1. ایمان اور عمل صالح
فرمان باری تعالیٰ ہے: اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنتی ہیں جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ: 82)نیز فرمایا: جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کے لئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے۔ (الکہف: 107)
2. تقویٰ اور پرہیزگاری
فرمان باری تعالیٰ ہے: اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ (آل عمران: 133)
نیز فرمایا: پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (الحجر: 45)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ سے جنت میں سب سے زیادہ داخل کرنے والے اعمال کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپﷺ نے فرمایا: تقویٰ (اللہ کا ڈر)، اور اچھا اخلاق، پھر آپ سے جہنم میں سب سے زیادہ داخل کرنے والی اشیاء کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: زبان اور شرمگاہ۔ (سنن ترمذی: 2004)
3. اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری
فرمان باری تعالیٰ ہے: جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں) تلے نہریں جاری ہیں اور جو منھ پھیر لے اسے دردناک عذاب (کی سزا) دے گا۔ (الفتح: 17)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا کہ جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔ (صحیح بخاری: 7280)
4. اللہ کے راستے میں جہاد کرنا
فرمان باری تعالیٰ ہے: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے، تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ، اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ: 111)
نیز فرمایا: اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وہ تجارت بتلا دوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچا لے؟، اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (الصف: 10-12)
5. اللہ تعالیٰ کے دین پر استقامت
فرمان باری تعالیٰ ہے: بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ غمگین ہوں گے، یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔ (الأحقاف: 13، 14)
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ مجھے اسلام میں ایک ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر میں اس کو آپﷺ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں (ابواسامہ کی حدیث میں ہے کہ آپﷺ کے علاوہ کسی سے)، آپﷺ نے فرمایا: تو کہہ میں ایمان لایا اللہ پر پھر ڈٹا رہ (استقامت اختیار کر)۔ (صحیح مسلم: 38)
6. علم دین کا حاصل کرنا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس کسی نے علم دین کی طلب کا راستہ اپنایا اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان بنا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم: 2699)
7. مسجد تعمیر کرنا
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس بات کو برا سمجھا اور یہ چاہا کہ مسجد کو اپنے حال پر چھوڑ دیں (یعنی جیسے رسول اللہﷺ کے دور میں تھی) تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ جو شخص اللہ کے لئے مسجد بنائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر ویسا ہی بنائے گا۔ (صحیح مسلم: 533)
8. اچھے اخلاق
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ سے جنت میں سب سے زیادہ داخل کرنے والے اعمال کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپﷺ نے فرمایا: تقویٰ (اللہ کا ڈر)، اور اچھا اخلاق، پھر آپ سے جہنم میں سب سے زیادہ داخل کرنے والی اشیاء کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: زبان اور شرمگاہ۔ (سنن ترمذی: 2004)
9. مسجد کو جانا اور آنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: کہ جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی کا سامان کرے گا۔ وہ صبح شام جب بھی مسجد میں جائے۔ (صحیح بخاری: 662، صحیح مسلم: 669)
10. حج مبرور (مقبول حج)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ (صحیح بخاری: 1773، صحیح مسلم: 1349)
11. نماز کے بعد آیۃ الکرسی کا پڑھنا
فرمان نبویﷺ ہے: جو شخص نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا کوئی چیز نہیں روکے گی۔ (سلسلہ صحیحہ: 972)
12. صبح اور شام سید الاستغفار کا اہتمام کرنا
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سیدالاستغفار۔ (مغفرت مانگنے کے سب کلمات کا سردار) یہ ہے یوں کہے، ? اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔
میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا۔ آن صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے دل سے ان کو کہہ لیا اور اسی دن اس کا انتقال ہو گیا شام ہونے سے پہلے تو وہ جنتی ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔ (صحیح بخاری: 6306)
13. دن اور رات میں 12 رکعتوں (سنن مؤکدہ) کا اہتمام کرنا
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میں نے رسول اللہﷺ سے سنا کہ جو شخص دن اور رات میں ۲۱ رکعات پڑھ لے، اُن کی وجہ سے اس کے لئے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے۔ ”(صحیح مسلم: 728)
نیز فرمان نبویﷺ ہے: ”جس نے رات اور دن میں ۲۱ رکعت (نوافل) ادا کیے، جنت میں اس کے لئے گھر بنا دیا جاتا ہے: چار رکعت قبل از ظہر، دو بعد میں، دو رکعت مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو صبح کی نماز سے پہلے۔ ”(سنن ترمذی: 415)
14. سلام کو عام کرنا، صلہ رحمی کرنا اور کھانا کھلانا
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: میں نے مدینہ میں جو پہلی گفتگو نبی کریمﷺ سے سنی وہ یہ روایت تھی، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’اے لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو۔ (ایسا کرنے کی صورت میں) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے‘‘۔ (ابن ماجہ: 1097)
نیز نبی اکرمﷺ کا ارشاد گرامی: مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہ ہو گے حتیٰ کہ تم ایمان لے آؤ، اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہے یہاں تک کہ تم آپس میں محبت کرو، کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں جس کے کرنے کے بعد تم آپس میں محبت کرنے لگو (پھر خود ہی فرمایا:) اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔ (صحیح مسلم: 54)
15. سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت کی حفاظت کرنا، شرمگاہ کی حفاظت کرنا
عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے تُم لوگ اپنی ذات میں چھ چیزوں کی ضمانت دو تو میں تُمہیں جنّت کی ضمانت دیتا ہوں،
(۱) جب بات کرو گے تو سچ کہو گے
(۲)جب وعدہ کرو گے تو پورا کرو گے
(۳) اگر تُمہیں امانت دی گئی تو امانت ادا کرو گے
(۴) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو گے
(۵) اپنی نگاہوں کو نیچا رکھو گے
(۶) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو گے۔ (السلسلۃ الصحیحۃ: 1470)
16. اللہ کی خاطر اپنے مسلم بھائی کی زیارت کرنا، اپنے شوہر سے محبت کرنے والی عورت
سیدنا انس سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں جنتی مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا: ’’1. نبی جنتی ہے، 2. صدیق جنتی ہے، 3. وہ آدمی جو شہر کے دوسرے کونے میں کسی کو صرف اللہ کیلئے ملنے جاتا ہے وہ جنتی ہے۔‘‘
(پھر فرمایا:) ’’کیا میں تمہیں جنتی عورتوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا: ’’1. ہر بہت محبت کرنے والی، 2. زیادہ بچے جننے والی، 3. جب وہ ناراض ہو یا اس سے برا معاملہ کیا جائے یا اس کا شوہر اس پر غصے ہو تو وہ (شوہر سے) کہے: یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی جب تک آپ مجھ سے راضی نہ ہو جائیں۔‘‘۔ (سلسلہ صحیحہ: 3380)
17. عورت کا پننجگانہ نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اپنے شوہر کی اطاعت کرنا
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب عورت اپنی پانچ وقت کی نماز پڑھ لے، اپنے ماہ {رمضان } کا روزہ رکھ لے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کر لے، اور اپنے شوہر کی اطاعت کر لے تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں اس کے جس دروازے سے داخل ہونا چاہے داخل ہو جا۔ (صحیح الجامع: 661)
18. لڑکیوں کی پرورش کرنا
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے، یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائیں تو قیامت میں میرا اس کا ساتھ (انگلیوں کو ملا کر فرمایا) اس طرح ہو گا۔‘‘ (صحیح مسلم: 2631)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیے مانگتی ہوئی آئی، میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت اور کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی، وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی۔ اس کے بعد نبی کریمﷺ تشریف لائے تو میں نے آپﷺ سے اس کا حال بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔ (صحیح بخاری: 1418)
19. اولاد کی موت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنا
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے اگر تین بچے مر جائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس رحمت کے نتیجے میں جو ان بچوں سے وہ رکھتا ہے مسلمان (بچے کے باپ اور ماں) کو بھی جنت میں داخل کرے گا۔ (صحیح بخاری: 1248)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا کہ تم میں سے جس کے تین لڑکے مر جائیں اور وہ (عورت) اللہ کی رضامندی کے واسطے صبر کرے، تو جنت میں جائے گی۔ ایک عورت بولی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! اگر دو بچے مریں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دو ہی سہی۔ ایک دوسری سند سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں اس کو جہنم کی آگ نہ لگے گی مگر قسم اتارنے کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ((تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو دوزخ پر سے نہ گزرے)) اس وجہ سے اس کا گزر بھی دوزخ پر سے ہو گا لیکن اور کسی طرح عذاب نہ ہو گا)۔ (صحیح مسلم: 2633)
20. یتیم کی کفالت
سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، میں اور یتیم کی پر ورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی۔ (صحیح بخاری: 5304)
⇦ Join Urdu Duniya WhatsApp Grouphttps://chat.whatsapp.com/JBmc63JLoOS1vj9SSY2QZp https://play.google.com/store/apps/details?id=com.urdu.urduduniya |



