
تحریرمحمدمدثرحسین اشرفی پورنوی
خطیب وامام رضائے مصطفٰے مسجدگیورائی ضلع بیڑمہاراشٹر
تمام تعریفیں اس رب العٰلمین کی جس نے ہمیں اورہمارے آباءواجداداورساری کائنات کوپیدافرمایا -وہی ہے جس نے ہمارےلئے طرح طرح کی چیزوں کوپیدافرمایاہے، وہی سب کوروزی دیتاہے اس کی مہربانی تو دیکھوجواس کی عبادت کررہاہے اسے بھی روزی دیتاہے اورجواس کی عبادت سے کوسوں دورہے اسے بھی روزی دیتاہے یہ اس کابڑافضل ہے -اللہ تعالٰی قرآن عظیم میں ارشادفرماتاہے:
وَماَمِن دآبّةٍ فِی الاَرضِ اِلّاعَلَی اللّهِ رِزقُھَا (پ ۱۲ سورہ ھود)
ترجمہ: اورزمین پرچلنے والاکوئی ایسانہیں جس کارزق اللہ کے ذمہ کرم پرنہ ہو -یعنی وہ اپنے فضل سے ہرجاندارکے رزق کاکفیل ہے – (کنزالایمان)
والدین ہمارے لئے انمول نعمت ہے والدین کامقام ومرتبہ بہت بلندہے – قرآن عظیم میں جابجارب تبارک وتعالٰی نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین سے حسن سلوک سے پیش آنے کاتذکرہ فرمایاہے -اللہ تعالٰی فرماتاہے: وَقَضٰی رَبُّکَ اَلّاتَعبُدُواِلّااِیّاہُ وَبِالوَالِدَینِ اِحسَانًا اِمَّایَبلُغَنَّ عِندَکَ الکِبَرَاَحَدُھُمَا اَوکِلٰھُمَا فَلَاتَقُل لَّھُمَا اُفّ وَّلَاتَنھَرھُمَاقَولًاکَرِیمَا (پ ۱۵سورہ بنی اسرائیل)
ترجمہ: اورتمہارے رب نے حکم فرمایاکہ اس کے سواکسی کونہ پوجو اورماں، باپ کے ساتھ اچھاسلوک کرو اگرتیرے سامنے ان میں ایک یادونوں بڑھاپے کوپہنچ جائیں تواُن سے ہُوں (اُف تک) نہ کہنا اورانہیں نہ جھڑکنا اوران سے تعظیم کی بات کہنا (کنزالایمان)
اورسورہ بقرہ میں اللہ تعالٰی ارشادفرماتاہے: وَاِذ ااَخَذنَامِیثَاقَ بَنِی اِسرآئیلَ لَاتَعبُدُونَ اِلّاَ اللّہ وَبِالوَالِدَینِ اِحسَانًا (پ ۱سورہ بقرہ)
ترجمہ اور (اس وقت یادکرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہدلیاکہ اللہ کے سواکسی کونہ پوجو اورماں، باپ کے ساتھ بھلائی کرو – (کنزالایمان)
جس طرح اللہ تعالٰی نے ماں، باپ کے ساتھ نیکی اوربھلائی کرناہم پرفرض قراردیاہے اسی طرح ماں، باپ کے لئے کوئی نامناسب اورسخت بات کہنے سے بھی منع فرمایاہے اوران کی نا فرمانی اوربے ادبی کوحرام ٹھہرایاہے –
تفسیرخزائن العرفان میں ہے: ماں، باپ کوان کانام لے کرنہ پکارے یہ خلاف ادب ہے اوروہ سامنے نہ ہوں تونام لے کر ان کاذکرجائزہے -ماں، باپ سے اس طرح کلام کرے جیسے غلام وخادم اپنے آقا سے کرتے ہیں –
اب احادیث کی روشنی میں والدین کامقام ومرتبہ سمجھیں!
حدیث شریف: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں ایک شخص نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میری محبت اورمیری خدمت کاسب سے زیادہ کون مستحق ہے؟ توآقاکریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اُمُّکَ -تیری ماں، عرض کیا پھرکون؟ توآقاکریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اُمُّکَ تیری ماں – (اس شخص نے عرض کیا پھرکون ہے؟ توآقاکریم صلی اللٰہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اُمُّکَ تیری ماں – (چوتھی مرتبہ اس شخص نے) عرض کیا پھرکون؟ توآقاکریم صلی اللٰہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اَبُوکَ تیراباپ – (بخاری شریف ومسلم شریف)
حدیث شریف: رسول اللٰہ صلی اللٰہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ کرم میں ایک شخص نے پوچھا کہ بیٹے پرماں، باپ کا کیاحق ہے؟ تو سرکارصلی اللٰہ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا: ھُمَاجَنَّتُکَ وَنَارُکَ ( مشکٰوةشریف)
یعنی یہ دونوں تیری جنت بھی ہیں اوردوزخ بھی –
اللٰہ اکبر! اللٰہ اکبر! اللہ کے رسول صلی اللٰہ تعالٰی علیہ وسلم نے کتنا پیارااورجامع جواب عطافرمایا اوراپنی امت کوآگاہ فرمادیاکہ جس نے اپنے والدین کی خدمت کی، فرماں برداری کی اس کیلئے جنت ہے اورجس نے اپنے والدین کوایذاپہنچائی نافرمانی کی اس کیلئے دوزخ ہے –
محترم قارئین! بلاشبہ والدین ہمارےلئے اللہ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت ہے لھٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے والدین کی خدمت کریں ، فرماں برداری کریں، ان کی ضروریات کی تکمیل کریں، ان کی دلجوئی کرتے رہیں اور کبھی بھی کوئی ایسی بات نہ کہیں جس سے ان کے دلوں کو ٹھیس پہنچے -اورجن کے والدین اس دارفانی سے کوچ کرگئے ہیں وہ ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے رہیں –
اللٰہ تعالٰی ہم سب کواپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین –



