محمدشارب ضیاء رحمانی
9اپریل 2021کو خانقاہ رحمانی میں امیرشریعت سابع مرشدی حضرت مولانامحمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ کے خلفاء کی موجودگی میں نئے سجادہ نشیں حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کی دستاربندی ہوئی۔اور 9 اکتوبر،2021 کو آپ امارت شرعیہ کے آٹھویں امیرشریعت منتخب ہوئے۔
المعہدالعالی کے احاطہ میں انتخاب امیرکااجلاس ارباب حل وعقدمنعقدہوااورکثرت آراءکی بنیادپرآپ کاانتخاب ہوا۔اس ضمن میں ضروری ہے کہ امیرشریعت ثامن کاتعارفی خاکہ پیش کیاجائے ۔
امیر شریعت حضرت مولانااحمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ولادت 12مئی1975کوخانقاہ رحمانی مونگیرمیں ہوئی۔آپ حضرت امیرشریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ کے بڑے فرزند ہیں۔ایک بہن اورتین بھائی تھے۔سب سے چھوٹے بھائی جناب خالد ولی رحمانی سڑک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔ اب جناب حامدولی فہدرحمانی آپ کے کاندھے سے کاندھا ملاکر کھڑے ہیں۔
امیرشریعت سابع ؒ نے نومبر2015میں آپ کواپناجانشیں متعین کیاتھا۔اپنی وصیت میں چھوٹے بھائی جناب حامد ولی فہدرحمانی کو ان کامعاون بتایاہے۔2006میں ماموں کی دخترسے رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے ۔اللہ نے آپ کودولڑکیوں اورایک فرزندسے نوازا ہے۔
امیرشریعت ثامن نے آنکھ اس گھرانے میں کھولی اورتعلیم وتربیت اس خانوادے میں پائی جورجال سازتھا۔جس گھرانے نے کتنے ایسے چراغ جلائے جن سے چراغ روشن ہوتے رہے اورشخصیتوں کی تعمیرہوتی رہی۔پوری ملت اس کی گواہ ہے ۔
دادابزرگوارحضرت امیرشریعت رابع مولانامنت اللہ رحمانی اور والد بزرگوار حضرت امیرشریعت سابع مولانامحمدولی رحمانی کے زیرتربیت آپ کی پرورش اورتعلیم وتربیت ہوئی۔دریں اثناءجامعہ رحمانی مونگیرکے متعدداساتذہ سے آپ نے علوم دینیہ حاصل کیا۔یہاں آپ کے اساتذہ میں جناب قاری مشتاق،جناب مولاناابراہیم،جناب مولانامعین الدین رحمة اللہ علیھم ہیں۔
نیز مولاناحکیم حبیب الرحمنؒ جو امیر شریعت رابعؒ کے خلیفہ اورامیرشریعت سابعؒ کے بھی استاذتھے،سے علوم حاصل کیے۔آپ کے اساتذہ میں جامعہ رحمانی کے سنیئر استاذ مولانا محمدنعیم رحمانی دامت برکاتہم بھی ہیں۔پھراعلیٰ عصری تعلیم کے لیے امریکہ کا سفرکیااورجدیدعصری علوم وزبان پردسترس حاصل کی۔نیزاعلیٰ دینی علوم مصرسے حاصل کیے۔ آپ ملکی وعالمی حالات پرگہری نگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ انگریزی اورعربی دونوں عالمی زبان پرقادرہیں۔
امیرشریعت ثامن بھی اپنے والدمحترم اورجدامجدکی طرح علم وعمل کے حسین سنگم ہیں۔ ان کی شخصیت میں عصری اوردینی علوم کا امتزاج ہے۔آپ نے مغربی دنیااورعالم اسلام کوبہت قریب سے دیکھاہے۔
مولانااحمدولی فیصل رحمانی کی فکر ہے کہ علماء،جدیدعلوم وٹکنالوجی سے واقف ہی نہیں،بلکہ ان کے ماہر ہوں، چنانچہ انھوں نے جامعہ رحمانی میں شعبہ’دارالحکمت ‘ کاقیام کیا اورتقریباََدس برسوں سے آپ کی نگرانی میں کوشش ہے کہ حفظ کے طلبہ بھی حافظ ہونے کے بعد عربی سے اس قدرواقف ہوں کہ قرآن مجید کا خود ترجمہ کرلیں،ساتھ ہی زور دیتے رہے کہ وہاں کے اساتذہ ،کمپیوٹر،ٹیکنالوجی سیکھیں اورجدیدتقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
گہرائی سے اندازہ لگائیں تویہ فکر کوئی عام بات نہیں ہے۔آپ کوقرآن مجیدسے زبردست محبت ہے اوراس پرپوری توجہ ہے۔مصرمیں آپ نے باضابطہ تجویدکی تعلیم حاصل کی۔عالم اسلام کی عظیم یونیورسیٹی جامعہ ازہرقاہرہ ،مصر سے علوم اسلامیہ اورعربی زبان میں درک حاصل کیا،اس کے ساتھ عصری علوم اور جدید ٹکنالوجی کے مانو بادشاہ ہی ہیں۔
ان کی انگریزی تقاریرسننے کے بعدعلم کی گہرائی،وسعت مطالعہ کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔امریکہ میں نیو کلیئر پاورپلانٹ اورآئل وگیس محکموں کی اہم ذمے داری نبھائی ہے۔2001سے 2005تک امریکہ کی مختلف اعلیٰ کمپنیوں میں خدمات دیتے رہے۔ آپ کی صلاحیتوں کودیکھتے ہوئے ایکسچنجر کمپنی نے 2005 میں بطورفیکلٹی مقررکیا،یہاں مولانافیصل رحمانی پروجیکٹ منیجمنٹ،ورک پلاننگ اینڈمانیٹرنگ ، سولیوشن ڈیلیوری فنڈامنٹل کے لکچردیتے رہے۔
بڑی عالمی سافٹ ویئرکمپنیAdobeکے ایم ڈی ایم کے عہدہ پربھی فائز رہے۔ 2012میں بی پی کمپنی میں ٹرمنل اینڈٹرانسپورٹ منیجربنائے گئے ،2013میں ماس میڈیااینڈانٹرٹینمنٹ کی ملٹی نیشنل کمپنیDisnneyمیں بطورسروس منیجرتقرری ہوئی۔متعدد بین الاقوامی کمپنیوں میں قائدانہ ذمے داریاں انجام دینے کے بعد 2015 میں آپ امریکہ کی معروف اوردنیاکی سرفہرست دس یونیورسیٹی میں شامل کیلی فورنیا یونیورسیٹی سے ڈائریکٹرآف اسٹریٹیجک پروجیکٹ منجمینٹ کے طورپرمنسلک ہوئے۔
جہاں اب تک مختلف اعلیٰ تعلیم اورکورسزمیں رہنمائی کررہے تھے۔اس کے علاوہ عراق جنگ کے موقعہ پرآپ کی کمپنی نے آپ کی نگرانی میں متعدد رفاہی کام کیے جس کی کافی پذیرائی ہوئی۔
مندرجہ بالامشمولات سے اندازہ ہوجائے گاکہ تنظیمی کاموں اورجدیدعلوم کاآپ کوکتناوسیع تجربہ ہے۔بدلتے حالات،دشوارگزارمرحلوں میں آپ کی قائدانہ صلاحیت نمایاں ہوئی ہے۔رفاہی مزاج رکھتے ہیں۔
سیمانچل سیلاب کے موقعہ پردونوں بھائیوں نے عوام کے درمیان رہ کرکام کیا۔ میں نے اس موقعہ پردہلی میں حضرت ؒ کووہ تصاویر دکھائیں توآپؒ نے خوب دعائیں دیں۔بچپن سے دینی مزاج رکھتے ہیں،دینی غیرت وحمیت کوٹ کوٹ کربھری ہے۔ مونگیر میں اسکول کے ابتدائی زمانے میں ٹیچرنے کہہ دیاکہ مسلمان گندے ہوتے ہیں،دونوں بھائی وہاں سے اٹھے ،سیدھاڈی ایم کے پاس پہونچ کرسوال کیاکہ کیاہم گندے ہیں،ڈی ایم نے کہا،نہیں تو،پھرکہا،کیامسلمان گندے ہوتے ہیں۔
ڈی ایم حیرت زدہ ہوگئے تب آپ نے اسکول کا واقعہ بتایا،ڈی ایم نے فوراََ ٹیچر پر کارروائی کرائی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ انھوں نے پہلے اپنے گھرخبرنہیں کی،والداور دادا کو خبر اس وقت ہوئی جب کارروائی ہوچکی تھی۔ابھی کی بات ہے ،والدکے انتقال کے بعدمونگیرمیں قبرستان کامعاملہ پیش آیا،آپ اس وقت پٹنہ میں تھے۔
فوراََ مونگیرتشریف لے گئے اورحکومتی انتظامیہ سے کہا کہ اگر آپ کوسڑک نکالنی ہے تو پہلے میری قبربنانی ہوگی۔اس جواب کی توقع ڈی ایم کونہیں تھی۔امریکہ کی کمپنی کے ایک بڑے پروگرام میں مولانااحمدفیصل رحمانی مدعو ہوئے،اندرکافی انتظار ہوتا رہا،باہر آکرانتظامیہ نے دیکھا تو کھڑاپایا،وجہ پوچھی توفرمایا ’اندروہ چیزرکھی ہے جومیرے مذہب میں حرام ہے‘۔
انتظامیہ نے معذرت کی،شراب ہٹائی گئی،انتظام درست کیاگیا،تب آپ وہاں گئے۔یہ دومثالیں بتانے کے لیے کافی ہیں کہ خاندانی جرات وغیرت ایمانی، کس طرح مزاج میں رچی بسی ہے۔ملت کوایسی ہی جرات مند،غیرت مند اور باحوصلہ قیادت کی ضرورت ہے۔ آپ کودیکھ کرامیدکی بجھتی شمع کی لو،یقینا کچھ تیزہوجاتی ہے۔
آپ نے ہمیشہ صاف ستھری زندگی گزاری ہے ۔دامن پرکہیں داغ نہیں ہے ۔طبیعت میں غیرمعمولی سنجیدگی ہے ۔حسن اخلاق سے مزین ہیں۔وقت کے پابندہیں۔مزاج کی سادگی اورسب کوساتھ لے کرچلنے کے مزاج کااندازہ ادھرچنددنوں میں لوگوں کو ہو گیا ہوگا ۔
مخالفین کو اپنا بنا کر، مل جل کر کام کرنے کا ہنر آپ کوخوب آتاہے،ان کایقین ہے کہ ادارہ کسی فرد کا نہیں ہوتا اور سربراہ کے اوپر کافی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔عہدہ تاج نہیں ہے بلکہ امانت خداوندی ہے جس کے تقاضے کوپوراکرناضروری ہے۔
سربراہ کو اپناوقت غیرضروری چیزوں میں صرف نہیں کرناچاہیے بلکہ مل جل کرآگے بڑھناچاہیے۔حال کی بات ہے، سارے اختلافات کے باوجودخانقاہ مجیبیہ،جناب احمدعبدالحی کے گھرپرحاضری اور جناب ایڈووکیٹ راغب احسن سے مل کرآپ نے پرانی کڑواہٹوں کوکس طرح دورکیاکہ دنیاعش عش ہے۔یہی وسعت قلب وفکرآپ کا امتیازبھی ہے۔ ایساکلیجہ کہاں کسی کاہوتاہے۔
تمام ملی تنظیموں سے ملاقات کرکے آپ نے سبھوں کے ساتھ مل کرکام کرنے کاعزم ظاہرکیا۔آنے والے دنوں میں جسے بھی آپ کے مزاج اورطبیعت کی بے انتہاسنجیدگی،حسن اخلاق اوروقارکااندازہ ہوگاوہ گرویدہ ہوجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ دونوں بھائیوں نے جوکچھ ترقی کی،اپنی محنت سے کی،خاندان کے نام اوراثرورسوخ کاکبھی استعمال نہیں کیا۔امیرشریعت نے بھی تپنے کے لیے اورزندگی کے تجربے حاصل کرنے کے لیے دونوں کوآزادرکھا۔زندگی میں خود محنت کرکے اعلیٰ مقام حاصل کیا،دشوارگزارمرحلے خودطے کیے۔جب تپ کرتیارہوئے تب امیرشریعت نے اپنی جانشینی سپرد کی۔
یہی مزاج امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی علیہ الرحمہ کابھی تھا۔دارالعلوم دیوبندمیں عرصہ تک بیشتر اساتذہ کومعلوم نہیں تھاکہ آپ،امیرشریعت مولانامنت اللہ رحمانی کے فرزندہیں۔آپؒ کے فرزندوں نے یہی مزاج پایاہے۔انھوں نے خاندانی اثرورسوخ اوروجاہت کے استعمال کوکبھی پسندنہیں کیا،کبھی انھوں نے ’مولاناولی رحمانیؒ ‘کااسٹیکرنہیں لگایا،انھیں والدکی طرح نہیں بلکہ ہمیشہ مرشدکی طرح دیکھا اور رہنمائی حاصل کی۔
والد سے سیکھنے کاجذبہ رہا،حددرجہ احترام رہا۔ اس سے یہ سوال رفع ہوجاتاہے کہ امیرشریعتؒ کی زندگی میں انھیں سامنے کیوں نہیں لایا گیا۔دراصل امیرشریعت سابعؒ کا یہ مزاج نہیں رہاکہ وہ اپنے بچوں کوپروجیکٹ کریں۔اسی لیے نہ سیاسی گلیارے میں اورنہ دینی ومذہبی حلقے میں ان کی تشہیرکی۔ورنہ چاہتے تو زندگی میں ہی بہت کچھ بناچکے ہوتے۔ امیرشریعتؒ کی کوشش رہی کہ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ جگہ بنائیں۔انھیں اپنے فرزندوں کی ذاتی صلاحیتوں پرمکمل اعتماد تھا۔
امیرشریعت مولانااحمدولی فیصل رحمانی کامذہبی مطالعہ کافی وسیع ہے۔آپ کی شخصیت میں دینی علوم کی گہرائی ہے،جدیدوقدیم کاسنگم ہے اورعصری اور دینی تعلیم کاامتزاج ہے۔دس منٹ بات کرلیں،اندازہ ہوجائے گاکہ علم و قابلیت کادریارواں ہے۔سنجیدگی،سادگی،متانت،وقار،حلم وبردباری،رگ رگ میں پیوست ہیں۔تقریرکی زبان میں اسی سنجیدگی اورمتانت کااحسا س ہوتاہے۔ اپنے اجداد اور والد بزرگوار کی طرح سچ کوسچ کہنے کی جرات ہے۔یہ کوئی مبالغہ نہیں،مجھ حقیرکو چندماہ شرف باریابی ملاہے،آپ نے پڑھایابھی ہے۔
سادگی و حلم کے واقعات ہم لوگوں کے ساتھ خوب پیش آئے ہیں جس کے میں اور میرے ساتھی گواہ ہیں۔یہ تاثرات ان ہی تجربات کی روشنی میں رقم کیے گئے ہیں۔ خانقاہ رحمانی اورامارت شرعیہ کی جرات کی تاریخ،عزیمت کی تاریخ، تحریکات کی تاریخ کامستقل باب ہے۔تراش خراش کرایک ہیراتیارہے،آپ کاانتخاب ان شاءاللہ ملت کے لیے مفیدہوگا۔
کام کاجنون ہے،ملت کی بے انتہا فکرہے۔´آپ کی صلاحیتوں کاجسے اندازہ ہوگا، اسے یقین ہوجائے گاکہ آپ،اپنے بزرگوں کے حقیقی جانشین ہوں گے۔نئے امیرشریعت ان روایتوں کو آگے بڑھائیں گے اوراپنے بزرگوں اور خانقاہ رحمانی کی جرات وعزیمت اورقیادت کی تاریخ کومزید مزین کریں گے۔امارت کے کاموں کی بڑے پیمانے پرتوسیع کریں گے اورملت کوبڑافائدہ ہوگا۔ان شاءاللہ۔ایں دعاءازمن وازجملہ جہاں،آمین باد۔



