30 فیصد مقرر کرنے سے ان دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) میں 20 سے 70 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔ اس اقدام سے مریضوں کو سالانہ تقریباً 2500 کروڑ روپے کی بچت ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مرکزی حکومت نے یہ تفصیلات سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک حلف نامے میں پیش کی ہیں۔ ادویات کی قیمتوں کے ضابطے سے متعلق زیر سماعت مفاد عامہ کی عرضی کے جواب میں محکمہ ادویات نے بتایا کہ اینٹی کینسر دواؤں کی قیمتوں کو مناسب سطح پر لانے کے لیے مختلف متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی تجارتی منافع کو روکنا اور مریضوں کے لیے علاج کو زیادہ قابل برداشت بنانا ہے۔
حلف نامے کے مطابق، مجوزہ منصوبے کے تحت دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت پر تجارتی مارجن 30 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزارت صحت و خاندانی بہبود نے 9 اکتوبر کو ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز کی سربراہی میں ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو یہ طے کرنا ہے کہ کن اینٹی کینسر ادویات کو اس ضابطے کے دائرے میں شامل کیا جائے۔ اسے اپنی رپورٹ 10 سے 15 دن کے اندر پیش کرنے کی توقع ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ فہرست میں کینسر کے علاج کے لیے منظور شدہ ادویات شامل ہوں گی، تاہم کم قیمت والی دواؤں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جاسکتا ہے۔ مارکیٹ کی صورت حال، عوامی صحت کی ضروریات اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فہرست میں وقتاً فوقتاً تبدیلی بھی کی جاسکے گی۔
ماہر کمیٹی کی سفارشات نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (این پی پی اے) کے سامنے رکھی جائیں گی۔ اتھارٹی ان پر غور کرنے کے بعد مناسب ہدایات جاری کرے گی اور قیمتوں سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس کے بعد دوا ساز کمپنیوں کو ہدایت دی جائے گی کہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست صارفین تک پہنچایا جائے۔
حکومت کے مطابق اس اقدام سے کینسر کے مریضوں کو اپنی جیب سے ہونے والے اخراجات میں کمی لانے، ضروری ادویات تک رسائی بہتر بنانے اور بازار میں دواؤں کی اصل قیمتوں کے حوالے سے شفافیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ کینسر کا علاج طویل مدت تک جاری رہنے اور مہنگی ادویات کی ضرورت کے باعث مریضوں اور ان کے خاندانوں پر بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے، جسے کم کرنا اس پالیسی کا اہم مقصد ہے۔
مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے میں 2019 میں کیے گئے اقدام کا بھی حوالہ دیا۔ اس وقت این پی پی اے نے 42 منتخب غیر شیڈولڈ اینٹی کینسر ادویات پر 30 فیصد تجارتی مارجن کی حد نافذ کی تھی۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں 526 برانڈز کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں میں کمی آئی تھی اور دوا ساز کمپنیوں سے موصولہ معلومات کی بنیاد پر مریضوں کو سالانہ تقریباً 984 کروڑ روپے کی بچت کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ 2019 کا تجربہ اس بات کی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ اسی طرح کے ضابطے کو مزید غیر شیڈولڈ اینٹی کینسر ادویات تک توسیع دی جاسکتی ہے۔ تاہم، اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تجارتی منافع کی حد مقرر کرتے وقت دوا ساز کمپنیوں، تقسیم کاروں اور خوردہ فروشوں کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پر چھوٹی اور درمیانی درجے کی کمپنیوں اور دور دراز علاقوں میں ادویات کی فراہمی کے نظام پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
حلف نامے میں بتایا گیا کہ صنعت سے وابستہ بعض تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تجارتی منافع پر اضافی پابندیوں سے چھوٹی کمپنیوں کے کاروبار، روزگار اور دور دراز علاقوں میں ادویات کی تقسیم متاثر ہوسکتی ہے۔ ان علاقوں میں دوا کی دستیابی اکثر مقامی تاجروں اور متعدد تقسیم کاروں کے نظام پر منحصر ہوتی ہے۔
حکومت کے مطابق بعض کم قیمت والی ادویات، خصوصی درجہ حرارت میں محفوظ رکھنے والی دواؤں، نازک مصنوعات اور کم فروخت ہونے والی ادویات کے معاملے میں نسبتاً زیادہ تجارتی مارجن ضروری ہوسکتا ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں بعض خوردہ فروشوں کے لیے ان دواؤں کا ذخیرہ رکھنا مالی طور پر مشکل ہوسکتا ہے۔ اسی لیے مجوزہ پالیسی تیار کرتے وقت تقسیم کے اخراجات، مقامی مارکیٹ کے حالات اور ادویات کی مسلسل دستیابی کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا۔
مرکزی حکومت نے ادویات کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پہلے سے نافذ قانونی نظام کا بھی ذکر کیا، جس میں ڈرگز پرائسز کنٹرول آرڈر 2013 شامل ہے۔ حکومت نے اس آرڈر کے پیراگراف 19 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کے استعمال کی مثالیں دیتے ہوئے بعض ذیابیطس اور قلبی امراض کی ادویات کی قیمتوں پر حد مقرر کرنے، کورونری اسٹنٹس اور گھٹنے کے امپلانٹس کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں طے کرنے اور کووڈ-19 وبا کے دوران آکسیجن کنسنٹریٹرز سمیت بعض طبی آلات کے تجارتی منافع کو محدود کرنے جیسے اقدامات کا حوالہ دیا۔
اس کے علاوہ حکومت نے پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا اور امرت فارمیسیوں کا بھی ذکر کیا۔ جن اوشدھی مراکز کے ذریعے عام اور جنیرک ادویات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ امرت فارمیسیوں کا مقصد ضروری اور زندگی بچانے والی دوائیں رعایتی قیمتوں پر دستیاب کرانا ہے۔ حکومت کے حلف نامے کے مطابق، ملک میں تقریباً 19 ہزار جن اوشدھی کیندروں کا نیٹ ورک قائم ہے۔
یہ معاملہ ڈاکٹر سنجے کُل شریستھا کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی سے متعلق ہے، جس میں ادویات کی قیمتوں اور فارماسیوٹیکل شعبے میں تجارتی منافع کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کی ضرورت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی اور ان کی دستیابی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ مجوزہ تجارتی مارجن کی حد کا حتمی دائرہ ماہر کمیٹی کی سفارشات اور این پی پی اے کے فیصلوں کے بعد واضح ہوگا۔



