کیا ہم وشوگرو کہلانے کے لائق ہیں ؟
اشتیاق احمد (کویت سے)
جب سے یہ وبا شروع ہویی ہے اب تک کا یہ سب سے بھیانک دور چل رہا ہے اور نہ جانے کب تک چلتا رہے گا کسی کا باپ، کسی کی ماں کسی کی بیوی، کسی کے بچے اسی وبا کی وجہ سے موتیں ہویی ہیں اور نہ جانے یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ایسے حالات میں بھی ہمارے سیاستدانوں کو اپنی سیاست کرنی ہوتی ہے۔ حکمراں جماعت اور حزب اختلاف مل کر کام کیوں نہیں کرتے اس میں کونسی مجبوری ہے سیاست کرنے کے لئے تو پوری زندگی پڑی ہے آور سرکار کسی کا سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہے %90 فی صد میڈیا حکومت کے اشارے پر ناچ رہی ہے جیسے حکومت چاہتی ہے وہی عوام کو دکھاتی ہے۔
خاص کر ٹیلیویژن چینلس سرکار کو کیوں سوال نہیں کر رہے ہیں یہ ہماری سمجھ سے پرے ہے۔ اس وقت یہ مضمون لکھ رہا ہوں ابھی ابھی خبر ملی کہ آج تک نیوز چینل کے اینکر روہیت سردانہ کا کویڈ 19 کی وجہ سے میٹرو اسپتال میں انتقال ہوگیا اب ہم اندازہ لگا سکتے ہیں اتنے بڑے طاقتور صحافی کو بچا نہیں پا رہے ہیں تو ایک عام آدمی کی کیا حالت ہو رہی ہوگی روہیت کی عمر صرف 42 سال کی تھی اور وہ اسکی دو چھوٹی بیٹیاں ہیں 45 سے کم عمر رہنے کی وجہ سے ویکسینیشن بھی انھیں نہیں ملا ۔
یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہندوستان کی آبادی 135 کروڑ ہے اتنی بڑی آبادی والے ملک کو ویکیس دوسرے ممالک میں بھیجنے کی کیا ضرورت تھی اگر آج روہیت ویکسین کا ٹیکا لگوایے ہوتے تو یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتے ۔ اور ایک خبر آیی ہے ماضی سولیسیٹر جنرل سولی سہراب جی کا بھی کویڈ 19 کی وجہ سے 81 برس کی عمر میں انتقال ہوا ۔ایسے کئی صحافی۔ ادیب، شاعر بڑے بڑے عہدے دار اس وبا کی چپیٹ میں آچکے ہیں۔
میرے اپنے چچا زاد بھائی صرف 44 سال کی عمر میں 16 اپریل کو اس کرونا کی وجہ سے بیوی اور دو بچوں کو چھوڑ کر اس دار فانی سے رخصت ہوگیا اسکے علاوہ گھر میں کوئی بھی کمانے والا نہیں ہے یہ میرا بھائی تھا اسلیے مجھے اسکے حالات معلوم ہیں نہ جانے ایسے کتنے کمانے والے چلے گئے بچوں کو یتیم بنا کر۔
یوں دیکھیے تو آندھی میں بس ایک شجر گیا
لیکن نہ جانے کتنے پرندوں کا گھر گیا
ذہین یافتہ لوگ کہہ رہے ہیں خبریں نہیں دیکھو جو حالات گزر رہے ہیں اسکا آثر آپکے دماغ پر ہوگا چلیے مان بھی لیتے ہیں ۔ٹیلیویژن نہیں دیکھنگے اخبار نہیں دیکھنگے لیکن کہیں نہ کہیں سے سوشل میڈیا کے ذریعے خبریں آرہی ہیں۔ کیڑے مکوڑوں کی طرح لوگ مر رہے ہیں لاشوں کو انکے اپنے رشتے دار نذدیک آنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ بیٹا آپنے ماں باپ کی لاش کے نذدیک نہیں آرہا ہے ، لاشوں کی قطاریں لگی ہیں شمشان گھاٹ ہو یہ قبرستانوں کے باہر اور کسی رشتے دار کو اندر آنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔
لیکن اسکے باوجود ان تنظیموں کو سلام کرتے ہیں اور انکے حوصلے کی داد دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جو ایسی وبا سے مرنے والوں کی اخری رسومات پورے کر رہے ہیں۔ ہم حکومت سے یہ اپیل کرنا چاہتے ہیں جب حالات سدھر جاینگے تو ان جانباز لوگوں کو اعزاز سے نوازیں اور ہو سکا تو اس تنظیم کے نوجوانوں کو سرکاری نوکری بھی مہیا کرایں۔
کرونا کی دوسری لہر ختم بھی نہیں ہوئی کہ سننے میں یہ بھی آ رہا ہے کرونا کی تیسری لہر بھی آنے والی ہے جو بہت زیادہ خطرناک ہے مطلب ابھی سے تیسری لہر کی دہشت عوام کی ذہنوں میں پہنچ رہی ہے ۔ ایک تو اس مھاماری کی وجہ سے پورے کاروبار کا اور نوکریوں کا بیڑا غرق ہو چکا ہے نہ جانے کتنے خاندان بے گھر ہو چکے ہیں انکا حساب کتاب رکھنے والے کویی نہیں ہیں! بد ترین حالات ہو رہے ہیں اور ہمارے سیاستدانوں کے کان پر جوں تک نہیں پہنچتی۔۔۔۔
خیر لکھنے کے لیے تو بہت کچھ ہے بس آخر میں اتنا کہنا ہے حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی کچھ کم ذمے دار نہیں ہے ہزاروں مرتبہ ہدایات آنے کے باوجود بھی آپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے دور حاضر میں بھی خبریں آرہی ہیں دعوتوں کا دور شادیوں کا دور بڑی ہی دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے۔ اور سیاستدانوں کے بہکاوے میں آ کر انتخابات کے اجلاس میں شرکت کرنا سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ذمے دار ہے۔



