سیاسی و مذہبی مضامین

رزاق کو بھلاکر رزق ڈھونڈتے رہے

محمد مصطفی علی سروری

رزاق کو بھلاکر رزق ڈھونڈتے رہے
محمد مصطفی علی سروری

ارشدیپ کی عمر 16 برس ہے۔ وہ بھوائیلی کے گورنمنٹ مڈل اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اس کمسن طالب علم نے اپنے چھوٹے بھائی اماندیپ سنگھ کے ساتھ مل کر فضائی آلودگی کو دور کرنے والا ایک Air purifier تیار کیا ہے۔

اسکول کے ان لڑکوں کی جانب سے تیار کردہ Air Purifier کو مرکزی حکومت کے ڈپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے دیئے جانے والے Inspire ایوارڈ کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت اسکولی طلبہ میں سائنس کے مزاج کو پیدا کرنے اور سائنس کے مضمون کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کے ایوارڈ دیتی ہے تاکہ سائنس کے میدان میں نئی ایجادات اور اختراعات کو فروغ دیا جاسکے۔

قارئین آگے بڑھنے سے پہلے یہ بھی جان لیجیے کہ بھوائیلی کہاں واقع ہے۔ بھوائیلی دراصل پنجاب کے ضلع امرتسر کا ایک گاو ں ہے اور یہ دونوں بچے اسی گاوں کے سرکاری اسکول کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ ان دونوں نے مل کر ایک ایسا Proto type تیار کیا ہے جو خرچ میں کم اور کارکردگی میں عمدہ ہے۔ جس کی مدد سے فضائی آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔

چندی گڑھ سے نکلنے والے انگریزی اخبار دی ٹریبیون میں نیہا سائینی کی 4 ؍ جنوری 2021 کو ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق حکومت ہند کی جانب سے ارشدیپ کو جو ایوارڈ دیا گیا ہے اس سے ملنے والی امداد سے اب وہ اپنے ماڈل کو مزید بہتر بناسکے گا۔ جس کے بعد ارشدیپ کے ماڈل کو ملک بھر سے دیگر 60 سائنس ماڈلس کے ساتھ شامل کر کے قطعی طور پر پیش کیا جائے گا۔ ان ماڈلس کو ترقی دینے کے لیے حکومت ہند ان بچوں کی باضابطہ مدد کرے گی۔ قارئین کرام دوسری اہم بات یہ ہے کہ ارشدیپ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں پر اس کے والد بطور ڈرائیور روزانہ کام پر جاتے ہیں تب ہی گھر کا خرچہ چلتا ہے۔

قارئین ایک اور بات جو نوٹ کی جانی چاہیے وہ یہ کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ڈرائیور کے بچے سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں اور پھر قومی سطح کے سائنس کے مقابلے میں شرکت کرتے ہوئے ایوارڈ بھی حاصل کرتے ہیں۔ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ سرکاری اسکول کے بچوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایک سائنسی ماڈل تیار کرڈالا۔ اس کے متعلق اخبار دی ٹریبیون کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھوائیلی گائوں میں گذشتہ 10 برسوں سے ایک سائنس کلب چلایا جارہا ہے ۔

پنکج مشرا نام کے ایک شخص نے یہ کلب گائوں کے مختلف ٹیچرس کے تعاون سے شروع کیا تھا۔ اس کلب کے ساتھ 80 سے زائد ٹیچرس بھی جڑے ہوئے ہیں جو طلبہ کے سائنسی شوق کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کلب کی جانب سے گائوں میں ہی دو سائنس کے ورکشاپ بھی شروع کیے گئے ہیں۔ ارشدیپ جیسا گائوں کا لڑکا جب اپنا ماڈل بناتا ہے تو اس کے لیے گائوں کے اسی سائنس کلب کے ذریعہ مدد ملتی ہے۔ پنکج شرما کی مدد سے ارشدیپ نے جو ماڈل بنایا ہے اب اس کو 10 ہزار کی حکومتی امداد سے مزید بہتر بناکر فائنل رائونڈ میں بھیجنے کی تیاری چل رہی ہے۔

یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب کے ضلع امرتسر سے جملہ 21 طلبہ کے پراجیکٹس کو قومی سائنس کے ایوارڈ Inspire کے لیے چنا گیا ہے جبکہ ملک بھر سے اختراعی آئیڈیاز کے لیے تقریباً ایک لاکھ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

قارئین یہ بات تو ہم لوگوں نے کئی مرتبہ اور کئی جگہوں پر پڑھی اور سن رکھی ہیں کہ انسان کی اصل پہچان تو یہ ہے کہ اصلی انسان دوسروں کا درد بھی محسوس کرتا ہے۔ کیا اخبارات کے کالم لکھنے سے ٹیلی ویژن اور سوشیل میڈیا پر کسی موضوع پر بحث کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں ہرگز نہیں۔ پھر جو لوگ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر بات کرتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے حلقہ اثر میں اپنی استطاعت کے مطابق اقدامات کریں اور اپنے حصہ کی شمع ضرور جلائیں۔

وائی راما کرشنا شہر حیدرآباد میں ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کام کرتے ہیں۔ کرونا کی وباء کو روکنے لگائے گئے لاک ڈائون کا اثر ان پر بھی ہوا۔ انہوں نے بھی لاک ڈائون کا عرصہ اپنے گھر پر گذارا لیکن ان میں دوسروں میں کیا فرق رہا۔ اخبار انڈین ایکسپریس نے 5؍ جنوری 2021ء کو حیدرآباد کی ڈیٹ لائن سے ایک خبر شائع کی جس کی سرخی Hyderabad Professor offer free videos to Make MBA graduates Employable” تھی۔ اس خبر کے مطابق ہمارے ملک ہندوستان میں ہر سال اوسطاً 5 لاکھ طلبہ ایم بی اے کا کورس مکمل کر رہے ہیں۔ صرف دو تلگو ریاستوں میں جاریہ تعلیمی سال کے دوران ایم بی اے کرنے والے طلبہ کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار بتلائی گئی ہے۔ انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایم بی اے کرنے والے 50 فیصدی طلبہ ہی کورس کی تکمیل کے بعد روزگار حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیںبقیہ طلبہ ایم بی اے کی سند تو حاصل کرلیں گے لیکن ان کے ہاں جاب مارکٹ کے چیالنجس کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

قارئین تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کے متعلق تو بہت سارے احباب بات کرتے ہیں اور اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں لیکن وائی راما کرشنا نے لاک ڈائون کے درمیان ملی فرصت کو غنیمت جانا اور ان طلبہ کے لیے خصوصی کلاسز لینے کا فیصلہ کیا جن کے ہاں مارکٹ کی ڈیمانڈ کے حساب سے صلاحیتیں نہیں تھیں۔ چونکہ لاک ڈائون تھا لیکن اس پروفیسر نے لاک ڈائون کو بہانہ نہیں بنایا بلکہ غنیمت جانا اور YouTube کے پلیٹ فارم پر اپنا ایک تعلیمی چیانل شروع کیا جس پر آج ڈھائی سے سو سے زائد اسباق موجود ہیں۔ جس کا مقصد ایم بی اے طلبہ میں جاب اسکلس کو بڑھاوا دینا ہے۔ وائی راما کرشنا چونکہ بزنس مینجمنٹ کے پروفیسر ہیں تو انہوں نے اپنی مہارت کے میدان کا انتخاب کیا اور بلا معاوضہ کار خیر سمجھ کر نوجوانوں کی مدد کا بیڑا اٹھایا۔

آئیے ذرا ہم اپنے اطراف و اکناف کے حالات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی آج تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہ۔ ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مختلف Skills سے آراستہ کرتے ہوئے ان کو مختلف طرح کی ٹریننگ دیتے ہوئے روزگار سے جوڑا جاسکتا ہے۔ لیکن اس جانب توجہ برائے نام ہے۔ جس کے نتیجے میں تعلیم یافتہ بے روزگار مسلمان نوجوان پہلے حصول تعلیم کی جدو جہد میں دین اسلام کی تعلیمات سے واقف نہیں ہوسکا۔ اب تعلیم سے فراغت کے بعد نوکری کے نہ ملنے سے یہ غیر سماجی سرگرمیوں اور جرائم کی طرف راغب ہو رہا ہے۔

یکم؍ جنوری 2021 ء کو رچہ کنڈہ سائبر کرائم اسٹیشن نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کنگ کوٹھی کے رہنے والے ایک ایسے نوجوان کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی جو ابراہیم پٹنم کے ایک کالج س ایم بی اے سکنڈ ایئر کا طالب علم ہے ۔ پولیس کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس نوجوان کی کالج میں ایک لڑکی سے ملاقات ہوتی ہے جس کو لڑکا شادی کی پیشکش کرتا ہے۔ لڑکی اس کا انکار کرتی ہے۔ ایم بی اے میں زیر تعلیم یہ لڑکا لڑکی کو سبق سکھلانے کے لیے لڑکی کے فون نمبر کے ساتھ فحش اشتہارات آن لائن پوسٹ کر کے لڑکی اور اس کے گھر والوں کو ہراساں کرنا شروع کردیتا ہے۔ بالآخر لڑکی کی جانب سے شکایت درج کروانے پر پولیس 31؍ دسمبر کو اس نوجوان کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے اسمارٹ موبائل فون اور سم کارڈ ضبط کرلیتی ہے۔ اب اس نوجوان پر آئی پی سی 509 دفعہ اور آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 67 کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

قارئین یہ ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے کہ نوجوان اگر جرائم کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور یہ نوجوان تعلیم یافتہ بھی ہیں تو اس کے لیے نوجوان نہیں بلکہ سرپرست، اساتذہ اور والدین بھی برابر کے ذمہ دار ہیں اور اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم تجزیہ کریں کہ آخر مسلمانوں کو ان مسائل کا سامنا کرنے کے لیے کیا راستے اور تدابیر اختیار کرنے ہوں گے۔ کیا ہم مسلمان اس طرح کے مسائل کو حل کرنے کے لیے صرف پولیس اور سیکوریٹی اداروں پر بھروسہ کر کے خاموش رہیں یا ان اسباب کا پتہ چلائیں جن کو کنٹرول کر کے حالات کو قابو میں لایا جاسکتا ہے۔

ذرا سونچئیے کہ ایک ڈرائیور کا بیٹا سرکاری اسکول میں اور گائوں میں پڑھنے کے باوجود قومی سطح کا سائنس کا ایوارڈ حاصل کرلیتا ہے اور شہر کے خانگی کالج میں ایم بی اے کی بھاری فیس دے کر پی جی کی تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان غیر سماجی سرگرمیوں میں پڑ کر پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتا ہے۔

ارشدیپ سنگھ کو گائوں میں بھی سائنس کلب جیسا پلیٹ فارم میسر آیا۔ جہاں پر پنکج مشرا جیسے لوگ دیگر ٹیچرس کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر گائوں کے اسکولی طلبہ میں سائنس کا شوق پیدا کر رہے ہیں اور اس کے نتائج دنیا دیکھ رہی ہے۔ وائی راما کرشنا جیسے پروفیسر بھی لاک ڈائون میں اپنی ذات سے بالاتر ہوکر دوسروں کے بارے میں سونچتے ہیں اور طلبہ کے لیے ویڈیو اسباق بناکر کوشش کرتے ہیں کہ ایم بی اے کے طلبہ بھی کورس کی تکمیل کے بعد مارکٹ میں جاب حاصل کرسکیں۔

قارئین لاکھوں مسلمان نوجوانوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ ان میں سے ہزاروں نوجوان بے روزگار ہیں۔ کیا ان کے بارے میں حکومت کو ہی سونچنا چاہیے یا خود مسلم کمیونٹی کو غور کرنا ہوگا کہ ان سند یافتہ ، تعلیم یافتہ انجینئرس کی طاقت کو کیسے کار آمد بنایا جاسکے۔

پیسے لے کر تو کوئی بھی کام کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اقلیتی پروفیشنل کالجس میں مختلف زمروں کے تحت پروفیشنل کورسز میں داخلوں کے لیے بھی کنسلٹنٹ ہزاروں روپئے لے کر داخلہ دلوا رہے ہیں۔ایسی اطلاعات عام ہیں۔
کیا سماجی خدمت سے مراد صرف سیلاب اور ناگہانی حالات میں ہی کام کرنا ہے۔ کیا سماجی خدمت سے مراد صرف رمضان میں افطار اور سحری کروانا ہی ہے۔ کیا سماجی خدمات سے مراد گرما میں پانی پلانا اور سرما میں بلانکٹس باٹنا ہے۔

ذرا سونچئے گا اپنے خول سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ امت مسلمہ کو جسم واحد کہا گیا ہے تو ہمارے جسم کا ایک حصہ تکلیف اور مسائل میں مبتلا ہے تو ہم کیسے سکون کی نیند سو سکتے ہیں۔ صرف حصول تعلیم کے لیے اسکالر شپ کی فراہمی کافی نہیں بلکہ کسی نوجوان کے لیے کونسی تعلیم کونسا کورس سود مند ہوگا۔ بتلانا ضروری ہے۔ میڈیسن، انجینئرنگ اور بزنس مینجمنٹ کورس کرنا ہی ضروری نہیں ہے۔سماجی علوم کی بھی اہمیت ہے۔

شبھم یادو کی عمر 21 برس ہے ۔ الوار راجستھان سے تعلق رکھنے والا یہ غیر مسلم نوجون سنٹرل یونیورسٹی کشمیر سے ایم اے اسلامک اسٹڈیز کا کورس کر رہا ہے۔ (بحوالہ پی ٹی آئی ۔ 18؍ نومبر 2020 دی انڈین ایکسپریس) غیر مسلم ایم اے اسلامک اسٹڈیز کا کورس کرتے وقت یہ نہیں سونچ رہا ہے کہ میں اس کورس کے بعد کیا کروں گا۔ کیسے نوکری کروں گا اور وہ قوم جو اللہ رب العزت کی ذات پر یقین رکھتی ہے ، ایمان رکھتی ہے، سب سے بہترین رزق دینے والی ذات اللہ رب العزت کی ہے، وہ سوال کر رہی ہے کہ یہ کورس کرے تو کیسا ہوگا۔ کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلائے۔ آمین۔
کاش کہ کوئی سمجھائے ؟

ائے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)
sarwari829@yahoo.com

متعلقہ خبریں

Back to top button