"یہ معجزہ ہے، کرشمہ ہے یا کرامات — اللہ جانے”
مصنف: عبدالستار ولی مَینشن، سعدپورہ قلعہ، مظفرپور 📞 9835666622
میں نے جنکشن پر بھاگتے ہوئے اپنی ٹرین پکڑی جو مجھے اپنی منزل تک لے جانے والی تھی۔ میں نے ٹرین کے جس ڈبے میں قدم رکھا وہ سلیپر کوچ تھا، جس کی ٹکٹ پہلے سے ہی لے رکھی تھی۔ سلیپر کوچ میں نئی ہدایت کی رو سے خاص مسافر ہی بیٹھ سکتے تھے، لیکن خلافِ توقع آج اِس ڈبے میں بھی خوب رش تھا۔
اپنے ڈبے تک دوڑنے کی وجہ سے میں ذرا ہانپ بھی رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب میں نے اپنے آپ کو ٹھیک پایا تو اِردگرد کا جائزہ لینا شروع کیا۔ سب کے سب اجنبی چہرے۔ یہی ہمارے ملک کی پہچان بھی ہے — پورے ایک سو تیس کروڑ سے زیادہ لوگ، لیکن سب ایک دوسرے سے الگ، مختلف۔ کوئی بنگالی ہے تو کوئی مدراسی۔ نہ کسی کی زبان ایک ہے نہ کسی کا پہناوا یا لباس۔ واہ! لیکن سب کے سب اِس ٹرین کے ڈبے کے مسافروں کی طرح ایک۔ سب کی منزل الگ الگ لیکن سفر اسی ٹرین سے۔
اِس ڈبے میں جہاں میری سیٹ تھی، وہاں کوئی خاتون مسافر نہیں تھی۔ ٹرین فراٹے بھرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی کیونکہ اسے مسافروں کو وقت پر ان کی منزلوں تک لے جانا تھا۔ کچھ دیر بعد میں نے اپنے بیگ سے ایک تازہ ترین رسالہ نکال لیا، جسے آج ہی جنکشن سے اترتے وقت لیا تھا، لیکن یونیورسٹی کے دفتر میں مشغولیت کی وجہ سے اسے دیکھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔
کچھ دیر کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ ایک اجنبی تھوڑا بے چین سا ہے۔ میں دوبارہ اپنے رسالے کی ورق گردانی میں مصروف ہو گیا۔ پھر نظر اسی طرف اُٹھ گئی جدھر وہ مسافر بیٹھا ہوا تھا، لیکن مجھے وہ نظر نہیں آیا۔ مجھے کیا پڑی تھی کہ اُس کی خبرگیری کرتا۔ پھر سے ورق پلٹنے لگا۔ وہ شخص کچھ ہی پل میں اپنی جگہ پر آ بیٹھا، لیکن اُس کے چہرے سے پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔
ٹرین اپنا سفر تیزی سے طے کرتی جا رہی تھی۔ میری منزل تین گھنٹے بعد آنے والی تھی، اس لیے میں اطمینان سے اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ وہ شخص پھر اُٹھا اور کہیں گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ شاید وہ اسی کمپارٹمنٹ کے بغل والے حصے میں گیا ہوگا، کیونکہ کسی کی آواز آئی "نہیں ہے”۔ مجھے لگا کہ اسی شخص نے کسی چیز کی فرمائش کی ہوگی۔ وہ پھر اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔ اب اُس کے چہرے سے بے چینی نے باہر جھانکنا شروع کر دیا تھا۔
کچھ دیر کے بعد میں اپنے آس پاس سے بے خبر اور ٹرین کے ہلنے ڈولنے سے جھولے جیسے مزے کی وجہ سے غنودگی میں جانے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مجھے نیند آ گئی۔ پتہ نہیں کب اچانک میرے کمپارٹمنٹ میں شور ہونے لگا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا، کیونکہ نیند سے اچانک جاگنے کے بعد ماحول سے یکایک رابطہ نہیں ہو پاتا۔
جب پوری طرح آنکھ کھل گئی تو دیکھا کہ اُسی مسافر کو کچھ لوگ برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ کسی نے کہا: "اِس نے بھرسٹ کر دیا”، کسی نے کہا: "اسے پولیس کے حوالے کر دو”۔ یعنی جتنے مسافر اُتنی باتیں۔ میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا کہ چند لمحوں میں کیا ہو گیا جو اِس مسافر کے ساتھ دوسرے مسافر کچھ کرنے کو کہہ رہے ہیں۔
میں خود ایک اجنبی تھا، اور سفر میں ہونے کی وجہ سے کسی بات میں الجھنا یا بیچ بچاؤ کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ زمانہ خراب ہے۔ کوئی مجھے اِس مسافر کا حمایتی سمجھ کر مجھ سے ہی نہ الجھ نہ جائے اور میرے لیے ہی مصیبت کھڑی ہو جائے۔ جب سبھی بولنے لگے تو میں معاملے کی نوعیت جاننے کے لیے اپنے بغل میں بیٹھے ایک مسافر سے پوچھا:
"ہوا کیا ہے؟”
انہوں نے بڑی تفصیل سے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بولے: "یہ جو سامنے بیٹھا ہوا شخص ہے، اِس نے ایک شخص کے بیگ سے پانی پی لیا ہے۔” وہ مزید بولا: "بتائیے! کہیں ایسا ہوتا ہے کیا؟”
اب تک میں کچھ بھی سمجھ نہیں پایا۔ اس لیے پوچھا کہ "اب تک مجھے اس ہنگامے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔” تب وہ بولے: "یہ بھائی صاحب اپنا بیگ اوپر سامان رکھنے والے برتھ پر رکھے یہاں بیٹھے تھے کہ ان کے بیگ سے کچھ ٹپکنے لگا۔ کسی نے اسے اپنی انگلیوں پر لگا کر دیکھا کہ شاید انہوں نے اپنے بیگ میں رس گلے رکھے ہوں جس کا رس ٹپک آیا ہو، لیکن وہ رس نہیں تھا۔ کسی دوسرے نے بھی اسے چھو کر اور سونگھ کر دیکھا لیکن انہیں بھی کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ اچانک وہ مادہ تیز دھار کی شکل میں گرنے لگا۔ اِس مسافر نے اس گرتی ہوئی دھار کو اپنے چلو میں لے کر غٹاغٹ پی لیا بلکہ جی بھر کے پیا گویا اُس کے باپ نے منرل واٹر کا کین بھیجا ہو۔”
پھر وہ بولا: "اُس وقت سے یہ آدمی بالکل چین سے بیٹھا ہوا ہے، ورنہ ہر پانچ منٹ پر یہ اپنی سیٹ سے اُٹھتا اور گھوم پھر کر چلا آتا۔ اب پوری طرح سکون سے ہے۔ اس نے اپرادھ کیا ہے، اسے سزا ملنی ہی چاہیے۔”
جس کا بیگ تھا اور جس کے بیگ سے وہ مادہ گرا تھا، وہ بھی غضبناک ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا: "میں نے اپنی ماں کے لیے گنگا جل لے کر اِس بیگ میں رکھا تھا اور اپنی ماں کے لیے لے جا رہا تھا جو کافی عرصے سے بیمار ہے۔ کسی نے بتایا تھا کہ انہیں گنگا جل پلاؤ، شاید یہ اسی کے لیے زندہ ہوں۔ ہے بھگوان! اب میں کیا کروں!”
اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔ اب ساری بات میری سمجھ میں آ گئی کہ یہ مسافر جو بہت دیر سے بے چین تھا، وہ شاید شدتِ پیاس کی وجہ سے پریشان تھا۔
وہ کئی بار کمپارٹمنٹ میں چکر لگا چکا تھا جسے کہیں بھی پانی نہیں ملا۔ وہ اپنے لباس سے ایک عام سا مسافر تھا، جس کے پاس نہ کوئی سامان تھا نہ اسباب۔ اس لیے اُس نے پانی کی بوتل بھی نہیں لی ہوئی تھی۔ لیکن پیاس کی شدت نے اسے ہلکان کیا ہوا تھا کہ اچانک یہ معجزہ رونما ہوا۔
جس مسافر نے اپنے بیگ میں گنگا جل کو اپنے لوٹے میں بھرا تھا، بہت ہی احتیاط سے رکھا تھا، اور ٹرین میں قدم رکھتے وقت بھی بہت ہوشیاری سے اِس طرح رکھا تھا کہ وہ لوٹا ہر صورت میں سلامتی کے ساتھ ثابت رہے اور ایک قطرہ بھی نہ چھلکے۔ لیکن جب "دے مولیٰ تو کیوں نہ دے سراج الدولہ” — وہی ہوا۔ اللہ نے ایک بندے کی پیاس بجھانے کے لیے تمام بندشیں توڑ ڈالیں اور گنگا جل اُس کے منھ میں اتار دیا۔
میں نے کہا: "ذرا اِن سے بھی تو پوچھیں کہ ماجرا کیا ہے۔” اُس شخص نے بتایا کہ وہ بہت دور سے سفر کر کے آ رہا ہے۔ اس کی ماں کی حالت بہت خراب ہے۔ اُس کے پاس اتنی رقم نہیں کہ وہ کسی طرح جلدی پہنچ جائے۔ اُس کا تو جی چاہتا ہے کہ وہ اُڑ کر اپنی ماں کے قدموں میں پہنچ جائے لیکن ہوائی جہاز کے کرایے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
اس ستم پر بالائے ستم یہ ہوا کہ کسی نے پچھلی ٹرین میں میرا سارا سامان چرا لیا۔ میں بھوکا بھی ہوں۔ اِس کمپارٹمنٹ کے کئی چکر بھی لگا چکا ہوں، لیکن نہ کسی نل میں پانی ہے اور نہ کسی کے پاس ہی۔ میں دل ہی دل میں اپنے پروردگار کو یاد کرتا ہوا سفر کر رہا تھا کہ خدایا اگر مجھے موت بھی آنی ہے تو میری ماں کے قدموں میں پہنچا کر میری روح قبض کر لینا، میں اُف بھی نہیں کروں گا۔ کہ اچانک صاحب کے بیگ سے کچھ ٹپکنے لگا۔
میں اپنے معبود کا شکریہ بجا لایا اور یہ جانے بغیر کہ یہ کوئی جرم بھی ہے یا نہیں، بس منھ لگا دیا۔ خدا کی شان دیکھئے کہ میں نے شکم سیر ہو کر پیا۔ اب مجھے ذرا بھی پیاس نہیں ہے۔ آپ لوگ چاہیں تو مجھے سزا بھی دے سکتے ہیں اور پولیس کے حوالے بھی کر سکتے ہیں، لیکن اتنی گزارش ضرور کروں گا کہ پہلے مجھے ماں کے قدموں میں پہنچنے کی مہلت دے دیں۔”
کچھ لوگ خاموش ہو چکے تھے، اور کچھ لوگ اسے جھوٹا اور مکار سمجھ رہے تھے۔ کسی نے سوچا کہ ہو سکتا ہے یہ روز اسی طرح کے بہانے بناتا ہو۔ اُس مسافر نے اندازہ لگایا کہ اب اُس کا اسٹیشن قریب ہی ہوگا، اس لیے وہ اپنی سیٹ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ کسی نے کچھ نہیں کہا۔ ٹرین کی رفتار دھیمی ہونے لگی اور اسٹیشن پہنچ کر رک گئی۔
وہ شخص اترا اور بھیڑ میں غائب ہو گیا۔ وہ مسافر پلیٹ فارم سے گزرتے ہوئے باہر نکلنے والے دروازے سے باہر جانے لگا تو ٹی سی نے اُسے پہچانتے ہوئے سلام کیا اور بتایا: "چچی جان کی طبیعت اب کافی بہتر ہے، جناب۔” اس کے چہرے پر ایک چمک آئی اور گزر گئی۔
وہ جب گھر پہنچا تو اُس کی ماں نے کہا: "ایک شخص آیا تھا اور تمہارے بارے میں پوچھ رہا تھا کہ ’صاحب کہاں ہیں؟‘ اس شخص نے مزید کہا کہ تمہارا سامان اور کچھ روپئے جو تم نے اُس کے ہاتھ سے بھیجے تھے وہ دیا ہے اور بولا کہ صاحب آتے ہی ہوں گے۔”
یہ حیران! اِس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں کہا: "مولیٰ تو ہر جگہ ہے، تو ہر وقت ہے۔ سب کے ساتھ ہے لیکن تجھے کوئی نہیں پہچانتا، کوئی نہیں جانتا۔ یہ معجزہ سے کم ہے کیا کہ تو نے میری سُن لی اور مجھے اپنی ماں سے ملایا۔ میری ماں کو شفا عطا کی اور مجھے موت بھی نہ آئی۔”
مجھ سے پہلے اُس آدمی کو میرے گھر بھیج کر میرے تمام اسباب واپس لوٹا دیے جو اسے چرا کر لے گیا تھا۔ شاید اُسے میرا شناختی کارڈ مل گیا ہوگا، جسے دیکھ کر وہ میرے گھر چلا آیا۔ تو نے ہی تو اُس کے دل میں میرے مال و اسباب لوٹانے کا خیال ڈالا ہوگا۔
وہ شخص جو اپنی والدہ کے حلق میں گنگا جل ڈالنے کا خواہش مند تھا، وہ اپنا مرجھایا ہوا چہرہ لیے ماں کے پاس گیا تو دیکھا کہ اُس کی ماں آرام کرسی پر بیٹھی ہے اور اسے دیکھتے ہی کہہ رہی ہے: "بیٹا! تو آ گیا؟ میں تیرا ہی انتظار کر رہی تھی۔ تم نے جس آدمی کے ہاتھ گنگا جل بھیجا تھا اسے پیتے ہی میں بھلی چنگی ہو گئی اور دیکھو، میں یہاں بیٹھی ہوں۔”
اپنی ماں کی یہ ساری باتیں سن کر اُسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں ہوا۔ اس نے اپنے دل میں کہا: "میں نے کب کسے بھیجا! گنگا جل تو ٹپک گیا جسے دوسرا مسافر پی گیا۔ اُس مسافر کے پاس تو کچھ تھا بھی نہیں۔ پھر یہ کس نے کیا؟ یہ ضرور کوئی چمتکار ہی ہے۔ میں نے اُس مسافر کو غلط سمجھا — وہ ضرور کوئی دیوتا ہوگا۔”
اگلے دن جب یہ خبر ایک اخبار نے شائع کی تو میرے منھ سے بے اختیار نکلا:
"یہ معجزہ ہے، کرشمہ ہے یا کرامات۔ اللہ جانے۔”



