قومی خبریں

دیوالی پر گھر جانے کی اجازت کے خواہاں ترون تیج پال، گوا حکومت نے مخالفت کردی؛کیس کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی

سپریم کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل اور سزا بڑھانے کی درخواست پر سماعت 5 نومبر تک ملتوی

نئی دہلی، 3 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) سپریم کورٹ میں سابق مدیرِ اعلیٰ تہلکہ ترون تیج پال کی سزا کے خلاف دائر اپیل پر سماعت 5 نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ سماعت کے دوران ان کے وکیل نے دیوالی کے موقع پر انہیں جیل سے گھر جانے کی اجازت دینے کی درخواست کی، تاہم گوا حکومت نے اس کی مخالفت کی۔

جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسانا بی وریلے پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے منگل کو اس معاملے کی سماعت کی۔ گوا حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے مزید وقت دینے کی درخواست کی، جس کے بعد بنچ نے سماعت ملتوی کردی۔

ترون تیج پال کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا، تاہم انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ ان کے موکل کو دیوالی کے موقع پر جیل سے گھر جانے کی اجازت دی جائے۔ کپل سبل نے کہا کہ اگر معاملے کی سماعت کے لیے مزید وقت درکار ہے تو دیا جاسکتا ہے، لیکن ترون تیج پال کو دیوالی پر گھر جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔

اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں کہا کہ ترون تیج پال کو جرم میں سزا سنائی جاچکی ہے۔ اس پر کپل سبل نے جواب دیا کہ سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے، اس لیے انہیں دیوالی کے موقع پر گھر جانے کی اجازت دینے میں کیا اعتراض ہے؟ تاہم گوا حکومت نے ان کی رہائی کی درخواست کی مخالفت کی۔

واضح رہے کہ ترون تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں سیشن کورٹ کی جانب سے دی گئی بریت کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں عصمت دری اور دیگر جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے انہیں 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ معاملہ نومبر 2013 کا ہے۔ اس وقت ترون تیج پال کی ایک جونیئر خاتون ساتھی نے الزام لگایا تھا کہ گوا کے ایک لگژری ہوٹل میں تقریب کے دوران انہوں نے لفٹ کے اندر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

مئی 2021 میں سیشن کورٹ نے ترون تیج پال کو بری کردیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ استغاثہ الزامات کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے تفتیش کے دوران مبینہ خامیوں کا بھی ذکر کیا تھا۔ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کو گوا حکومت نے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

6 اگست کو بامبے ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کی جانب سے دی گئی بریت کو منسوخ کرتے ہوئے ترون تیج پال کو مجرم قرار دیا اور 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی۔ انہیں تعزیراتِ ہند کی دفعات 376(2)(f)، 376(2)(k)، 354A اور 354B کے تحت قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ دفعات عصمت دری، جنسی ہراسانی اور خاتون کے لباس اتارنے کی نیت سے طاقت کے استعمال سے متعلق ہیں۔

دوسری جانب گوا حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ترون تیج پال کو دی گئی 10 سالہ سزا میں اضافے کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد ترون تیج پال نے 14 ستمبر کو گوا کے مپوسا میں واقع ایڈیشنل سیشن کورٹ کے سامنے خودسپردگی کی تھی۔ اس کے بعد انہیں شمالی گوا کی کولوال سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا تھا، جہاں وہ اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اب اس معاملے کی اگلی سماعت 5 نومبر کو ہوگی، جس میں ترون تیج پال کی اپیل اور گوا حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی درخواست پر سماعت کی جائے گی۔

اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!

تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں

متعلقہ خبریں

Back to top button