قومی خبریں

رضامندی سے قائم تعلق ٹوٹنے پر ریپ کا مقدمہ نہیں، مرد کو بھی بریک اپ کا حق-سپریم کورٹ

رشتہ ختم ہونے کے بعد رضامندی سے قائم جنسی تعلقات ریپ نہیں بن جاتے: سپریم کورٹ

نئی دہلی، 30 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے رضامندی سے قائم محبت کے رشتوں اور ان کے خاتمے سے متعلق ایک اہم قانونی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے قائم ہونے والے جنسی تعلقات کو محض اس بنیاد پر ریپ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ بعد میں دونوں کے درمیان رشتہ ختم ہوگیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی تعلق میں ابتدا ہی سے دھوکہ یا جھوٹ کے ذریعے رضامندی حاصل کی گئی ہو تو معاملہ مختلف ہوسکتا ہے، لیکن تعلق ختم ہونے کے بعد سابقہ رضامندی سے قائم تعلق کو خودبخود جرم نہیں بنایا جا سکتا۔

جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے شادی کا جھوٹا وعدہ کرکے ریپ کرنے کے الزام سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران یہ اہم مشاہدات کیے۔ عدالت نے ملزم کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازوں کا مقصد یہ نہیں تھا کہ بالغ افراد کے درمیان محبت اور باہمی رضامندی سے قائم تعلقات کو رشتہ ختم ہونے کے بعد ماضی کی تاریخ سے مجرمانہ فعل قرار دے دیا جائے۔

عدالت نے اپنے مشاہدات میں اس سوال کو بھی اہمیت دی کہ کیا کسی مرد کو اپنی مرضی سے تعلق ختم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے؟ بنچ نے کہا کہ اگر کسی شخص کو یہ خدشہ رہے کہ رشتہ ختم کرنے کے بعد اس کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے تو وہ محض قانونی کارروائی کے خوف سے تعلق جاری رکھنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسی شخص کا رضامندی سے قائم تعلق ختم کرنے کا فیصلہ بذات خود دھوکہ دہی یا جرم نہیں بن جاتا۔ عدالت کے مطابق کسی ناکام رشتے کو صرف اس وجہ سے مجرمانہ مقدمے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں افراد کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے یا ایک فریق نے علیحدگی اختیار کرلی۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ شادی کا وعدہ کرکے ابتدا ہی سے دھوکہ دینے اور باہمی رضامندی سے قائم تعلق کے بعد علیحدگی اختیار کرنے میں بنیادی فرق ہے۔ اگر کسی معاملے میں یہ ثابت ہو کہ شادی کا وعدہ ابتدا سے ہی جھوٹا تھا اور اسی دھوکے کی بنیاد پر جنسی تعلق قائم کیا گیا تو قانونی صورت حال مختلف ہوسکتی ہے۔

تاہم، بعد میں تعلق ختم ہوجانے یا کسی فریق کے اپنے سابقہ فیصلے پر پچھتاوے کو بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ پہلے قائم ہونے والا جنسی تعلق غیر رضامندانہ تھا۔ عدالت نے کہا کہ ایسے معاملات میں اصل حقائق، حالات اور رضامندی کی نوعیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریپ خواتین کی جسمانی خودمختاری، وقار اور عزت پر سنگین حملہ ہے۔ بنچ نے تسلیم کیا کہ آج بھی بہت سی متاثرہ خواتین سماجی دباؤ، خاندانی عزت اور دیگر وجوہات کی بنا پر جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ نہیں کر پاتیں۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جہاں جنسی تشدد، زبردستی یا دھوکہ دہی کے ذریعے رضامندی حاصل کرنے کے شواہد موجود ہوں، وہاں ایسے مقدمات کی سنجیدگی سے تفتیش اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم، محض ناکام محبت یا باہمی رضامندی سے قائم تعلق کے خاتمے کو ریپ کے مقدمے میں تبدیل کرنا بھی درست نہیں ہے۔

عدالت کے مطابق فوجداری قانون کا استعمال کسی شخص کو صرف اس لیے ہراساں کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے اپنی مرضی سے ایک باہمی رضامندی پر مبنی تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے مشاہدات نے رضامندی، شادی کے وعدے اور تعلقات کے خاتمے سے متعلق قانونی فرق کو واضح کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button