جھارکھنڈ میں فروغ ادب اطفال۔ وقت کی ضرورت،
ازقلم :مجیب الرحمٰن جھارکھنڈ،
اس وقت جبکہ قلمکاروں کی ایک بستی آباد ہے، آئے دن کوئی نہ کوئی کسی ضلع سے نیا قلمکار اپنے فن کے ساتھ وجود میں آرہا ہے طرح طرح کے مضامین منظر عام پر آرہے ہیں، ہر شعبہ میں لکھنے والے لوگ موجود ہیں اور کثیر تعدا میں ہیں، خوشی کی بات ہے کہ ہمارا جھارکھنڈ بھی اس سلسلہ میں پیچھے نہیں ہے، اس چھوٹے سے گلستان میں طرح طرح کے پھول کھل رہے ہیں، اور اپنی خوشبو بکھیر رہے ہیں،
لیکن ایک شعبہ ہے جو تقریباً جھارکھنڈ میں خالی ہے اور اس جانب توجہ بہت کم لوگوں کی ہے، اور وہ شعبہ ادب اطفال کا ہے،
ادب عالیہ پر ہر کوئی خامہ فرسائی کررہا ہے اور داد و تحسین حاصل کررہا ہے، ہر ضلع میں تقریباً ادب اطفال کا شعبہ بڑی ترقی کرتا دکھائی دے رہا ہے جھارکھنڈ ایسا ضلع ہے جو اس سلسلہ میں کافی پیچھے ہے، میری معلومات کے مطابق جھارکھنڈ میں ادب اطفال کا شعبہ ہی نہیں اور اگر کہیں ہے بھی تو اس کی بساط لپٹی جا چکی ہے،
یہ حقیقت بات ہے کہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس قوم کے بچے ہوتے ہیں، موجود نسل کا وارث آنی والی نسل ہے اگر آنی والی نسل نکمہ ہوئی تو موجود نسل لاکھ ترقی کرلے اور ہر میدان میں کرلے لیکن اس کی ساری ترقی خاک میں مل جائے گی، بچے پودے کے مانند ہوتے ہیں اگر پودا ہونے کی حالت میں وہ ٹیڑھا ہے تو وہ پودا جب پیڑ کی شکل اختیار کریگا تو وہ ٹیڑھا ہی ہوگا اب اس درخت کو سیدھا نہیں کیا جا سکتا، یہی حال ہماری قوم کے بچوں کا ہے اگر انہیں صحیح رخ پر رکھا گیا تو ازلی کامیابی ہماری مقدر ہوگی ، کسی بھی قوم کا یا یوں کہ لیں کہ کسی بھی انسان کا سب سے بڑا ہتھیار تعلیم و تربیت ہے اور یہ ایسا ہتھیار ہے کہ جس کو بڑے سے بڑا ہتھیار بھی شکست نہیں دے سکتا،
رہی بات کہ اس ہتھیار کو حاصل کیسے کیا جاسکتا ہے تو یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے کہ اس مصروف ترین دنیا میں ایک عمر ہے اور اسی عمر میں اسے حاصل کیا جا سکتا ہے، کسی بھی قوم جب تعلیم کو فروغ دیتی ہے اور علمی فضا میں سانس لیتی ہے تو پھر وہ قوم نا قابل شکست ہوتی ہے، لہذا سب کچھ سے پہلے ہمیں اپنی قوم کے بچوں کو تیار کرنا ہوگا،
موجودہ دور میں جبکہ ہر طرف ارتداد کی لہریں چل پڑی ہیں، اور ایک بڑی تعداد اس کی زد میں آچکی ہے ایسے میں سب سے پہلے ہمیں اپنی قوم کے بچوں کو سنبھالنا چاہیے اور اس کی فکر کرنی چاہیے اس سلسلہ میں ہمیں سب سے پہلے ادب اطفال کی ایک تنظیم بنانی ہوگی جسمیں درج ذیل کام کرنے کی ضرورت ہے،
پہلا۔۔۔۔۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کی فکر اور پھر اس پر عمل درآمد، ۔۔۔ اگر کسی گھر کا بچہ معاشیات کی زد میں ہے تو تعلیم بھر اس کا انتظام و انصرام،



