سیاسی و مذہبی مضامین

اردو کی ترقی میں مستشرقین کا حصہ‌

اردو کی ترقی میں مستشرقین کا حصہ‌ ( تحقیقی مقالہ)

از: فہمیدہ تبسم ( ریسرچ اسکالر , جامعہ عثمانیہ)

 معلمہ (یو پی ایس ) مدرسہ بی بی نگر ۔یادادری ،بھونگیر

اردو میں شاعری کا مزاق یوروپین باشندوں کو جو کہ ہندوستان میں مقیم تھے انیسویں صدی کے اوائل میں پیدا ہوا۔ اور ہندوستان میں اس زمانے میں اردو شاعری بہت شباب پر تھی جا بجا مشاعروں کی مجالس اور گھر گھر شعرا و سخن کے چرچے تھے۔اور ہندوستانیوں اور یوروپین باشندوں میں مخلصانہ تعلقات کے باعث زیادہ تر اہل يورپ مسلمانوں کی مجلسوں اور صحبتوں میں شرکت کرتے تھے جس کی وجہ سے ان میں بھی شعر و شاعری کا مذاق پیدا ہوا اور ان میں تو کچھ اردو کے بہت اچھے اردو صاحب دیوان شاعر بھی ہیں اور کئی اصناف سخن میں ان کا کلام پایا جاتا ہے اور چند ایسے ہیں جو اردو اور فارسیدونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے چند کا ذکر ذیل میں دیا جا رہا ہے

آزاد: انکا پورا نام ایکزینڈر ہیڈ لی ہے تخلص آزاد تھا. والد انیسویں صدی کی ابتداء میں دہلی آئے د تھے۔ اور ایک مسلمان عورت سے شادی کرلی تھی . اور آزاد کی پرورش اور تربیت بھی ہندوستانی معاشرت اور اسلامی طرز پر ہوئی ساتھ میں مسلمانوں کی محبت نے ان میں شعر و سخن کا ذوق پیدا کردیا تھا . اٹھارہ سال کی عمر میں آزاد شعر کہنے لگے . مرزا غالب, نواب زين العابدین عارف دہلوی کے شاگرد تھے مرزا غالب سےکبھی کبھی به ریعه خط و کتابت اصلاح لیا کرتے تھے
نمونه کلام حسب ذیل ہے۔

میری صورت سب کہے دیتی ہے میرا راز دل
میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ سے بدظن ہو گیا .
بزم میں اٹھتے ہی ان کے روئے روشن سے نقاب
جام مے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا
نوید ائے دل کے رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آرہا
ہزارمشکل سے بارے رخ پر سے اس نے الٹا نقاب آدیا

اسبق: پورا نام رابرٹ گارڈنر اسبق ہے . قصبہ ہر م چی ضلع ایٹہ میں پیدا ہوئے د . شاعری کے شوق کی وجہ سے شکر . اور شکر کے والد فنا سےاصلاح لینے لگے . مرزا عباس حسین ہوش ہو لکھنوی کے شاگرد ہوئے گارڈنر کو بھی اپنا کلام دکھاتے تھے۔ انھوں نے کئی تخلص اختیا کئے مثلا شعاع شمیم نسیم اور آخر اسبق اختیار کیا۔ اکثر مشاعروںمیں ان کی غزلیں کامیاب رہتی تھیس نمونہ کلام یہ ہیں۔

میں ہی مجنوں بھی دیوانہ بھی سودائی بھی
ہوں مگر ائے بت کافر ترا شیدائی بھی
انکے آنے سے فقط ہوش وخرد ہی نہ گئے
ساتھ ہی ان کے گئی قوت گویائی بھی
نام بھولے سے نہ تم عشق کا لینا اسبق
اس میں خفت بھی ہے ذلت بھی ہے رسوائی بھی .

اسفان: اسٹفین یا اسٹو سن نام ہے اسفان تخلص ہے یہ بھی دہلی میں پیدا ہوئے والد تو یوروپین تھے اسفان کم عمری سے ہی اردو سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اس لئے ہمیشہ اردو شعرا و علماء کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے . اسفان کا نمونه کلام یہ ہے

خط کا یہ جواب آیا لکھا جو کبھی پھر خط
کر ڈالوں گا اک دم میں ترے آن کے پرزے

اس طرح سے کئی اور یوروپین شعرا ہیں . جن کے کلام میں مضامین کی لطافت الفاظ کی تلاش اور محاورات کی ترکیب قابل داد ہے یہی نہیں بلکہ نے اسلوب پر تشبیہیں اور استعارے ہونے کی دلیل بھی ہے . ایک غیر زبان بو کر بھی جس جستجو سے يوروبين اقوام نے بماری زبان وادب کو ترقی دی ہے اس طرح سے ہم اہل زبان ہوکر بھی نہیں کر پائے ہمارے لئے ایک فکر کی بات ہے .

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button