
نئی دہلی، 5 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) دہلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے مقدمے میں طویل عرصے سے جیل میں بند طالب علم رہنما عمر خالد اور شرجیل امام نے ضمانت کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ دونوں نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی گئی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق، 30 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردی تھیں۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔
عمر خالد اور شرجیل امام نے اس سے قبل ککڑڈوما کی ٹرائل کورٹ کے 4 جولائی 2026 کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواستیں تیسری مرتبہ مسترد کردی تھیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں جنوری 2026 کے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیا تھا، جس میں دونوں کو فوری طور پر باقاعدہ ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ حکم میں یہ گنجائش رکھی تھی کہ اگر مقدمے کے محفوظ اور خفیہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوجاتے ہیں یا اس کے حکم کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود ٹرائل میں تاخیر برقرار رہتی ہے تو دونوں ملزمان دوبارہ نچلی عدالت سے ضمانت کی درخواست کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی سخت مخالفت کی ہے۔ پولیس نے انہیں دہلی فسادات کی مبینہ سازش کا ماسٹر مائنڈ اور اہم ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ضمانت کی درخواستیں قبل از وقت ہیں اور قانونی طور پر درست نہیں ہیں۔
اس معاملے میں 22 ستمبر کو دہلی کی ایک عدالت نے شرجیل امام کو اپنی کزن کی شادی میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی۔ یہ رعایت 4 سے 10 اکتوبر تک کے لیے دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے مقدمے میں طویل عرصے سے عدالتی حراست میں ہیں۔ دونوں کو فسادات کی سازش سے متعلق سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ اب ان کی نظریں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔
اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!
تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں



