
عثمانیہ یونیورسٹی کے سو سال مسلمانوں کی غفلت پر سوال, محمد مصطفی علی سروری
عثمانیہ یونیورسٹی ان دنوں ایک مرتبہ پھر سے خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ بنیادی طور پر اگرچہ یہ جامعہ ایک تعلیمی ادارہ ہے لیکن اس مرتبہ یونیورسٹی اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے لوگو کے عنوان سے خبروں میں چھائی ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق زوہیر مدنی نام کے ایک نوجوان نے آن لائن مہم کا آغاز کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے تاریخی لوگو (امتیازی نشان) کو فوری بحال کیا جائے۔
اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کی 14؍ جون 2021ء کی رپورٹ کے مطابق شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے پانچ دن قبل ایک تجویز پیش کی کہ جامعہ عثمانیہ کے تاریخی لوگو کو بحال کیا جانا چاہیے تو اس تجویز 20 ہزار لوگوں نے اتفاق کیا اور ٹویٹر کے بشمول کئی ایک پلیٹ فارمس پر اس کے لیے آواز اٹھائی گئی۔
اس دوران ریاست تلنگانہ کے وزیر داخلہ محمود علی نے باضابطہ وضاحت کی کہ میڈیا خاص کر سوشیل میڈیا کے ذریعہ جس طرح کا تاثر دیا جارہا کہ جامعہ عثمانیہ کے تاریخی لوگو کو ٹی آر ایس کے دور حکومت میں تبدیل کیا گیا ہے وہ سراسر غلط ہے۔ وزیر داخلہ نے پروفیسر ایس اے شکور کی پیش کردہ رپورٹ کا باضابطہ حوالہ دیا اور اپنی وضاحت پیش کی اور کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کا لوگو کانگریس کے دور حکومت میں 1960ء سے پہلے ہی تبدیل کردیا گیا ہے۔مزید تفصیلات جاننے خود پروفیسر صاحب سے پوچھا گیا۔
پروفیسر ایس اے شکور کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کا لوگو حال میں تبدیل کیا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جامعہ عثمانیہ کے لوگو میں تبدیلی کا عمل پولیس ایکشن کے بعد سے ہی شروع ہوا۔ پہلے تو جامعہ عثمانیہ کے ذریعہ تعلیم کو اردو میڈیم سے بدل کر انگریزی میڈیم کردیا گیا۔ اس کے بعد پروفیسر ایس اے شکور کے مطابق جامعہ عثمانیہ کے امتیازی نشان سے ساتویں نظام نواب میر عثمان علی خاں کے تاج کو ہٹادیا گیا۔
اس کے بعد لوگو سے حدیث مبارک کو نکالا گیا۔ اس کی جگہ سنسکرت کو شامل کیا گیا۔ پھر 1956ء میں لوگو کی اردو تحریر کو تلگو زبان سے بدل دیا گیا۔قارئین یہ تو عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو کے متعلق بات ہوگئی۔ حالانکہ لوگو 1960ء سے پہلے تبدیل کیا گیا۔ چند نوجوان سال 2021ء میں اس مسئلہ کو موضوع بحث بنانا چاہتے ہیں حالانکہ گذشتہ 60 برسوں کے دوران عثمانیہ یونیورسٹی کے بنیادی نقوش ہی تبدیل ہوگئے۔
وہ قوم جو کل تک یونیورسٹی میں بطور استاد خدمات انجام دیتی تھی آج اس قوم کے لوگوں کی اکثریت یونیورسٹی میں چائے پلانے اور صاف صفائی کے کام کرتے نظر آتے ہیں۔پروفیسر سلیمان صدیقی صاحب عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ انہوں نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 1965ء تک بھی عثمانیہ یونیورسٹی کے ٹیچرس میں مسلمانوں کا تناسب 50 فیصد ہوتا تھا اور گذشتہ 60 برسوں کے دوران ٹیچرس کے زمرے میں مسلمانوں کی تعداد گھٹ کر دو فیصد رہ گئی ہے۔
پروفیسر صدیقی صاحب نے بتلایا کہ آج مسلمان کالج آف آرٹس اینڈ سوشیل سائنسس میں بھی اردو، عربی، فارسی اور اسلامک اسٹڈیز کے ڈپارٹمنٹس تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ اور آرٹس کالج کے 21 ڈپارٹمنٹس میں گنتی کے دس مسلمان بھی پڑھنے کے لیے نہیں آرہے ہیں۔ اسکول آف سائنسس کے حوالے سے صدیقی صاحب کہتے ہیں 14 ڈپارٹمنٹس میں مسلمانوں کی تعداد چار بھی نہیں ملے گی۔
پروفیسر سلیمان صدیقی سے جب پوچھا گیا کہ آخر مسلمانوں کی تعلیمی میدان میں پسماندگی کا سبب کیا ہے تو انہوں نے بڑا ہی دلچسپ نکتہ بیان کیا کہ جب تک مسلمانوں کے اپنے اقلیتی ادارے قائم نہیں تھے تب تک مسلمان عثمانیہ یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے سے استفادہ کرتے تھے لیکن جب سے مسلمانوں کے اقلیتی تعلیمی ادارے شروع ہوئے مسلمان اس تاریخی یونیورسٹی سے غائب ہوتے گئے۔
اب اقلیتی تعلیمی اداروں کے اس منفی پہلو کے متعلق پروفیسر صدیقی نے کہا کہ مسلم بچے مسلم اکثریتی کالجس میں پڑھ کر مین اسٹریم یونیورسٹی کے سسٹم سے جڑ نہیں پا رہے ہیں اور پھر آگے چل کر کسی بیرونی ملک کا رخ کر رہے ہیں اور اندرون ملک کی جاب مارکٹ اور ایجوکیشن فیلڈ میں اجنبی بننے لگے۔ ان کے مطابق ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز، عثمانیہ یونیورسٹی کے انٹرنس میں بھی مسلم طلبہ رفتہ رفتہ بچھڑتے گئے اور باقی دیگر ڈپارٹمنٹس کی صورتحال بھی کچھ بہتر نہیں ہے۔
آپ نے مسائل کی نشاندہی بھی کی۔ اگر مسلم کمیونٹی کو آگے بڑھنے کے لیے کچھ تجاویز بھی دیں تو بہتر ہوگا۔ اس سوال پر پروفیسر صدیقی نے کہا کہ مسلمانوں کو مسابقت کے میدان میں آگے آنا ہوگا۔ میڈیسن اور انجینئرنگ کے علاوہ بھی تعلیمی ترجیحات طئے کرنے ہوں گے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر نے 3 اہم امور کی نشاندہی بھی کہ مسلم کمیونٹی کو ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خاص کر Pandemic کے زمانے میں تعلیم کے لیے (1) Self Learning کو جاری رکھیں۔ (2) کمیونکیشن اسکلس اور نالج پر دھیان دیں، (3) اپنے اندر ایک سے زائد مہارتیں پیدا کریں۔ ایک سے زائد مضامین میں عبور حاصل کریں تاکہ تعلیم کی تکمیل کے بعد جاب مارکٹ میں آسانی سے ملازمت حاصل کرسکیں۔
پروفیسر سلیمان صدیقی صاحب کا کہنا ہے کہ مسلمان اپنی تعلیمی ترجیحات کو از سر نو مرتب کریں او راس بات کو یقینی بنائیں۔ تعلیم سے فراغت کے بعد طلباء مارکٹ کے چیالنجس کا سامنا کرسکیں اور اپنے پیروں پر خود کھڑے ہوسکیں۔
عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو کی بحالی پر جس قدر توجہ مرکوز کی جارہی ہے اس حوالے سے ڈاکٹر اختر علی اسسٹنٹ پروفیسر نے اچھی بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو کی بحالی کا موضوع بہت زیادہ سیاسی نوعیت کا ہوگیا ہے۔ ایسے میں مسلم دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم ٹیالنٹ کی صحیح رہبری کا فریضہ انجام دیں۔ سیاسی قیادت، سیاسی طور پر جامعہ عثمانیہ کے لوگو کی بحالی کے لیے کام کرے گی اور مسلم نوجوان عثمانیہ یونیوسٹی میں دستیاب حصول تعلیم کے مواقع سے زیادہ بہتر استفادہ کریں۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر اختر علی نے کہا کہ جس طریقے سے 5 پانچ دنوں کے اندر 20ہزار سے زائد لوگوں نے جامعہ عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو کے لیے تحریک چلائی کم سے کم اتنے ہی لوگ مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیداری کے لیے کام کریں تو مسلم نوجوان جامعہ عثمانیہ کے مختلف کورسز میں داخلہ لے کر کم سے کم تعلیم تو حاصل کرسکتے ہیں۔
اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اختر علی کے مطابق ان کے ڈپارٹمنٹ آف جیاگرافی میں ایم ایس سی جیاگرافی کا پوسٹ گریجویٹ کورس بھی ہے جس میں 40 طلبہ داخلہ لیتے ہیں تو مسلمان طلبہ کی تعداد 2بھی نہیں رہتی ہے۔
جیاگرافی میں پوسٹ گریجویشن کی اہمیت کیا ہے؟
اس سوال کے جواب میں اختر علی نے بتلایا کہ ان کے جیاگرافی کے کورس میں 6 ایسے طلباء نے بھی داخلہ لیا ہے جنہوں نے گریجویشن میں انجینئرنگ کا کورس کر رکھا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انجینئرنگ کے طلبہ کو بھی اب ایم ایس سی جیاگرافی کی اہمیت اور اس کی تعلیم کے بعد روزگار کے مواقع سمجھ میں آگئے ہیں۔
قارئین عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو کے لیے جن نوجوانوں نے مہم چھیڑی ہے خود ان میں سے کتنے طلباء جامعہ عثمانیہ کے فارغ یا کسی بھی یونیورسٹی کے فارغ ہیں نہیں معلوم مگر ایک حقیقت ہے کہ آن لائن بحث مباحثہ ہو یا لڑائی جھگڑا اب تو سوشیل میڈیا کے سپاہیوں کی ایک بڑی فوج تیار کھڑی ہے۔ کاش کہ سوشیل میڈیا کے ان سپاہیوں کو بھی مسلمانوں کی صحیح ترجیحات سے واقف کروا دیا جائے تاکہ اس بہانہ سے سوشیل میڈیا بھی مسلم سماج میں مثبت تبدیلی کا سبب بن سکے۔
آج سے پانچ سال پہلے میں نے باضابطہ طور پر ریسرچ کر کے عثمانیہ یونیورسٹی میں برسرکار مسلم ٹیچرس کی تعداد RTI ایکٹ 2005ء کے تحت منگوائی تھی۔ جون 2016 میں یونیورسٹی کے انفارمیشن آفیسر نے بتلایا تھا کہ اس وقت عثمانیہ یونیورسٹی میں 585 ٹیچرس کام کر رہے ہیں جن میں مسلمانوں کی تعداد صرف 37 ہے۔ (نوٹ پچھلے پانچ برسوں کے دوران یہ صورت حال مزید بدل گئی ہے) اس طرح سے پتہ چلتا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں مسلم ٹیچرس کا فیصد 6 سے بھی گھٹ گیا؟
ایسے ہی عثمانیہ یونیورسٹی کے ڈاکٹورل Ph.D. پروگراموں میں داخلہ لینے والے مسلم طلباء کی تعداد کے تجزیہ سے معلوم ہوا کہ 16 ایسے ڈپارٹمنٹس ہیں جہاں مسلم طلباء کی صفر تعداد نے داخلہ لیا؟ حالانکہ یہ داخلہ پانچ برسوں کے طویل وقفہ کے بعد ہوئے تھے۔
قارئین مسلم قوم کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہم یہ بھی نہیں طئے کر پا رہے ہیں کہ ہماری Priority کیا ہونی چاہیے۔ اور میں اپنے محدود وسائل کہاں پر استعمال کرنے اور کیے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو خاص کر اپنی تعلیمی ترجیحات صحیح خطوط پر استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کی ذہنی قلاشی سے محفوظ ان رکھے۔



