
سرکاری ہی نہیں، اب پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ بھی کریں گے مردم شماری، مرکزی حکومت نے بدلے قواعد
مردم شماری کی ذمہ داری اب صرف سرکاری اساتذہ تک محدود نہیں رہے گی۔
نئی دہلی، 3 نومبر (اردو دنیا نیوز)ملک میں مردم شماری 2027 کے لیے عملے کی دستیابی کو یقینی بنانے کی غرض سے مرکزی حکومت نے اہم تبدیلی کی ہے۔ اب مردم شماری کے کام میں صرف سرکاری اسکولوں کے اساتذہ ہی نہیں بلکہ پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں سے وابستہ اساتذہ کی خدمات بھی حاصل کی جا سکیں گی۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے مردم شماری کے ضابطہ 1990 میں ترمیم کی ہے، جس کے بعد مردم شماری کی ڈیوٹی کے لیے اہل ملازمین کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ پرائیویٹ اسکولوں کے علاوہ کالجوں، سوسائٹیوں اور ٹرسٹوں سے وابستہ اساتذہ کو بھی مردم شماری کے کام پر مقرر کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری شعبے کے اداروں (PSUs)، بینکوں اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کلرکوں اور دیگر ملازمین کی خدمات بھی حاصل کی جا سکیں گی۔
اب تک مردم شماری کے دوران زیادہ تر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو شمار کنندہ کی ذمہ داری سونپی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ انتخابات اور دیگر سرکاری سرگرمیوں میں بھی اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کی تدریسی سرگرمیاں متاثر ہونے اور اسکولوں کے معمول کے کام کاج میں رکاوٹ پیدا ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ نئے قواعد کے تحت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی شامل کرنے سے سرکاری اساتذہ پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ملک میں مردم شماری 2027 ایک بڑے قومی عمل کے طور پر انجام دی جائے گی، جس کے لیے لاکھوں اہلکاروں کی خدمات درکار ہوں گی۔ ایسے میں مختلف تعلیمی اداروں، بینکوں اور دیگر محکموں کے ملازمین کو شامل کرنے سے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو عملے کی تعیناتی میں مزید سہولت حاصل ہوگی۔
مردم شماری کی ڈیوٹی پر مقرر کیے جانے والے پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ سمیت دیگر ملازمین کو بھی ضروری تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انہیں مقررہ قواعد کے مطابق اعزازیہ بھی دیا جائے گا۔ اس طرح آئندہ مردم شماری میں سرکاری ملازمین کے ساتھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی شمار کنندہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔
اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!
تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں



