راج دیپ سردیسائی
آج کل قدرتی حسن سے مالامال لکشادیپ کے جزیرے بہت زیادہ خبروں میں ہیں۔ یہ جزیرے آخری مرتبہ قومی سرخیوں میں اس وقت آئے تھے جب 1987ء میں اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے نئے سال کے موقع پر لکشادیپ کا دورہ کیا تھا۔ وہ ایسا وقت تھا جب خانگی نیوز ٹی وی چیانلس کا وجود تک نہیں تھا۔ اس کے باوجود اخبارات میں راجیو گاندھی کے دورہ پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا اور یہ سوال کیا گیا کہ آیا خاندان کی تعطیلات گزارنے سے متعلق نجی دورہ پر عوامی رقم خرچ کی جارہی ہے،
تاہم اس مرتبہ لکشا دیپ دوررس نتائج کے حامل وجوہات کے باعث قومی سطح پر ایک بہت بڑی کہانی بنا ہوا ہے۔ سب سے بڑی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت نے ان جزیروں کیلئے جو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا ہے وہ من مانے فیصلے کرتے ہوئے یکطرفہ قواعد نافذ کررہا ہے۔ نتیجہ میں جو مقامی آبادی ہے، اس میں یہ خوف و خدشہ پیدا ہورہا ہے کہ مرکز کا بھیجا ہوا ایڈمنسٹریٹر اس پرامن و خوبصورت جزیروں کے جھرمٹ میں زعفرانی ایجنڈہ نافذ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
ویسے بھی لکشادیپ میں ایڈمنسٹریٹر کا تقرر عام سی بات ہے، لیکن اس مرتبہ مودی حکومت نے ماضی کی روایات سے انحراف کرتے ہوئے کسی بیوروکریٹ یا اعلیٰ عہدیدار کو اس عہدہ پر فائز کرنے کے بجائے گجرات کے ایک سابق وزیر اور وزیراعظم نریندر مودی و وزیر داخلہ امیت شاہ کے ایک بااعتماد شخص پرافل کھوڈا پٹیل کو ایڈمنسٹریٹر بناکر بھیجا ہے۔ جس کے ساتھ ہی ایک سیاسی موڑ آگیا ہے اور مقامی عوام نے نئے ایڈمنسٹریٹر کی شدت سے مخالفت شروع کردی ہے۔
جغرافیائی، تجارتی اور دفاعی لحاظ سے لکشادیپ کے جزیرے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور وہاں کی جو آبادی ہے، ان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ نئے ایڈمنسٹریٹر کے تقرر کے ساتھ ہی مقامی عوام میں بے چینی پھیل گئی ہے اور ان لوگوں کا ماننا ہے کہ تہذیبی نوآبادیاتی عمل شروع کیا جارہا ہے یعنی مقامی تہذیب کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
موجودہ حالات میں لکشادیپ کیلئے ایک سیاسی شخصیت کو ایڈمنسٹریٹر کے عہدہ پر فائز کیا جانا کیا یہ سوال پیدا نہیں کرتا کہ مرکزی حکومت ایک خاص ایجنڈہ کے تحت ملک کے ہر حصے میں اپنا سیاسی اور نظریاتی نقطہ نظر نافذ کرنے کی خواہاں ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔ کیا یہ ایک بگ باس جو مرکز میں بیٹھا ہے، اس کے اور ملک بھر کی ایسی ریاستیں جہاں بگ باس کی حکومت نہیں ہے، ان کے درمیان ان کی قیادت سے ٹکراؤ ہے۔
حد تو یہ ہے کہ حالیہ عرصہ کے دوران ہم نے دیکھا کہ کئی ریاستی وزرائے فینانس نے جی ایس ٹی (گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس) کے تحت وسائل کی تقسیم کے مرکزی حکومت کے طریقہ کار کی شدت سے مخالفت کی۔ اسی طرح مرکزی حکومت پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اور اپوزیشن سے وسیع تر صلاح و مشورہ کی بناء زرعی قوانین کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ آکسیجن کی سربراہی کے معاملے میں بھی بی جے پی زیراقتدار اور غیربی جے پی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے اپوزیشن جماعتیں الزام عائد کررہے ہیں۔
اسی طرح حکومت کی ویکسین پالیسی کو لے کر کئی ریاستی حکومتوں نے اپنے اپنے تحفظات ذہنی کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایسے واقعات ہیں جس کے نتیجہ میں مودی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے درمیان تعلقات خراب ہورہے ہیں اور خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مرکزی ایجنسیوں کے بارے میں غیربی جے پی ریاستی حکومتوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال مغربی بنگال ہے جہاں مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان بہت زیادہ تناؤ کی کیفیت دیکھی گئی۔
یہاں تک کہ وہاں دستوری بحران پیدا ہونے کے آثار دکھائی دے رہے تھے اور پھر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں جب سے ممتا بنرجی نے کامیابی حاصل کی ہے، اب مقابلہ ریاستی قیادت اور مرکزی قیادت کے درمیان شروع ہوگیا ہے۔ یہ انتخابی نتائج نے مرکز اور اس کی قیادت کو پہلے ہی مجروح و زخمی کردیا ہے۔ ممتا بنرجی نے انتخابات میں جس طرح بی جے پی کو زمین چٹائی ہے، اس سے پہلے جو زہریلی مہم چلائی گئی، اس سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے ممتا بنرجی کو معاف نہیں کیا تو پھر یہ عداوت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ جائے گی اور نتیجہ دستوری بحران کی شکل میں برآمد ہوگا ۔
اس کی تازہ ترین مثال مغربی بنگال کے چیف سیکریٹری کو وزارت داخلہ کی جانب سے اچانک دہلی طلب کرنا ہے۔ جواب میں چیف منسٹر ممتا بنرجی نے مرکزی وزارت داخلہ کے حکم کو مسترد کردیا، نہ صرف مسترد کیا بلکہ چیف سیکریٹری نے دہلی جانے کے بجائے اپنے عہدہ سے استعفیٰ بھی دے دیا اور پھر ممتا بنرجی نے انہیں حکومت کا مشیر اعلیٰ بنادیا یعنی مرکز اور ریاست ہر معاملے میں ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہاں تک کہ کورونا وائرس کی وباء اور سیلاب پر بھی ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں، حالانکہ آفت سماوی اور وباؤں پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے، لیکن بنگال کے اعلیٰ عہدیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے مرکز کی دھمکی سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مرکز انتخابی کارروائی کررہا ہے۔ مرکز کا یہ الزام ہے کہ چیف منسٹر اور ان کے عہدیداروں نے وزیراعظم کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس میں 15 منٹ تک انتظار کروایا۔ بالفرض چیف منسٹر عدم تعاون کی مرتکب پائی جاتی ہیں تب بھی یہ دفتر وزیراعظم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ چیف منسٹر تک رسائی حاصل کرے۔
اگر بنرجی یہ چاہتی تھی کہ وزیراعظم کے ساتھ ان کی دوبدو ملاقات ہو، تو وہ ملاقات کا انتظام کیا جاسکتا تھا۔ بدقسمتی سے انا کا مظاہرہ کیا گیا اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی راہ ہموار نہیں کی گئی۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی خود گجرات کے تین مرتبہ چیف منسٹر رہ چکے اور کانگریس کی زیرقیادت مرکزی حکومت نے انہیں بار بار نشانہ بنایا اور سال 2013ء میں خود مودی نے قومی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
وہ اجلاس اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل پر بحیثیت کیلئے بلایا تھا۔ مودی اس وقت بی جے پی کے عہدہ وزارت عظمی کے دعویدار تھے۔ مودی کے حامیوں نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ اجلاس ان کے سیاسی عروج کو سبوتاج کرنے کیلئے بلایا گیا۔ ایک اور موقع پر مودی نے کھلے طور پر پلاننگ کمیشن کے خلاف آواز اٹھائی اور اس پر ریاستوں کے ساتھ نمٹنے میں وفاقی ساخت کو ملحوظ نہ رکھنے کا الزام عائد کیا۔
موجودہ حالات میں ایسا ہی لگ رہا ہے کہ وہ صدارتی طرز حکومت کی طرح رویہ اختیار کررہے ہیں۔ قومی قیادت اس طرز حکومت میں کسی قسم کی ناراضگی کو برداشت نہیں کرتی۔ خاص طور پر اقتدار کی ساخت کے متبادل کسی طاقت کو برداشت نہیں کرتی۔ جہاں تک لکشا دیپ کا معاملہ ہے، لکشا دیپ کے نئے ایڈمنسٹریٹر کا کہنا ہے کہ وہ ان جزیروں میں سیاحتی امکانات کو بڑھانے کیلئے شراب پر عائد پابندی اٹھانا چاہتے ہیں۔ چلئے ! بہت جلد اچھا آئیڈیا ہے، لیکن یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ گجرات کے یہ سابق وزیر کیا اپنی آبائی ریاست میں اسی طرح کی تجویز پر عمل آوری کرواسکتے ہیں؟



