نریندر سنگھ کپانی کا 4؍دسمبر 2020 کو امریکی ریاست کیلی فورنیا میں انتقال ہوگیا۔ وہ 94 برس کے تھے۔ قارئین کرام یوں تو دنیا بھر میں ہر روز ہی بے شمار لوگوں کو موت واقع ہوتی ہے۔ کچھ کی موت طبعی ہوتی ہے اور بعض لوگ حادثات میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔ ایسے میں نریندر سنگھ کیانی کی موت کا ذکر کیا معنٰی رکھتا اور یہ کون صاحب تھے اور ان کی اہمیت کیا تھی۔
قارئین انگریزی اخباری دی ٹریبیون نے 4؍ دسمبر کی اشاعت میں نریندر سنگھ کپانی کے انتقال کی خبر شامل کرتے ہوئے لکھا کہ وہ Father of Fibreoptics تھے۔ اس کے علاوہ لیزر ٹیکنالوجی، بائیو میڈیکل انسٹرومنٹیشن، سولار پاور اور آلودگی کی نگرانی کے موضوع پر نریندر سنگھ نے تحقیق کی تھی اور انہوں نے 100 سے زائد Patents بھی حاصل کیے تھے۔
خیر یہ تو وہ تفصیلات تھیں جو Tribune اخبار کی رپورٹ میں درج تھی۔ رپورٹ میں مزید بتلایا گیا کہ نریندر سنگھ پیدائشی ہندوستانی تھے۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کا رخ کیا۔ ہاں اب میں اصل بات بتلانا چاہتا ہوں کہ وہ یہ کہ اخبار Tribune کے نمائندے روپندر سنگھ کو دیئے گئے انٹرویو میں نریندر سنگھ نے کہا تھا کہ میرے کام کرنے کی خواہش ہی مجھے آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ جس عمر میں لوگ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں نریندر سنگھ نے اس عمر میں اپنا سفر شروع کیا تھا۔
اسکول کی تعلیم انہوں نے دہرہ دون میں حاصل کی۔ اسکول میں انہیں بتلایا گیا کہ روشنی ہمیشہ راست ہی سفر کرسکتی ہے۔ بس اسکول ٹیچر کی یہی بات نریندر سنگھ کے دماغ میں ایسی پیوست ہوگئی کہ انہوں نے آگے چل کر اسی موضوع پر تحقیق کی اور ثابت کیا کہ روشنی کو انسان اپنی مرضی اور سہولت کے حساب سے کسی بھی جانب موڑ سکتا ہے اور لے جاسکتا ہے۔
نریندر سنگھ کی شخصیت کیسی تھی اس کے متعلق جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ سال 2000ء میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں جب انہیں Father of Fibre Optics کہا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر اس فیلڈ میں درجنوں دوسرے لوگ کام نہیں کرتے تو میں Fibre Optics کو ترقی نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے مجھے 100 فیصدی کریڈٹ نہیں ملنا چاہیے۔ میں 1955 تک بھی Fibre Optics کی اصطلاح وضع بھی نہیں کیا تھا کیونکہ تب تک میں یہ سمجھتا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف میڈیکل فیلڈ میں تشخیص کے لیے ہی ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد کی تحقیق میں میں نے کھوج نکالا کہ اس ٹیکنیک کا دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تب ہی میں نے Fibre Optics کی اصطلاح وضع کی۔ اس کے بعد انہوں نے واپس پلٹ کر نہیں دیکھا۔
قارئین ایسے تو بہت سارے ریسرچ کرنے والے ہیں جنہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں لیکن وہ کیا چیز ہے جو نریندر سنگھ کو دوسروں سے مختلف بناتی ہے؟ قارئین بابائے فائبر آپٹکس کا تعلق ایک ہندوستانی اقلیتی طبقہ یعنی سکھ مذہب سے تھا۔ 1960ء میں نریندر سنگھ نے Fibre Optics کی ٹیکنیک کھوجی اور صرف سات سال بعد 1967ء میں اس سردار جی نے سکھ فاؤنڈیشن نام سے ایک فلاحی تنظیم شروع کی۔ اس کے تحت پانچ برسوں تک سکھ سنسار کے نام سے ایک رسالہ نکالا۔
اس کے بعد سردار جی نے ایک نہایت اہم کام کیا جس کے تحت برطانیہ، امریکہ اور ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں Chairs قائم کیں اور ریسرچ سنٹرز شروع کیے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں سکھ اسٹڈیز کے نام سے شعبہ متعارف کروایا گیا۔ اس طرح کے کاموں کا مقصد کیا تھا اس کے متعلق نریندر سنگھ نے کہا تھا کہ سکھوں کی تہذیب و تمدن کو اجاگر کرنا تھا۔
قارئین برطانیہ اور امریکہ میں تعلیم کا خاص کر اعلیٰ تعلیم کا بہت بڑا نیٹ ورک نجی شعبے میں ہے اور ان تعلیمی اداروں کو اگر پرکشش فنڈز فراہم کیے جائیں تو یہ لوگ اپنی یونیورسٹیز میں اس طرح کے ریسرچ سنٹر اور تعلیمی شعبے قائم کردیتے ہیں۔
سکھ فاؤنڈیشن کے 25 برسوں کی تکمیل پر نریندر سنگھ نے سال 1999ء میں سان فرانسسکو کے ایشین آرٹ میوزیم کو 5 لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا تاکہ سکھ آرٹ گیلری قائم کی جائے۔ اس گیلری کے لیے انہوں نے خود 100 تاریخی اور نایاب سکھ آرٹ کے نمونے بطور تحفہ دیئے۔
اس فاؤنڈیشن کے تحت انہوں نے بڑے بڑے اسکالرس کے ذریعہ سکھ مت پر 300 سے زائد کتابیں، بچوں کے لیے بھی 20 کتابیں تیار کروائیں۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن نے UNESCO کے تعاون سے بین المذاہب تعاون کو فروغ دینے کے لیے گروگووبند سنگھ کی جانب سے تعمیر کردہ ایک تاریخی مسجد کی تزئین نو کا کام بھی انجام دیا۔ گرداس پور میں مسلمانوں کی یہ مسجد گرو کی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔
قارئین 94 سال کی عمر میں نریندر سنگھ کپانی کا انتقال تو ہوگیا مگر ان کی زندگی سیکھنے والوں کے لیے بہت سارے سبق دیتی ہے۔ اول تو تعلیم کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ یہ بات سمجھنی ہوگی۔ دوم کامیابی کا سہرا صرف اپنے سر نہیں باندھنا چاہیے۔ سوم آپ چاہے دنیا میں کتنی بھی ترقی کرلیں اپنی بنیادوں اور جڑوں سے ہمیشہ جڑے رہنا چاہیے۔ یہی وجہ تو تھی کہ نریندر سنگھ کا دل ہمیشہ اپنی قوم (سکھ) کے لیے تڑپتا رہا۔ چہارم یعنی چوتھی اہم بات جو سیکھی جاسکتی ہے وہ یہ کہ بین المذاہب بھائی چارہ بھی ضروری ہے۔ تبھی تو انہوں نے مسلمانوں کی ایک قدیم مسجد کو دوبارہ تزئین کروانے کا بیڑہ اٹھایا۔ پانچویں اہم بات یہ کہ تحقیق کا کام یونیورسٹیوں کے بیانر تلے ہونا چاہیے، اس کے لیے انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کی جامعات کو لاکھوں ڈالر فنڈز فراہم کر کے سکھوں کے مطالعات کے باضابطہ سنٹرز شروع کروائے۔
قارئین تعلیم ہی وہ زینہ تھا جس کے ذریعہ سے ہندوستان کی ایک اقلیتی طبقہ کا فرد ترقی کرتا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نام، دولت، شہرت سب کچھ کماتا ہے۔ تعلیم کے تئیں جب قوموں کی ترجیحات طے ہوجاتی ہیں تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔
ایم پون راج کا تعلق شیڈیولڈ کاسٹ طبقے سے ہے۔ تامل ناڈو کے اس 18 سالہ نوجوان نے ایک سرکاری اسکول سے بارہویں کا امتحان پاس کیا۔ NEET کے امتحان میں 155 مارکس حاصل کر کے یہ نوجوان میڈیسن میں داخلہ کے خواہشمند تھا لیکن مختلف وجوہات کے سبب پون راج کو میڈیسن میں داخلہ نہیں مل سکا۔ SC زمرے کے تحفظات اور 7.5 فیصد Horizontal ریزرویشن پالیسی کے تحت پون کو خانگی میڈیکل کالج میں داخلہ مل سکتا تھا مگر ان کالجس کی 8 لاکھ سالانہ فیس کی شرط وہ پوری نہیں کرسکتا تھا۔
اس وجہ سے وہ واپس اپنے گاؤں لوٹ گیا۔ پون کے والد کا گذشتہ برس انتقال ہوگیا تھا۔ اس کی ماں کپڑوں کی ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے اور بڑا بھائی بھی فیکٹری میں کام کر کے گذارہ کرتا ہے۔ گھر واپسی کے فوری بعد پون راج نے پارٹ ٹائم میں کام شروع کردیا۔ اخبار دی ہندو میں شائع آر اکھیلیش کی 26؍ نومبر 2020 کی رپورٹ کے مطابق پون راج نے ایک کیٹرنگ کمپنی میں بطور سرویس بوائے کام شروع کردیا تاکہ گھر والوں کی مدد کرسکے۔ اب 18 سالہ پون راج پارٹ ٹائم میں کام کر رہا ہے اور فل ٹائم میں اگلے برس NEET کی طویل مدتی تیاری میں مصروف ہوگیا ہے۔
قارئین درج فہرست ذاتوں (شیڈیولڈ کاسٹ) کا شمار ملک کے پسماندہ ترین افراد اور طبقات میں ہوتا ہے اور یہ لوگ زندگی کے بہت سارے شعبوں میں امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔ اس طبقے کے نوجوانوں کو بھی اس بات کا علم ہے کہ تعلیم ہی وہ زینہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ آگے بڑھ سکتے ہیں، اپنی مشکلات اور مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس ملک کے ان طبقات سے سیکھنے کی ضرورت ہے جو تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ ہیں اور جن کا شمار ملک کی اقلیتوں میں ہوتا ہے۔
ہم نے تو سردار جی کے لطائف کو اس قوم کی ترجمانی سمجھ رکھا ہے۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہندوستان کی اس اقلیت نے کیسے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوایا اور وطن چھوڑا بھی تو جہاں گئے وہاں اپنی تہذیب و تمدن کو گلے سے لگا کر رکھا۔ پنجاب میں شورش کے دوران جب وہاں کے سرداروں نے بیرون ملک نقل مکانی کی تو آج کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں ان کی خاصی آبادی ہے اور وہاں پر ان لوگوں نے اپنے آپ کو مقامی سماج اور نئے ملک کے لیے کارآمد بنایا۔
یہاں تک کہ کینیڈا کے قانون ساز اداروں میں بحیثیت رکن داخل ہوئے اور حکومت کینیڈا کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونے کی قوت حاصل کرلی۔ حالیہ عرصے میں جب پنجاب، ہریانہ کے کسانوں نے بڑے پیمانے پر احتجاجی پرچم بلند کیا تو بین الاقوامی سطح پر اس احتجاج کی سب سے پہلی حمایت کینیڈا کے وزیر اعظم کی جانب سے ہی موصول ہوئی۔
ریاست تلنگانہ کے ایک آئی پی ایس آفیسر ڈاکٹر پروین کمار کی مثال بھی یہاں موزوں معلوم ہوتی ہے کہ 1995 کے بیاچ سے تعلق رکھنے والے اس آئی پی ایس افسر نے اپنے سارے کیریئر کو اپنی ملازمت کو صرف ایک ہی بات پر مرکوز رکھی ہے۔ وہ یہ کہ بجائے شخصی ترقی کے ذاتی فوائد حاصل کرنے کے، اس اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے اپنی پوسٹنگ سوشیل ویلفیئر کے کام پر رکھی اور پچھلے آٹھ برسوں سے تلنگانہ ریسڈنشیل ایجوکیشن سوسائٹی کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ریاست بھر میں 2 لاکھ ایس سی، ایس ٹی بچوں کی تعلیم کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔
53 سال کی عمر میں ایک IPS افسر کے لیے اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے، ترقی کرنے کے بڑے بڑے خواب دیکھنے اور بڑے بڑے کام کرنے کے عزائم ہوتے ہیں اور یہ شخص اپنی قوم کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ذرا مسلمانوں کے کسی برسر خدمت آئی اے ایس اور آئی پی ایس کے بارے میں آپ نے دیکھا یا سنا ہے؟ بلکہ مسلمان سیول سرونٹ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس طرح کی تعلیمی خدمات سرانجام نہیں دے پا رہا ہے۔
اب کیا کریں۔ کیا مسلمانوں کو سکھوں اور ایس سی، ایس ٹی طبقات کی مثالوں سے سیکھنا چاہیے؟ ہاں، مثالیں چیزیں سمجھانے کے لیے دی جاتی ہیں اور اگر مثال اچھی ہو تو ان سے سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ تعلیم کو ہتھیار بناکر جب ملک کی دیگر اقوام آگے بڑھتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں تو ہمیں بھی تعلیم کے حوالے سے ان کے تجربات کو نقل کرنے میں کسی طرح کی عار محسوس نہیں کرنا چاہیے۔
دوسری اہم بات کہ مسلمان نوجوانوں میں یہ جذبہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی زندگی میں چاہے جتنی ترقی کرلیں لیکن اپنے سماج، اپنی قوم اور اپنی ملت کے تئیں ان کی ذمہ داریاں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنا انہیں اپنی ذات اہم نظر آتی ہے۔
کیا کسی مسلم ادارے، تنظیم اور جماعت نے ایسا سیول سرونٹ تیار کیا ہے جو اپنی پوسٹنگ، اپنی خدمات اپنی قوم کے لیے سرکاری اسکیمات کو مؤثر بنانے اور سرکار کے خزانے سے ان کے نام مختص بجٹ کے ہر روپئے کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے تیار ہے؟
ہاں ایسے مسلم سیول سرونٹس ضرور ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے لیے کسی نہ کسی سرکاری محکمے یا کارپوریشن میں باز آبادکاری کے خواہشمند ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کی ذہنی قلاشی سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اور مسلم قوم کو تماشائے عبرت بننے سے بچالے۔ آمین۔ یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)
sarwari829@yahoo.com



