برصغیر میں سلسلۂ سہروردیہ کے بانی شیخ الاسلام امام السالکین شیخ الشیوخ حضرت ابوحفص شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ
برصغیر میں سلسلۂ سہروردیہ کے بانی شیخ الاسلام امام السالکین شیخ الشیوخ
حضرت ابوحفص شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ
ابو عمار محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،صحافی و ادیب،روزنامہ کے بی این ٹائمز،گلبرگہ
بر صغیر میںبزر گان دین کے بہت سے مشہور سلسلے ہیں جنہوں نے اسلام کی تعلیما ت کی ترویج و اشاعت کابے مثال و لازوال کام کیاہے ان میں… سلسلہ قادریہ حضرت سیدنا شیخ عبد ا لقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ،561ھ۔۔۔ سلسلہ چشتیہ حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی؍حضرت شیخ خواجہ معین ا لد ین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ536ھ۔۔ سلسلہ رفاعیہ حضرت شیخ الکبیر احمد بن الر فاعی رحمۃاللہ علیہ578ھ۔۔۔ سلسلہ سہر ور دیہ حضرت سیدنا ابوحفص شیخ شہاب الدین عمرسہر وردی ر حمۃاللہ632ھ۔۔ سلسلہ نقشبندیہ حضرت شیخ محمد بہا اؤ الدین شاہ نقشبند رحمۃاللہ علیہ751ھ وغیرہ وغیرہ ہیں۔مشائخ کرام، بزرگان طریقت اورصوفیہ عظام کی برصغیر میںصدیوں ہوئی تبلیغی سرگرمیوں اوررشدوہدایت سے لاکھوں غیرمسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے سلسلہ چشتیہ اورسہروردیہ کے بزرگان اور ان خانوادوں کی مختلف شاخوں اوراصحاب نے تبلیغ اسلام اوررشدوہدایت کی جوشمع اپنی اپنی خانقاہوں میں روشن کی ہندوستان کے گوشہ گوشہ میںاس کی روشنی پہنچی اوربندگان خداکو بے دینی اورکفر کی تاریکیوں سے نکال کر حق ومعرفت سے روشناس کرایا۔
چشتیہ سلسلہ کے بعد ہندوستان میں سہر ورد یہ سلسلہ شروع ہوا،اس سلسلے کی بنیاد شیخ ضیا ء الدین البوال النجیب سہر ورد ی رحمۃ اللہ علیہ نے بغداد میں رکھی تھی۔ آپ امام ابو حامد ا لغزالی540ھ کے بھائی احمد غزالی کے مرید تھے اور بغداد کی جامعہ نظامیہ میں شافعی فقہ پڑھاتے تھے۔ مشہور زمانہ کتاب آداب المریدین آپ کی لکھی ہوئی ہے جو مطالعہ سے تعلق رکھتی ہے۔سہروردیہ سلسلہ دنیا بھر کے مشہور روحانی سلاسل میں سے ہے اس سلسلہ کے پیروکار سہروردی کہلاتے ہیں، جو زیادہ تر ہندوستان ، پاکستان،ایران اور بنگلہ دیش میں ہیں۔
برصغیر میںاس سلسلہ کے بانی حضرت ابوحفص شیخ شہاب الدین عمرسہروردی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ شیخ الشیوخ حضرت ابوحفص شیخ شہاب الدین عمرسہروردی کو سلسلۂ سہروردیہ کے مؤسسِ ثانی کی حیثیت حاصل ہے۔ ابن خلکان کے مطابق 16واسطوں سے آپ کا نسب خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہہ سے مل جاتا ہے۔ آپ 535ھ میں آذربائیجان کے دارلحکومت زنجان کے ایک قصبہ سہرورد میں پیدا ہوئے تھے۔
حضرت ؒکاپورا نام ابوحفص شہاب الدین عمربن احمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ البکری المعروف شیخ عمویہ بن سعد بن حسین بن قاسم بن سعد بن نصر بن عبد الرحمن بن قاسم بن محمد بن امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہہ۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے عم محترم اور مرشد شیخ ابو النجیب سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ آپ ؒنے اس وقت کے اکابر علماء و مشائخ سے تحصیلِ علوم کیا۔ جیسے محدث ابن نجار، محدث شیخ ابوالغنائم، شیخ ابوالعباس (علیہم الرحمہ) ۔حضرت شہاب الدین سہروردی کوبچپن ہی سے حضرت غوث الاعظم عبد القادِر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی عنایت حاصل تھی۔ اور آپ کی نظرِ عنایت کی وجہ سے آپ کو بہت کچھ روحانی فیض حاصل ہوا۔ جوانی میں بغداد تشریف لے گئے اور جامعہ نظامیہ میں تعلیم حاصل کی۔ امام بیہقی، علامہ خطیب بغدادی اور امام قشیری سے حدیث سنی۔ سکندریہ بھی گئے، حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت کا بھی شرف حاصل کیا۔ پھر درس وتدریس کا سلسلہ چھوڑ کر درویشوں کی صحبت اختیار کی اور چلّے اور مجاہدے کیے۔ .
545ھ میں سلطان مسعود سلجوقی اور خلیفہ بغداد کی استدعا پر مدرسہ نظامیہ کے صدر مقرر ہوئے۔ آپؒ اکثر سبز چادر اوڑھا کرتے ۔حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کا شمار اپنے وقت کے عظیم علماء میں ہوتا تھا۔یہی وجہ کہ اس وقت کے جید علماء و مشائخ اپنے مسائل کے حل کیلئے آپ کی بارگاہ میں رجوع کرتے تھے۔حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت شہاب الدین عمر سہروردی کے متعلق فرمایا تھا:”یا عمر انت آخر المشہورین بالعراق” کہ اے عمر! تم سرزمین عراق کے آخری مشہور انسان ہو۔حضرت محبوبِ سبحانی ؒکے وصال کے بعد سرزمینِ عراق میں آپ کے پائے کا کوئی بزرگ نہیں تھا۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی اپنی خانقاہ تک محدود نہ رہے، بلکہ آپ ؒ ملکی حالات اور عالمِ اسلام کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے، جہاں کہیں خلافِ شرع امور دیکھتے تو آپ ؒمیدانِ عمل میں آجاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ؒکے خلفاء نے ہر جگہ مخالفینِ اسلام کا مقابلہ کیا۔ پورا عالم بالعموم اور برصغیر (ہند وپاک ) بالخصوص آپ ؒکے فیض سے مستفیض ہوئے۔
بغداد میں حضرت عبد القادِر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے وِصال کے بعد برسوں تک حضرت ابوحفص شیخ شہاب الدین عمرسہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے بغداد کی روحانی سیادت کا نظام نہایت خوش اسلوبی سے نبھایا۔ آپ ؒکی ذاتِ گرامی سے لاکھوں بند گانِ خدا کو فیض پہنچا۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒکی علمی لیاقت اور رِیاضت کا شہرہ نہ صرف عراق میں بلکہ مصر و شام و حجاز اور ایران میں دور دور تک پہنچ چکا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان میں بھی آپ ؒکی بزرگی کا غلغلہ بلند تھا۔ دُنیا بھر کے مشائخ عِظام کے لیے آپ کی ذات گرامی ملجاء بنی ہوئی تھی۔ 628ھ میں جب حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒسعادت حج سے سرفراز ہوئے اس وقت ایک کثیرجماعت آپ ؒکے ساتھ تھی۔
حضرت ابوحفص شہاب الدین عمرسہر وردی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات 1ـ ۔اعلام الہدی و عقیدۃ اہل التقی جوکہ مکہ تألیف کی2ـ۔ جذب القلوب الی مواصلۃ المحبوب3۔ـ رشف النصائح الایمانیہ و کشف الفضائح الیونانیہ4ـ۔ دو فتوت نامہ بہ فارسی5۔ـ عوارف المعارف6ـ ب۔ہجۃ الاسرارہیں۔عوارف المعارف چھٹی صدی میں لکھی جانے والی حضرت شیخ ابوحفص شہاب الدین عمر سہروردیؒ کی مشہورتصنیف ہے یہ تصوف کی بہت اہم تصنیف ہے اس میں احادیث ذکر کرنے کا بہت اہتمام کیا گیا ہے۔صوفیا نے متعدد کتابیں تصوف پر لکھیں اسی طرح حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کی کتاب عوارف المعارف بھی لکھی گئی
جو ان سب میں نمایاں ہے مصنف نے اسے بیش بہا علمی و فکری مباحث سے آراستہ کیا اسی وجہ سے صوفیا و مشائخ نے اس کتاب کو سالکان تصوف کے لیے لازم و ضروری قرار دیا یہ چھٹی صدی ہجری کی گرانمایاں اور ممتاز کتاب ہے ایسی قابل اعتماد کتاب ہے کہ صوفیائے کرام نے اس کا درس دیا اور اس کی سماعت کو اپنے لیے موجب اطمینان و تشکر سمجھااس کتاب کی ہر دور میں اہمیت رہی خانقاہوں میں باضابطہ اس کی تعلیم دی جاتی رہی تصوف کیا ہے اس کے مباحث کس نوعیت کے ہیں یہ کتاب ان تمام امور پر اچھی طرح روشنی ڈالتی ہے۔
دائرۃ المعارف الاسلامیہ میں ہے کہ ہندوستان کے قدیم چشتی صوفی کتاب عوارف المعارف کو اپنا سب سے بڑا ہدایت نامہ سمجھتے تھے ان کی خانقاہوں کی تنظیم اسی کتاب پر مبنی تھی اور عشاق و صوفیا اسے اپنے مریدوں کو پڑھایا کرتے تھے۔یہ کتاب اہل علم خاص کر صوفیا حضرات کے یہاں بہت مقبول ہے تصوف کے اسرار ورموز اور تزکیہ نفس کے اصول بہت نفیس پیرائے میں لکھے ہیں، ”عوارف ا لمعارف” میں خانقاہی نظام کے بارے میں بہت تفصیلات درج ہیں۔ برصغیر ہندوپاک میںبزرگان چشتیہ وسہروردیہ کے یہاں عوارف المعارف کاپڑھنا ارباب معرفت وسلوک کے لئے لازمی تھا خودسلطان المشائخ حضرت محبوب الٰہیؒ نے حضرت بابافرید گنج شکرؒسے عوارف المعارف کے چندابواب پڑھے تھے اوراس کے بعد آپ ؒکے سلسلہ کے ارباب طریقت کے لئے بھی اس کاپڑھنا منجملہ دوسری کتب تصوف کے ضروری تھا۔
حضرت سیدمحمدالحسینیؒ خواجہ گیسودرازبندہ نوازؒ جوگلبرگہ دکن میںصاحب تصانیف کثیرہ ولی ہیں نے عوارف المعارف کی شرح عربی زبان میںتصنیف فرمائی اورحضرت خواجہ بندہ نوازؒ بھی اپنی مجالس میںعوارف المعارف پڑھتے اورپڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔حضرت علامہ شمس الحسن شمس بریلوی جنہوں نے عوارف المعارف کااردو ترجمہ کیا ہے عوارف المعارف کوحضرت شہاب الدین سہروردی ؒ کی کرامت قراردیتے ہیں ،دنیائے تصوف میںعوارف المعارف کوبہت ہی اعلیٰ اوربلند مقام حاصل ہے ۔
برصغیر ہندوپاک کے علاوہ عوارف المعارف مصروبیروت سے بھی شائع ہوئی ہے۔عوارف المعارف 63ابواب پرمشتمل ہے ان ابواب میں علم تصوف ،ماہیت تصوف ،صوفیوں کے مختلف فرقے،خرقہ، مشائخ کی حقیقت ،آداب سفر ،آداب صحبت،اخوت، مکاشفات، خطرات خاطر، مقامات واحوال، نظام خانقاہی وغیرہ پرسیرحاصل بحث کی گئی ہے۔اوریہی اس کی مقبولیت اور صدیوں سے اس کی قدرومنزلت کاراز ہے۔اردو کے علاوہ عربی وفارسی میںبھی اس کی متعدد شرحیں لکھی گئیں۔ارباب طریقت ،مشائخ عظام اورپیران طریقت نے اس کو گرانما اوربلند مرتبہ قراردیا ہے اورہرعہدکے مشائخ اور بزرگان دین نے اپنے مریدوں کے لئے عوارف المعارف کی تعلیم اورمطالعہ کوضروری قراردیاہے۔
حضرت ابوحفص شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء اور مریدین ہمہ وقت آپ کی بارگاہ میں حاضر رہتے تھے۔ ان میں سے چند حسب ذیل ہیں۔ شیخ نجیب الدین علی بخش جن کے ذریعے عجم یعنی ایران میں سہروردی سلسلہ کی بہت زیادہ اِشاعت ہوئی۔ شیخ نور الدین مبارک غزنوی جن کی مساعی اور کاوِشوں کی وجہ سے شمالی ہندوستان میں سہروردیہ سلسلے کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ اُس زمانے میں شیخ الاِسلام بہاء الدین زکریا ملتانی مرشدِ کامل کی تلاش میں ہندوستان سے نکل کر اِسلامی دُنیا میں ملکوں ملکوں پھرتے ہوئے بغداد شریف میں شہاب الدین کی مجلس میں جا پہنچے اور اپنا گوہرِ مراد پا لیا۔
مرشدِ کامل نے بھی کمال مرحمت فرماتے ہوئے صرف تین ہفتوں کی ریاضت کے بعد آپ کو خلافت عطا فرما دی۔ اور ملتان کی طرف مراجعت فرما ہونے کا حکم دیا تاکہ برِّ صغیر میں سہروردی سلسلے کی بنیادیں مضبوط فرمائیں صحیح معنوں میں ہندوستان میں سہروردیہ سلسلے کی ترویج و اشاعت مین شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کی زبردست جدوجہد کا بڑا کامیاب رول رہا ہے۔ آپ نے ملتان،اُوچ اور دوسرے مقامات پر سہروردیہ سلسلے کی مشہور خانقاہیں قائم کیں۔ شب و روز کی انتھک محنت سے ہندوستان میں سہروردیہ سلسلے کی جڑیں مضبوط کیں۔ ان کے مشہور خلفاء میں شیخ اِسمٰعیل قریشی،شیخ حسین،شیخ نتھو،شیخ فخر الدین ابراہیم عراقی ،سید جلال الدین سرخ بخاری اور شیخ صد رالدین عارف ہیں۔ شیخ صدرالدین عارف کے خلیفہ شیخ رُکن الدین ابو الفتح ملتانی رحمۃ اللہ علیہہیں جنہوں نے سلسلے کی تنظیم کے لیے بہت کوشش کی ہیں۔ سید جلال الدین سرخ بخاری کے خاندان میں پیدا ہونے والی زبردست شخصیتوں میں سید احمد کبیر اور ان کے دونوں با کمال فرزندوں سید صدرالدین راجو قتال اور سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا شمار ہوتا ہے۔
بنگال میں سہروردی سلسلہ شیخ جلال الدین تبریزی کے ذریعے پہنچا آپ کی اور آپ کے خلیفہ شیخ علی بدایونی کی محنت کی وجہ سے بنگال میں سہروردی سلسلے کی کافی ترویج و اِشاعت ہوئی۔ گجرات میں سہروردی سلسلے کی اِشاعت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہکے مرید ین اور خلفاء نے کی۔ اس کے علاوہ آپ کے اہلِ خانہ اور خاندان کے افراد نے بھی احمد آباد اور گجرات کے دیگر علاقوں میں اپنی علمی اور عملی لیاقتوں کے بل پر اس سلسلے کی تنظیم کی اور اپنے مرید ین اور دیگر عوام تک اِس سلسلے کی فیض رسانی کی ہے۔ سید صدرالدین راجو قتال نے بذات خود سید برہان الدین قطبِ عالم کو گجرات کی وِلایت سونپی اور انہیں تبلیغِ دین کے واسطے گجرات بھیجا۔ احمد شاہ بادشاہ نے یہاں آپ کا شاندار اِستقبال کیا اور آپ کو یہاں سکونت اختیار کرنے کی خاطر بٹوا میں جاگیر عطا کی۔ یہاں پر قطبِ عالم نے ایک بڑی خانقاہ کی بنیاد ڈالی اور لوگوں کے لیے اپنے اور اپنے سلسلے کے فیض کے دروازے کھول دِئیے۔
آپ کے بعد آپ کے لائق فرزند شاہِ عالم نے رسول آبا دمیں رہ کر اس کام کو آگے بڑھایا۔ ہر دو حضرات نے اپنی علمی قابلیت کے ذریعے اعلیٰ تصانیف اور اپنی عملی ریاضتوں اور مکاشفتوں کے ذریعہ عوام کو دینِ اِسلام کا گرویدہ بنایا۔ اپنی نگاہِ پُر تاثیر کے ذریعے عوام کو خواص میں تبدیل کر دیا۔ لوگوں کو سلوک کی راہ میں اعلیٰ مرتبوں تک پہنچا دیا۔ اُن کے بعد شاہ بُڈھا صاحب اور پیارن صاحب نے اپنے اَسلاف کی روشنی پر چلتے ہوئے سلسلے کی خدمات انجام دیں۔
قاضی نجم الدین ،عبد الطیف دارُ الملک، قاضی محمود وغیرہ نے بھی سہروردیہ سلسلہ کی تنظیم اور اس کی ترویج و اِشاعت میں کافی جدوجہد کی۔ شہرت کے اعتبار سے شیخ بہاء اُلدین زکریا ملتانی ،شیخ رُکن الدین ملتانی اور مخدوم جہانیاں جہاں گشت جیسے جید علما اور اولیاء کی لِیاقت اور رِیاضت کا نور اُن کے علاقوں تک محدود نہ رہا بلکہ اُن کی رُوحانی شہرت ہندوستان کی حدود کو پار کر کے اِسلامی ممالک میں بھی پھیل گئی۔
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کے تربیت یافتہ شاگردوں اور بزرگوں نے ساتویں صدی ہجری میں دین کی ظاہری اور روحانی تبلیغ کے لئے ساری دنیا میں مراکز قائم کئے۔ شیخ بہاؤالدین زکریاؒ نے مختلف علاقوں میں جماعتیں روانہ کیں۔ آپؒ کے تربیت یافتہ شاگردوں نے کشمیر سے راس کماری اور گوادر سے بنگال کو اسلام کی روشنی سے منور کر دیا۔حضرت شیخ شہاب ا لدین سہر ور دی ؒکے بہت سے شاگرد ومریدین بھی بہت مشہور ہوئے ۔حضرت ابوحفص شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال یکم محرم الحرام632ھ، بمطابق ستمبر؍ 1234ء کو ہوئی۔ آپ کا مزار پرانوار بغداد کے باب الوسطانی (باب الطلسم) میں مرجعِ خاص و عام ہے۔
*ماخذ و مراجع:* خزینۃ الاصفیاء ۔عوارف المعارف۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام۔



