سیاسی و مذہبی مضامین
کیا رمضان المبارک کا حق ادا ہوا؟ بلیک فنگس احتیاطی تدابیر,ڈاکٹر سراج الرحمن فاروقی
ڈاکٹر محمد سراج الرحمن فاروقی
عالم اسلام کو ہر وقت کچھ نہ کچھ چیلنجس کا سامنا ہوتا رہا ہے، لیکن اس سال 1442ھ کی ابتداء ہی سے مشکل ترین حالات سے اُمت مسلمہ دوچار ہوئی ہے۔ چاہے وہ افغانستان کے پیچیدہ حالات ہوں یا ایران پر یہودی سازشیں ہوں، ترکی پر الزام تراشی اور تحدیدات ، اب ارض فلسطین پر نسل کشی بلکہ اس مبارک انبیاء علیہ السلام کے مسکن قبلہ اول کو صف ہستی سے مٹانے کی ناپاک سازشیں جیسے سنگین حالات کا سامنا ہے لیکن عالم اسلام کو ان حالات سے مضطرب یا نااُمید نہیں ہونا چاہئے کیونکہ تاریخ اسلام گواہ ہے ۔
یہ حالات کے نشیب و فراز سے اُمت مسلمہ کئی مرتبہ گزر چکی ہے ، یہ حالات ہمارے لئے نئی بات یا عجوبہ نہیں ہے بلکہ یہ جان لیں حق و باطل کی لڑائی و معرکہ آرائی حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور یہ مقابلہ تاقیامت چلتا رہے گا۔ حق غالب ہوگا۔ دنیا کے ہر کچے پکے مکان میں اسلام داخل ہوکر رہے گا۔ خشکی و تری میں اسلام کا پرچم لہرائے گا۔ یہاں تک قیامت آجائے گی۔
ہمیں کبھی پست ہمت نہیں ہونا ہے، ان نہتے بے یارومددگار فلسطینیوں سے ہمیں سبق سیکھنا ہے جنہوں نے ایک سوپر پاور، دنیا کو جدید ٹیکنالوجی اور اسلحہ سے لیس کرنے والے ’’اسرائیل ‘‘کے دانت کھٹے کردیئے۔ ان کو جانی و مالی نقصان پہنچانے میں کامیاب حکمت عملی اپناکر ان کا جینا حرام کردیا۔ سارے اسرائیل میں ایمرجنسی کا اعلان ہوا، سائرن بجانے پڑے۔
ایسا غاصب اسرائیل کے قیام کے 70 سال میں پہلی مرتبہ ہوا۔ اگرچہ اس دوران فلسطین میں زبردست تباہ کاریاں دیکھی گئی، جانی نقصان ہوا ،فلسطینیوں کو شہر بدر ہونا پڑا۔ اپنے عزیز رشتہ داروں کو کھونا پڑا۔ معصوم بچے 50 سے زیادہ شہید ہوگئے۔ جملہ شہداء کی تعداد 250 سے زیادہ ہے، پھر بھی فلسطین کے مجاہدین سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کی حرارت ایمانی کو عالم اسلام سلام کرتا ہے۔ حالات کتنے بھی ناگہانی ہوں، حق کی فتح و سچائی کی کامیابی سے سارے عالم کی فضاء گونج اُٹھے گی۔
اس حق کی تحریک میں فلسطینی نوجوانوں کو ہم سلام کرتے ہیں جو ملبوں میں پھنسے ہونے کے باوجود جب راحت کاری عملہ انہیں ملبے سے باہر نکالتا ہے تو فتح کا نشان ‘v’ بتاتے ہوئے ہماری جذبہ ایمانی کو پختہ اور آنکھوں کو پرنم کرتے ہوئے حق کیلئے مقابلہ کرنے والوں کے حوصلوں کو بلند کررہے ہیں۔ خود اسرائیلی اخبار، ’’حماس‘‘، ’’القدس‘‘ کی قسام کے حوصلوں کو بلند اور ان کے پلڑے کو بھاری بتا رہا ہے۔
اسرائیل کے گھمنڈ کو ناکوں چنے چبانے پر اس وقت مجبور ہونا پڑا جب ان کا دفاعی نظام آئرن ڈوم (Iron Dome) اپنی کارکردگی میں ناکام ہوگیا۔ معاشی طور پر کمزور ہوا۔ 70 ہزار روپئے کے میزائل روکنے 2 کروڑ کا Interceptor تقریباً 2 ہزار میزائل روکنے ڈھائی ہزار سے زیادہ Interceptors ۔ اب ان مجاہدین ساری عالمی طاقت کے سامنے خاص کر 50سے زیادہ عرب ممالک کیلئے مثال ہے جو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور بیان بازی تک محدود ہیں۔
ہندوستان نے تو اپنی ہمدردی جتائی ہے لیکن دیکھنا آگے اور کیا کیا ہوتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جانیں تلف ہوئی ہیں، ان میں ایک تہائی تعداد معصوم بچوں کی ہیں۔ ساری دنیا خاموش ہے۔
کیا ہم نے رمضان المبارک کا حق ادا کیا ؟
رمضان المبارک کا مہینہ جاتا ہوا ہمیں اپنا خود جائزہ (Self Assesment) یعنی اپنا محاسبہ (Accountability)کا پیغام دے رہا ہے کہ اس نے اُمت مسلمہ تیرے اندر مکمل ایک ماہ تک ساتھ رہنے کے بعد یعنی روزے، نماز، تلاوت قرآن، تراویح ، تسبیح کرتا ہوا رہا تھا ، لیکن میرے (یعنی رمضان المبارک) کی رخصتی کے بعد کیا تیری نمازیں پابندی سے ہورہی ہیں، کیا تو تلاوت کررہا ہے۔
بلیک فنگس کی وجہ سے کورونا علاج میں مزید پیچیدگیاں !
کووڈ۔ 19 سے متاثر مریض بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد ایک غیرعام بیماری (Rare Disease) سے متاثر ہورہے ہیں جس کو سیاہ فنگس یا (Mucor Mycosis) کہا جاتا ہے جس کی اہم وجہ ناپاکی، صفائی پر عدم توجہ کے علاوہ قوت مدافعت میں کمی ہے چونکہ کووڈ مریضوں کو دوران علاج Steroids دیئے جاتے ہیں اس میں مریض کی قوت مدافعت حد درجہ کم ہوجاتی ہے تب یہ فنگس اپنا اثر دکھاتا ہے۔ ابتداء میں یہ مرض ہونٹوں تارق مسوڑھوں پر کالا دھبہ، یا ناک کی نتھنوں ، کالے ہونا، آنکھ میں خراش، آنکھ کے اطراف کالاپن سے شروع ہوتا ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہ دماغ میں داخل ہوکر شدت کا سردرد ہوتا ہے۔ سرجری کے ذریعہ ان متاثرہ اعضاء کو نکال دیا جاتا ہے۔ ابتدائی علامات میں مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ادویات AmphoterocinB ، Fluconazole وغیرہ کے استعمال سے ڈینٹل سرجن ENT Surgeon،Physician ، Neurologist اس کا علاج کرتے ہیں۔ اب دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی یہ مرض تیزی سے عام ہورہا ہے۔ اگر تاخیر ہوجاتی ہے تو یہ دماغ میں داخل ہوکر جان لیوا ثابت ہوتا ہے لہذا Steroids کا حد سے زیادہ استعمال اور آلات آکسیجن کا غیرصفائی سے استعمال کرنا بھی اس مرض کے پھیلنے کی اہم وجہ ہے۔
صفائی، پاکیزگی، صاف اُبال کر پانی، ملٹی وٹامن، مشروبات، تازے پھل، ترکاری، روزانہ ورزش کے ذریعہ اس مرض کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ نت نئی وباؤں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ اس کیلئے ساری اُمت کو انفرادی و اجتماعی توبہ و استغفار کرنا ہے۔ وہی ہمارا محافظِ حقیقی ہے۔ بفضل تعالیٰ بہ طفیل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یقینی طور پر نجات ملے گی۔



