سرورققومی خبریں

دہلی میں زندہ افراد کو ووٹر لسٹ میں مردہ قرار دے دیا گیا، 28 مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستیں

متاثرہ خاندانوں نے انتخابی حکام سے اٹھائے سوالات

نئی دہلی، 30 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) دہلی کے مصطفیٰ آباد اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے دی گئی درخواستوں نے کئی خاندانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ مبینہ طور پر 28 مسلم ووٹروں کو زندہ اور اپنے مستقل پتوں پر رہائش پذیر ہونے کے باوجود مردہ، غیر حاضر یا مستقل طور پر منتقل شدہ ظاہر کرتے ہوئے ان کے نام انتخابی فہرست سے خارج کرنے کی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ انکشاف کے بعد انتخابی عمل اور درخواستوں کی جانچ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق شمال مشرقی دہلی کے مصطفیٰ آباد حلقے کے دیال پور علاقے میں رہنے والے ساجد حسین کو اس وقت حیرت ہوئی جب انہیں معلوم ہوا کہ کسی نامعلوم شخص نے ان کی اہلیہ اور بیٹے کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کے لیے فارم نمبر 7 جمع کرایا ہے۔ ان کی اہلیہ آفسانہ خاتون اور بیٹے اسد رضا زیدی کا شمار ان 28 افراد میں ہوتا ہے جن کے خلاف ایسی درخواستیں دی گئیں۔

درخواستوں میں ووٹروں کے غیر حاضر ہونے، مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے یا وفات پا جانے کو نام حذف کرنے کی وجہ بتایا گیا تھا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق کم از کم 19 افراد نے اپنی شناخت سے متعلق معتبر دستاویزات پیش کیں اور انہیں اپنے درج شدہ رہائشی پتوں پر موجود پایا گیا۔

دی ہندو کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ریکارڈ میں ان تمام 28 درخواستوں کو بی جے پی کے مقرر کردہ بوتھ لیول ایجنٹ (BLA-2) چندر شیکھر نینوال سے منسوب کیا گیا ہے۔ متاثرہ ووٹروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقررہ طریقہ کار کے تحت اپنے انیومریشن فارم جمع کرائے تھے اور ان کے نام انتخابی فہرست کے مسودے میں بھی شامل تھے، لیکن انہیں درخواست گزار کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔

رپورٹ کے مطابق مصطفیٰ آباد اسمبلی حلقے میں 31 اگست سے اب تک فارم نمبر 7 کے ذریعے 843 اعتراضات درج کیے گئے۔ ان میں 597 درخواستیں تیسرے فریق کی جانب سے جمع کرائی گئیں۔ ان درخواستوں میں سے تقریباً 96 فیصد میں بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹس کو اعتراض کنندہ ظاہر کیا گیا، جبکہ 24 مختلف حصوں میں مسلم ووٹروں کے خلاف 572 درخواستیں دی گئیں۔

دیال پور میں ساجد حسین کے پڑوسی خاندان کے افراد بھی اس معاملے سے متاثر ہوئے۔ عبدالجبار کی بیٹی عائشہ اور 22 سالہ بیٹے محمد حذیفہ کے نام حذف کرنے کی درخواست دی گئی۔ حذیفہ کے مطابق ان کے دیرینہ پڑوسی عمد علی، جو علاقے میں کریانہ کی چھوٹی دکان چلاتے ہیں، کا نام بھی حذف کیے جانے والے ووٹروں کی فہرست میں شامل تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 10 بی جے پی بوتھ لیول ایجنٹس نے 30 سے زیادہ فارم جمع کرائے، جبکہ 9 ایجنٹس کی جانب سے 25 سے زائد درخواستیں دی گئیں۔ الیکشن کمیشن کے ضابطوں کے مطابق ایک عام ووٹر زیادہ سے زیادہ 10 فارم جمع کرا سکتا ہے۔

تاہم بی ایل اے-2 کو اجتماعی طور پر درخواستیں جمع کرانے کی اجازت ہے، بشرطیکہ ایک دن میں 10 سے زیادہ فارم نہ ہوں۔ اس کے لیے درخواستوں کی فہرست اور متعلقہ تفصیلات کی جانچ سے متعلق تحریری اعلان بھی جمع کرانا ضروری ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصطفیٰ آباد میں متعدد درخواستوں میں بی ایل اے نے خود کو اعتراض کنندہ ظاہر کیا۔

مسلم ووٹروں کے خلاف 572 درخواستیں جمع کرانے والوں میں ششی نے 42، رمن نے 35، منوج کمار اور موہن مدن نے 33، ساور سنگھ نے 32، راج کمار اور ہمانشو نے 31، جبکہ کپل، نتن کمار اور رابن سنگھ دھاما نے 30، 30 درخواستیں جمع کرائیں۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق انتخابی حکام نے بتایا کہ اگرچہ ان درخواست گزاروں کو بی ایل اے کے طور پر درج کیا گیا تھا، لیکن ان کے فارموں کے ساتھ مطلوبہ بی ایل اے اعلانات جمع نہیں کرائے گئے تھے۔ نتن کمار کی جانب سے ہاتھ سے پُر کیے گئے ایک فارم میں نہ تو ان کی بی ایل اے حیثیت کا ذکر تھا اور نہ ہی بی ایل اے کے لیے مقررہ فارمیٹ استعمال کیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی 9 اکتوبر کی ہدایت کے مطابق اگر الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شکایت جھوٹی یا فرضی ہے تو ایسے درخواست گزار کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے جس نے جان بوجھ کر فارم میں غلط بیان یا تحریری اعلان دیا ہو۔ اس سلسلے میں عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گنجائش بھی موجود ہے۔

ساجد حسین نے سوال اٹھایا کہ ان کے خاندان کے آٹھ افراد ایک ہی پتے پر کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں، تو پھر صرف ان کی اہلیہ اور بیٹے کے نام حذف کرنے کی درخواست کیوں دی گئی؟ ان کے مطابق یہ سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ہی خاندان کے دو افراد کو اچانک غیر حاضر یا منتقل شدہ کیسے ظاہر کردیا گیا۔

ان کی اہلیہ افسانہ خاتون نے بتایا کہ وہ مسلسل گھر پر موجود رہتی ہیں اور جب بوتھ لیول آفیسر (BLO) ان کے گھر آئی تھیں تو انہوں نے اپنے فارم براہ راست اسی کے حوالے کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں دستاویزات بھی فراہم کی گئیں، اس کے باوجود اب دوبارہ ثبوت پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔

76 سالہ ظہیر علی کے نام کے خلاف بھی فارم نمبر 7 میں وفات کی وجہ درج کی گئی۔ ان کے خاندان کی رکن شمع پروین نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ درخواست گزار سے ان کے خاندان کا کوئی ذاتی تعلق نہیں ہے۔

اسی طرح سلمان صدیقی کے بھائی سلیمان نے بتایا کہ ان کا خاندان گزشتہ 30 برس سے موجودہ مکان میں رہائش پذیر ہے، جبکہ وہ خود اسی علاقے میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ ان کی بہن شگفتہ خاتون اور بہنوئی اخلاق کے نام بھی حذف کرنے کی درخواستوں میں شامل کیے گئے ہیں۔

مصطفیٰ آباد میں سامنے آنے والے ان معاملات نے ووٹر لسٹ کی تیاری، ناموں کے اخراج کے لیے جمع کرائی جانے والی درخواستوں اور ان کی تصدیق کے عمل پر اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے ناموں کو انتخابی فہرست میں برقرار رکھنے اور غلط معلومات کی بنیاد پر دی گئی درخواستوں کی شفاف جانچ کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button