سرورققومی خبریں

ریس کورس مسجد کو بجلی اور پانی کی بحالی سے متعلق عرضی خارج، دہلی ہائی کورٹ کا حکم دینے سے انکار

عدالت نے مسجد کی بجلی اور پانی بحال کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

نئی دہلی، 23 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) دہلی ہائی کورٹ نے ریس کورس مسجد کی بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کرنے کے لیے دائر درخواست پر راحت دینے سے انکار کردیا ہے۔ مسجد کے امام محمد ہارون نے بنیادی سہولیات منقطع کیے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ یہ مسجد وقف جائیداد ہے اور وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع ریس کورس کلب کے احاطے میں موجود ہے۔

جسٹس سوربھ بنرجی نے 15 اکتوبر کو امام کی درخواست مسترد کردی۔ مسجد کی بجلی اور پانی کی سپلائی 7 اکتوبر کو منقطع کیے جانے کی اطلاع ہے۔ دوسری جانب سرکاری ذرائع نے اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ مسجد کو خالی کرانے کے لیے کوئی باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا، تاہم امام کا دعویٰ ہے کہ انہیں احاطہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔

ریس کورس مسجد کو 2009 میں گریڈ ٹو ورثہ عمارت کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ یہ مسجد تقریباً 53 ایکڑ پر مشتمل ریس کورس کلب کے اندر واقع ہے، جو 7 لوک کلیان مارگ کے قریب ہے۔ اس علاقے میں کلب اور جھگیوں کو ہٹانے کی کارروائی مختلف عدالتی مقدمات کے بعد جاری ہے۔ مرکزی حکومت نے علاقے کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے قومی سلامتی کو وجہ قرار دیا ہے۔

امام محمد ہارون مسجد کے احاطے میں موجود ایک حجرے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے 12 اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کرنے کی اپیل کی تھی۔

15 اکتوبر کو نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ حالات میں ان سہولیات کو بحال نہیں کیا جاسکتا۔ کونسل کے مطابق علاقے میں انہدام اور جھگیوں کو ہٹانے کا کام جاری ہے اور اس دوران عوامی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔ این ڈی ایم سی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ زمین و ترقیاتی دفتر (ایل اینڈ ڈی او)، جو انہدام کی کارروائی کی نگرانی کررہا ہے اور زمین کا قبضہ حاصل کرے گا، کو مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا۔

مسجد کو ریس کورس کلب اور وہاں مقیم تقریباً 700 جھگی مکینوں کی بے دخلی سے متعلق مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا۔ تاہم، این ڈی ایم سی کے وکیل نے عدالت میں زبانی طور پر کہا کہ مسجد کا احاطہ بھی 25 اگست کے عدالتی فیصلے کے دائرے میں آتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب مقیم جھگی مکینوں کو ہٹانے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ ان مکینوں کو بعد میں تقریباً 50 کلومیٹر دور ساودا گھورا منتقل کیا گیا۔

درخواست مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے اس بات کا ذکر کیا کہ وقف بورڈ، جسے عدالت نے احاطے کا اصل قابض قرار دیا، نے بجلی اور پانی منقطع کیے جانے کے خلاف خود کوئی درخواست دائر نہیں کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وقف بورڈ کے مقرر کردہ امام ہونے کی حیثیت سے محمد ہارون کو اس جائیداد پر اپنا حق تسلیم کرانے کا خودکار قانونی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ اسی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ سہولیات منقطع کیے جانے سے ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

عدالت کے مطابق درخواست میں کئی ایسے معاملات شامل ہیں جن پر حقائق کا تعین ضروری ہے۔ ان میں امام کا جائیداد پر حق، ملکیت یا مفاد اور یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا مسجد 25 اگست کے فیصلے کے دائرے سے باہر ہے یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ان متنازع قانونی اور حقائق سے متعلق سوالات کا فیصلہ رِٹ پٹیشن کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا۔

محمد ہارون نے ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ زمین و ترقیاتی دفتر کے عہدیداروں نے انہیں چھ دن کے اندر احاطہ خالی کرنے کے لیے کہا تھا۔ ان کے مطابق مسجد کے مقام پر ایک انتباہی نوٹس بھی لگایا گیا اور مسجد تک پہنچنے والا راستہ بند کردیا گیا۔

امام نے وقف بورڈ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے ان کی شکایات پر تقریباً چھ ماہ تک مؤثر کارروائی نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے این ڈی ایم سی سے بھی رجوع کیا تھا۔

وقف بورڈ نے 8 اکتوبر کو این ڈی ایم سی کے ایگزیکٹیو انجینئر کو خط لکھ کر بجلی اور پانی بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ خط میں کہا گیا کہ دونوں سہولیات بغیر کسی پیشگی اطلاع یا بظاہر معقول وجہ کے منقطع کی گئیں، حالانکہ واجبات ادا کیے جاچکے تھے۔ بورڈ کے مطابق مسجد کو 1976 سے قانونی طور پر بجلی کا کنکشن حاصل تھا۔

19 اکتوبر کو وقف بورڈ نے زمین و ترقیاتی دفتر کو بھی خط تحریر کیا، جس میں مسجد اور اس سے متصل قبرستان کے تحفظ کے ساتھ بجلی اور پانی بحال کرنے کی درخواست کی گئی۔

دہلی انتظامیہ کے 8 ستمبر 1977 کے گزٹ نوٹیفکیشن میں مسجد اور قبرستان کو وقف جائیداد قرار دیا گیا ہے۔ اس فہرست میں جائیداد کا اندراج نمبر 18 ہے، جس کے تحت اس کا رقبہ دو بیگھہ بتایا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں اس مقام کو صفدر جنگ کے مقبرے کے پیچھے واقع بتایا گیا ہے۔

وقف بورڈ اور مسجد کے امام کے مطابق یہ مسجد ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے اور اس میں تقریباً 800 نمازیوں کی گنجائش ہے۔

دہلی وقف بورڈ کے پاس اگست 2023 میں سابق منتخب بورڈ کی میعاد ختم ہونے کے بعد سے کوئی منتخب مجلس موجود نہیں ہے۔ جنوری 2024 میں لیفٹیننٹ گورنر کے مقرر کردہ عہدیداروں نے بورڈ کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں اور اس کے بعد سے وہی انتظامی امور چلارہے ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اویسی کے مطابق 2023 سے وقف بورڈ کی منتخب مجلس نہ ہونے اور اس کے چیف ایگزیکٹیو افسر کی جانب سے کارروائی نہ کیے جانے کے باعث مرکزی وزیر کو معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔

جمعیت علمائے ہند کے ایک وفد نے بھی کرن رجیجو سے ملاقات کرکے انہیں یادداشت پیش کی۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ قانونی تنازع کا فیصلہ ہونے تک مسجد کے انہدام سے متعلق کوئی کارروائی نہ کی جائے۔

حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے بھی مسجد کو مبینہ طور پر خالی کرانے کے نوٹس کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مسجد کی قانونی حیثیت، بنیادی سہولیات کی بحالی اور احاطے سے متعلق تنازع کے مختلف پہلو اب بھی زیر بحث ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button