معاشرہ میں معلم یا استاد کا مقام
استاد کا مقدس مقام: ماں باپ سے نبی ﷺ تک تعلیم و تربیت کا سفر
استاد یا معلم انسانی معاشرہ میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں. یہاں یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ صرف الف – بے اور ایک- دو- تین کی تعلیم دینے والا ہی معلم نہیں ہوتا بلکہ انسانی زندگی میں ہر کام یا ہنر کا سیکھانے والا اور تربیت دینے والا ایک معلم و استاد کا مقام رکھتا ہے.سب سے پہلے یہ مقام ماں اور باپ کے حق میں جاتا ہے.دنیا کا ہر نفس بخوبی واقف ہیکہ ایک ماں اپنے بچے کو جنم دینے کے ساتھ ہی اپنی اولاد کی جسمانی حرکت اور اسکے رونے اور مسکرانے سے بچے کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور اسکو پورا بھی کرتی ہے.جیسا جیسا بچہ بڑا ہوتا ہے ایک ماں اسکو پہلے ہاتھ کے اشاروں اور پھر آواز سے اپنی طرف راغب کرتی اور بھلاتی ہے.
آہستہ آہستہ غذا کھلاتے اور پانی پلاتے ہوے تربیت دیتی ہے.پھر ہاتھ تھام کر کھڑے ہونے اور چلنے کی تربیت کرتی ہے.جب بچہ چلنے اور بولنے کے لائق ہوجاتا ہے تب کسی استاد یا اسکول کے حوالہ کرتی ہے. جہاں بچہ کو حروف اور نمبرات کی بنیادی تعلیم دی جاتی ہے. اسطرح ایک بچہ اپنی زندگی کے قریب سولہ سال ایک اسکول اور اساتذہ کے درمیان تربیت پاتے ہوے ایک طالب علم کا مقام حاصل کرتا ہے اور آگے کی تعلیم جاری رکھتے ہوے معاشرہ کے ایک تعلیم یافتہ شہری میں شمار ہونے لگتا ہے.
یہاں ایک باپ بھی اپنے بچہ کو ہر قدم تربیت دیتے ہوے ایک استاد کا فرض ادا کرتا ہے.جب ایک بچہ تعلیم یافتہ افراد میں شمار ہونے لگتا ہے تب وہ باپ ہی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر حقیقی استاد کی شکل میں تربیت دیتا ہے.یہ امر عیاں ہیکہ ماں باپ کی تربیت اور معلمین کا درس ایک بچہ کو معاشرہ کا مہزب شہری اور قوم کا رہنما بنانے میں اجتماعی کردار ادا کرتے ہیں.اس تفصیل کے بیان کرنے کا حاصل مقصد یہی ہیکہ انسان کی زندگی میں سب سے پہلے ماں باپ اور پھر پڑھانے لکھانے والے افراد ایک استاد کا مقام رکھتے ہیں.
یہ بات بھی عیاں ہیکہ ایک کھیل کے میدان سے لیکر کْشتی کے اکھاڑے میں تربیت دینے والے اور دنیا کے کسی بھی پیشہ سے وابستہ افراد جو اپنے ماتحتین کو تربیت دیتے ہیں ایک استاد کا مقام رکھتے ہیں.
دنیا کے وجود ہی سے انسانوں کی رہنمائی و تربیت کیلئیے خالقِ کائینات کی جانب سے پیغمبروں اور فرشتوں کی شکل میں معلم بھیجے گئیے.کرہ ارض پر انسانوں کے پہلے معلم آدم علیہ بھیجے گئیے.اسطرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور آخر کار محمد صلعم آخری نبی کی حیثیت سے مبعوث کئیے گئیے.آپ صلعم پر پہلی وحی فرشتہ جبرئیل علیہ کے ذریعہ بھیجی گئی.یعنی یہاں ایک فرشتہ کو اللہ نے معلم بناکر بھیجا.اللہ کے حکم سے جبرئیل علیہ نے حضور صلعم تک اللہ کے کلام قرآنِ مجید کو پہونچایا اور پڑھایا. اسطرح ایک معلم کے مقام سے سرفراز ہوے.
حضور صلعم نے ساری انسانیت کو آگاہ کیا کہ ” مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے” تو اندازہ لگایا جاسکتا ہیکہ ایک معلم یا استاد کا اس دنیا میں کتنا بلند مرتبہ ہے.آپ صلعم کی مکمل زندگی انسانیت کیلئیے ایک مدرسہ بلکہ یونیورسٹی کا مقام رکھتی ہے.اللہ تعالی نے آپ صلعم کو عالمین کیلئیے معلم اور رحمت بناکر بھیجا.آپ صلعم کا ہر چھوٹا و بڑا عمل بلاشبہ ساری انسانیت کیلئے درس اور تربیت ہے اور اس پر عمل کرنے سے ہی مالک حقیقی اللہ تعالی خوش ہوتے ہیں اور آخرت کی زندگی میں کامیابی سے نوازنے والے ہیں.
آپ صلعم کی بحیثیت ایک پیغمبر و معلم ذمداری مکمل ہوئی اور اس دنیاے فانی سے کوچ کرنیکا موقع آیا تب آپ ص نے دینِ اسلام کی اشاعت و تحفظ کی ذمداری خلفاے راشدین- امام -معلمین -اور ملت کے امراء کے سپرد کی جو تا قیامت جاری رہیگی.
یہاں یہ امر ثابت اور واضح ہوجاتا ہیکہ نہ صرف دورِ حاضر بلکہ ماضی بعید سے ہی انسانوں کی تعلیم و تربیت کی ذمداری وقت کے معلمین کے شانوں پر رکھی گئی ہے.اسی بنیاد پر معاشرہ میں ایک معلم کو خاص مقام حاصل ہے.
اس بات کو بھی واضح کردیا گیا ہیکہ انسان کے دنیا میں تین باپ ہوتے ہیں.ایک وہ جسنے جنم دیا.دوسرا وہ جس نے اپنی لخت جگر بیٹی کو نکاح میں دیا اور تیسرا استاد جو تعلیم دیا.
"حضرت علی رض نے کہا کہ کوئی فرد آپکو ایک لفظ بھی سکھادے میں اسکا غلام بن جاونگا . یہ ہے استاد کی قدر و احترام.
"جہاں تک استاد کے احترام کرنیکا تعلق ہے امام ابو حنیفہ رح علیہ کبھی اپنے استاد کے مکان کی طرف پیر کرکے آرام نہیں کئیے اگرچیکہ گھروں کے درمیان کئی گلیاں موجود تھیں.یہی احترام کا عمل آپکو وقت کے امام تک پہونچایا”
مذکورہ بالا ایک معلم کے محترم درجات اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ایک معلم یا استاد پر کس قدر بھاری ذمداری ہیکہ وہ اس عطا کئیے گئیے محترم مقام کا تحفظ اپنے نجی عمل اور حاصل کردہ تربیت کو وقت کی نئی نسل میں ایمانداری کے ساتھ منتقل کرتے ہوے کرے. تب ہی تو دنیا میں امام و ولی اور قوم کے رہنما پیدا ہوے ہیں اور پیدا ہوتے رہینگے. ورنہ تربیت کے بغیر دنیا میں سرکش و فساد برپا کرنے والے انسان اپنا قبضہ جمالینگے جو نہ صرف انسانوں کی بربادی و ہلاکت کا ذریعہ بنینگے بلکہ مادی دنیا کی بربادی کا سبب بھی ہونگے.
دنیا شاہد ہیکہ جس جس طرح کی تعلیم و تربیت وقت کے عالموں و اماموں کے ذریعہ انسانوں کو دی گئی اسی انداز میں دنیا کبھی فساد اور کبھی امن کا سامنا کرتے آئی ہے بلکہ مستقبل میں بھی سامنا کرتے رہیگی.
لھذا ضرورت اس بات کی ہیکہ ہر دور کے معلم و استاد بہترین تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں پہلے خود محترم بنیں اور پھر نئی نسل کو اچھی تعلیم و تربیت دیتے ہوے ساری انسانیت کا تحفظ کریں جو انکی لازمی ذمداری ہے.یہاں انسانیت کے تحفظ پر اس لئیے زور دیا جارہا ہیکہ پیشہ تدریس سے وابستہ چند ایک استاد اپنی وحشیانہ حرکات کی وجہ سے اس پیشہ کی محترم صفت کو آلودہ کرچکے ہیں جسکو پاک کرنے میں شاید برسوں بیت جائیں.
مگر یہ بات بھی ثابت ہیکہ اگر کسی خوشبودار عطر کو کسی تعفن بھرے ماحول میں پھینکا بھی جاے تو وہ اپنی خوشبو کی صفت کھو نہیں دیتی.اسی طرح چند ایک کی گندہ حرکتیں پیشہ تدریس کے احترام کو فنا نہیں کرسکتی…خیر.
ہر سال ھمارے ملک ھندوستان میں 5 سپٹمبر اور عالمی سطح پر 5 اکٹوبر کو "یومِ اساتذہ” مناتے ہوے پیشہ تدریس اور اساتذہ کی عزت افزائی کیجاتی ہے جو اس محترم پیشہ کا حق بھی ہے اور یہ عمل تا قیامت جاری رہیگا.
متذکرہ عزت افزائی تب ہی ممکن ہے جب کہ دنیا بھر کے اساتذہ اپنے پیشہ کا پہلےخود احترام کرینگے اور پھر اپنی اچھی تعلیم و تربیت کو نئی نسل میں منتقل کرتے ہوے معاشرہ کو باعزت بنائینگے.
"اپنے تابندہ خیالات کو چھپاے مت رکھنا
روشنی کم نہیں ہوتی جو بٹ جاتی ہے”
تحریر:- ایس۔ایم۔عارف حسین۔اعزازی خادم تعلیمات۔مشیرآباد



