قومی خبریں

موبائل گیمز کی لت نے 8 سالہ بچے کو تشدد پر اُکسایا؟ 6 سالہ بچی پر حملے کے ملزم کو عدالت سے ضمانت مل گئی

پرتشدد گیمز اور بچوں کے رویے پر تشویش

پنچکولہ، 5 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) ہریانہ کے پنچکولہ میں 6 سالہ بچی پر اسکول کے اندر ہوئے وحشیانہ حملے کے معاملے میں ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ واقعے کے ملزم 8 سالہ طالب علم کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ موبائل فون پر پرتشدد ویڈیو گیمز کھیلنے کا عادی تھا۔ دوسری جانب جووینائل جسٹس بورڈ نے ملزم بچے کو ضمانت پر رہا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ دفاعی وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ بچے کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی کونسلنگ اور اصلاح پر توجہ دینا ضروری ہے۔

ملزم کے والد کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل منبیر سنگھ راٹھی کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران بچے نے ایسے موبائل گیمز کھیلنے کا اعتراف کیا جن میں ورچوئل کرداروں پر حملہ کرنے کے عوض پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ان گیمز میں حملوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ اسکور بھی بڑھتا ہے، جس سے بچوں میں جارحانہ رویے کو فروغ ملنے کا خدشہ رہتا ہے۔

پرتشدد گیمز اور بچوں کے رویے پر تشویش

منبیر سنگھ راٹھی نے کہا کہ کم عمر بچے بعض اوقات ویڈیو گیمز کی فرضی دنیا اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے۔ ان کے مطابق، گیمز میں کرداروں کو نقصان پہنچانے پر کوئی حقیقی نتیجہ سامنے نہیں آتا، جس کی وجہ سے بچے زیادہ اسکور حاصل کرنے کے لیے مسلسل کھیلتے رہتے ہیں۔

وکیل نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچے کو موبائل فون اور پرتشدد گیمز سے دور رکھا جائے اور اس کی باقاعدہ کونسلنگ کروائی جائے تاکہ اس کے رویے میں بہتری لائی جا سکے۔

اس سے قبل 2 نومبر کو متاثرہ بچی کے چچا فضیل نے بھی الزام لگایا تھا کہ ملزم طالب علم PUBG اور دیگر پرتشدد ویڈیو گیمز کھیلتا تھا۔ تاہم، موبائل گیمز اور اس واقعے کے درمیان براہ راست تعلق کی کسی آزاد تحقیقاتی ایجنسی یا سرکاری رپورٹ سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس معاملے میں 8 سالہ ملزم طالب علم کو جمعرات کے روز جووینائل ہوم سے رہا کر دیا گیا۔ دفاعی وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بچے کا اس سے پہلے کسی پرتشدد سرگرمی میں ملوث ہونے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ وکیل کے مطابق، آبزرویشن ہوم میں طویل عرصے تک رکھے جانے سے اس کی تعلیم اور ذہنی نشوونما متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

دفاع کی ان دلیلوں کے بعد جووینائل جسٹس بورڈ نے بچے کی رہائی کی اجازت دے دی۔ بچے کے والدین نے بورڈ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کی باقاعدہ کونسلنگ، رویے میں اصلاح اور بحالی کی ذمہ داری پوری کریں گے۔

سوشل میڈیا سے شناخت ظاہر کرنے والا مواد ہٹانے کی ہدایت

جووینائل جسٹس بورڈ نے اس معاملے سے متعلق ایسی ویڈیوز، تصاویر اور دیگر مواد کو سوشل میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز سے ہٹانے کی ہدایت دی ہے جن کے ذریعے نابالغ ملزم کی شناخت ظاہر ہو سکتی ہے۔

یہ حکم جووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ 2015 کی دفعہ 74 کے تحت دائر درخواست پر دیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 27 نومبر تک اس حکم پر عمل درآمد کی رپورٹ بورڈ میں جمع کرائے۔
28 اکتوبر کو اسکول میں کیا واقعہ پیش آیا؟
یہ واقعہ 28 اکتوبر کو پنچکولہ کے ایک سرکاری اسکول میں پیش آیا تھا۔ الزام ہے کہ تیسری جماعت میں زیر تعلیم 8 سالہ طالب علم نے کلاس روم کے اندر کنڈرگارٹن کی 6 سالہ بچی پر حملہ کیا۔

شکایت کے مطابق، ملزم نے بچی کے سر پر متعدد مرتبہ اینٹ سے وار کیے، اسے بینچ سے ٹکرایا، ٹائی پکڑ کر گھسیٹا اور لاتیں بھی ماریں۔ حملے میں بچی شدید زخمی ہوگئی تھی۔

واقعے کے بعد متاثرہ بچی کو فوری طور پر پنچکولہ سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد بہتر طبی سہولیات کے لیے چندی گڑھ کے پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (PGIMER) بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں جمعرات کی صبح بچی کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور وہ اپنے گھر واپس آگئی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر کم عمر بچوں کے موبائل فون کے استعمال، آن لائن مواد کی نگرانی اور ان کی ذہنی و نفسیاتی تربیت کے حوالے سے والدین اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!

تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں

متعلقہ خبریں

Back to top button